February 22, 2024

قرآن کریم > الفاتحة >Surah 1 Ayat 2

الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ

 جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے 

                الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ: رحمت کے مادہ سے یہ اللہ کے دو اسماء ہیں۔  ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ رَحْمٰن، فَعْلَان کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے، چنانچہ اس کے اندر مبالغہ کی کیفیت ہے ، یعنی انتہائی رحم کرنے والا ۔  اس لیے کہ عرب جو اِس وزن پر کوئی لفظ لاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہایت شدت ہے ۔  مثلاً غَضْبان “غصہ میں لال بھبھوکا شخص”۔  سورۃ الاعراف میں حضرت موسٰی  کے لیے الفاظ آئے ہیں: غَضْبَانَ اَسِفًا "غصہ اور رنج میں بھرا ہوا"۔  عرب کہے گا: اَنَا عَطْشَانُ: میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں۔  اَنَا جَوْعَانُ: میں بھوک سے مرا جا رہا ہوں۔  تو رحمن وہ ہستی ہے جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند ہے۔

                اور “رَحِیْم” فعیل کے وزن پر صفت ِمشبہ ّہے۔   جب کوئی صفت کسی کی ذات میں مستقل اور دائم ہو جائے تو وہ فعیل کے وزن پر آتی ہے ۔  الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ دونوں صفات اکٹھی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے مانند بھی ہے اور اس کی رحمت میں دوام بھی ہے، وہ ایک دریا کی طرح مستقل رواں دواں ہے۔  اللہ تعالیٰ کی رحمت کی یہ دونوں شانیں بیک وقت موجود ہیں۔  ہم اس کا کچھ اندازہ ایک مثال سے کر سکتے ہیں۔  فرض کیجیے کہیں کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہو اور وہاں آپ دیکھیں کہ کوئی خاتون بے چاری مر گئی ہے اور اس کا دودھ پیتا بچہ اس کی چھاتی کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔  یہ بھی پتا نہیں ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آئی ہے، کوئی اس کے ساتھ نہیں ہے۔  اس کیفیت کو دیکھ کر ہر شخص کا دل پسیج جائے گا اور ہر وہ شخص جس کی طبیعت کے اندر نیکی کا کچھ مادہ ہے، چاہے گا کہ اس لا وارث بچے کی کفالت اور اس کی پرورش کی ذمہ داری ّمیں َاٹھا لوں۔  لیکن ہو سکتا ہے کہ جذبات کے جوش میں آپ یہ کام تو کر جائیں لیکن کچھ دنوں کے بعد آپ کو پچھتاوا لاحق ہو جائے کہ میں خواہ مخواہ یہ ذمہ داری لے بیٹھا اور میں نے ایک بوجھ اپنے اوپر ناحق طاری کر لیا۔  چنانچہ ہمارے اندر رحم کا جو جذبہ ابھرتا ہے وہ جلد ہی ختم ہو جاتا ہے، وہ مستقل اور دائم نہیں ہے، جبکہ اللہ کی رحمت میں جوش بھی ہے اور دوام بھی ہے، دونوں چیزیں بیک وقت موجود ہیں۔ 

UP
X
<>