April 24, 2024

قرآن کریم > يونس >surah 10 ayat 3

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الأَمْرَ مَا مِن شَفِيعٍ إِلاَّ مِن بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ 

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار اﷲ ہے جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اُس نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا کہ وہ ہر چیز کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی اُس کی اجازت کے بغیر (اُس کے سامنے) کسی کی سفارش کرنے والا نہیں ۔ وہی اﷲ ہے تمہارا پروردگار ! لہٰذا اُس کی عبادت کرو۔ کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دیتے ؟

 آیت ۳:  اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ:  «یقینا تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوںاور زمین کی تخلیق فرمائی چھ دنوں میں»

             ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ:  «پھر وہ عرش پر متمکن ہو گیا، (اور) وہ تدبیر کرتا ہے ہر معاملہ کی۔»

            اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور منصوبہ بندی کے مطابق پوری کائنات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی شہره آفاق تصنیف «حجۃ اللہ البالغہ» کے باب ِاول میں اللہ تعالیٰ کے تین افعال کے بارے میں بڑی تفصیل سے بحث کی ہے: (۱) ابداع (creation ex nehilo) یعنی کسی چیز کو عدم محض سے وجود بخشنا، (۲) خلق، یعنی کسی چیز سے کوئی دوسری چیز بنانا، اور (۳) تدبیر، یعنی اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق کائناتی نظام کی منصوبہ بندی (planning) فرمانا۔

             مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلاَّ مِنْ بَعْدِ اِذْنِہ:  «نہیں ہے کوئی بھی شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد۔»

            کوئی اُس کا اذن حاصل کیے بغیر اُس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے آیت الکرسی (سورۃ البقرۃ) میں بھی شفاعت کے بارے میں اسی نوعیت کا استثناء آچکا ہے۔

             ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ:  «وہ ہے اللہ تمہارا رب، پس تم اسی کی بندگی کرو۔ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے!» 

UP
X
<>