September 29, 2020

قرآن کریم > يوسف

يوسف

بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ

سُورۃ یُوسُف

تمہیدی کلمات

            چودہ مکی سورتوں (سوره یونس تا سورۃ المؤمنون) پر مشتمل اس طویل سلسلے میں تین تین سورتوں کے جو ذیلی گروپس ہیں، سوره یوسف ان میں سے پہلے ذیلی گروپ کا حصہ ہے، لیکن اس سورت کو اپنے مضمون اور خاص انداز کی بنا پر پہلی دو سورتوں (سوره یونس اور سوره ہود) کا ضمیمہ سمجھنا چاہیے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سوره یوسف پورے قرآن مجید میں اپنے انداز کی ایک بالکل منفرد سورت ہے۔ اس کی ہلکی سی مشابہت صرف سوره طہٰ کے ساتھ ہے۔ سوره طہٰ بھی سوره یوسف کی طرح صرف ایک رسول یعنی حضرت موسیٰ کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ ان دونوں سورتوں میں اس کے علاوہ ایک معنوی نسبت یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف کے زمانے میں اور آپ کی وساطت سے بنی اسرائیل مصر میں داخل ہوئے تھے، جبکہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں آپ کے ذریعے سے وہ لوگ وہاں سے نکلے تھے۔

            اس سے پہلے مکی سورتوں میں انباء الرسل کا مضمون بہت شد و مد کے ساتھ بیان ہوا ہے، جبکہ حضرت ابراہیم کا ذکر قصص ِالنبیین کے انداز میں آیا ہے، پہلے سورۃ الانعام میں اور پھر سوره ہود میں۔ مگر سوره یوسف قصص النبیین کے اعتبار سے بھی یوں منفرد ہے کہ پوری سورت ایک ہی نبی کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس پورے قصے میں انباء الرسل کے انداز کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہیں آتی۔ یعنی اس طرح کا کوئی اشارہ کہیں بھی نہیں ملتا کہ حضرت یوسف مصر میں اس قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے، یا پھر انہوں نے اپنی قوم کو دعوتِ توحید دینے کے بعد کہا ہو کہ اگر تم میری اس دعوت کو نہیں مانو گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ پوری سورت میں ہمیں ان کی طرف سے جا بجا دعوت کی مثالیں ملتی ہیں مگر وہ ایک مصلح کے انداز میں تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے نبی اور رسول کے مابین فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ رسولوں کے حالات کے ضمن میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ ایک رسول کی بعثت تعین کے ساتھ جس قوم کی طرف ہوتی تھی وہ انہیں اللہ واحد کی بندگی اور اپنی اطاعت کا حکم دیتا تھا: اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ: (نوح) « کہ تم اللہ کی بندگی کرو، اُس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو»۔ اور اگر وہ قوم اپنے رسول کی دعوت کو رد کرتی چلی جاتی تھی تو بالآخر اُس قوم پر اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہو جاتا تھا اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا تھا ---- لیکن نبی کا معاملہ اولیاء اللہ کی طرح ہوتا تھا۔ وہ اپنے معاشرے میں توحید کی دعوت دیتا، کفر و شرک اور بدعات سے اجتناب کی تلقین کرتا اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتا۔ بنی اسرائیل میں انبیاء کرام تسلسل کے ساتھ آتے رہے ہیں، لیکن رسول معدودے چند تھے۔اُمت مسلمہ میں بڑے بڑے اولیاء کرام پیدا ہوئے ہیں اور انہوں نے عظیم الشان دعوتی اور تجدیدی خدمات انجام دی ہیں، لیکن وحی کا دروازہ انبیاء کرام کے بعد بند ہو چکا ہے۔

            اس سورت کے نزول اور اس میں حضرت یوسف کے حالات کی اس قدر تفصیل بیان کرنے کا بنیادی سبب تو یہ ہے کہ محمد ٌرسول اللہ کے دعوائے نبوت کی خبریں جب یہودِ مدینہ تک پہنچیں تو انہوں نے تورات کی معلومات کی بنیاد پر شرارتاً مشرکین مکہ کو مختلف سوالات بھیجنے شروع کر دیے، جو وہ حضور سے پوچھتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں آپ یہ واقعات تو بیان کر رہے ہیں کہ مصر میں فرعون اُن پر ظلم کرتا تھا اور وہاں وہ غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے اور پھر حضرت موسی ٰ اُن کو وہاں سے نکال کر لے گئے، مگر بنی اسرائیل کے جد ِامجد حضرت ابراہیم، حضرت اسحق اور حضرت یعقوب تو فلسطین میں آباد تھے، ان کے بارے میں یہ بھی بتائیں کہ وہاں سے یہ لوگ مصر میں کیسے پہنچ گئے؟ یہ تاریخ کا ایک سوال تھا، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ پورا واقعہ اس سورت میں بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان فرما دیا، بلکہ اس قصے کو قریش کے اس طرزِ عمل پر بھی منطبق کر دیا جو وہ برادران یوسف کی مانند نبی آخرالزماں کے ساتھ روا رکھے ہوئے تھے۔

            میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ قرآن حکیم کے ساتھ میرا جو ذہنی و قلبی رشتہ اور معنوی ربط و تعلق قائم ہوا اس کا نقطہ آغاز یہی سوره یوسف بنی، جب میں نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے قلم سے اس کی تفسیر کا مطالعہ کیا۔ میں نے 1947ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ہی تھا کہ مشرقی پنجاب میں فسادات شروع ہو گئے اور مسلمانوں کا قتل عام ہونے لگا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک ہم اپنے شہر حصار میں محصور رہے۔ ہم نے اپنی حفاظت کے لیے مورچے قائم کر لیے تھے، جن میں شہر کے نوجوان اپنی باری سے ڈیوٹی دیتے۔ فارغ وقت میں، میں اور میرے بڑے بھائی اظہار احمد ایک مسجد میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے۔ اُن دنوں مولانا مودودی کے ماہنامہ ترجمان القرآن میں «تفہیم القرآن» کے سلسلے میں سوره یوسف کی تفسیر شائع ہو رہی تھی۔ میں نے بھی میٹرک میں عربی کا مضمون رکھا تھا اور بھائی جان نے بھی جب میٹرک کیا تھا تو عربی پڑھی تھی۔ چنانچہ ہم مل کر سوره یوسف کی تفسیر کا مطالعہ کرتے اور اس پر باہم مذاکرہ کرتے۔ قرآن حکیم کی تلاوت اور ترجمے کی مدد سے اس کو سمجھنے کا معاملہ تو پہلے سے ہی تھا، لیکن اس تفسیری مطالعے اور مذاکرے سے قرآن حکیم کے ساتھ ذہنی و قلبی رشتہ استوار ہوا۔

UP
X
<>