June 12, 2024

قرآن کریم > الرّعد >surah 13 ayat 2

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ

اﷲ وہ ہے جس نے ایسے ستونوں کے بغیر آسمانوں کو بلند کیا جو تمہیں نظر آسکیں ، پھر اُس نے عرش پر استوا ء فرمایا، اور سورج اور چاند کو کام پر لگادیا۔ ہر چیز ایک معین میعاد تک کیلئے رواں دواں ہے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ وہی ان نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم اس بات کا یقین کر لو کہ (ایک دن) تمہیں اپنے پروردگار سے جاملنا ہے

 آیت ۲:  اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا: «اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ہے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو»

            اس کائنات کے اندر جو بلندیاں ہیں انہیں ستونوں یا کسی طبعی سہارے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باہمی کشش کا ایک عظیم الشان نظام وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام کہکشائیں، ستارے اور سیارے اپنے اپنے مقام پر رہ کر اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔

             ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ: «پھر وہ متمکن ہوا عرش پر اور اُس نے (مسلسل) کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو۔»

             کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی: «ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت معین کے لیے۔»

            یعنی اس کائنات کی ہر چیز متحرک ہے، چل رہی ہے، یہاں پر سکون اور قیام کا کوئی تصور نہیں۔ دوسرا اہم نکتہ جو یہاں بیان ہوا وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے کی عمریا مہلت مقرر ہے۔ ہر ستارے، ہر سیارے، ہر نظامِ شمسی اور ہر کہکشاں کی مہلت زندگی مقرر و معین ہے۔

             یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَآءِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ: «وہ تدبیر فرماتا ہے اپنے امر کی اور تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔»

UP
X
<>