February 22, 2024

قرآن کریم > إبراهيم >surah 14 ayat 1

الَر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ 

  الٓرٰ ۔ (اے پیغمبر ! ) یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے ، تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیرں سے نکال کر روشنی میں لے آئو ، یعنی اُس ذات کے راستے کی طرف جس کا اِقتدار سب پر غالب ہے ، (اور ) جو ہر تعریف کا مستحق ہے 

آیت ۱:  الٓرٰ:   ا، ل، ر۔

            اس مقام پر حروفِ مقطعات کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مکی سورتوں کے اس سلسلے کے پہلے ذیلی گروپ کی تینوں سورتوں (یونس، ہود اور یوسف) کا آغاز الٓــرٰ سے ہو رہا ہے، جبکہ دوسرے ذیلی گروپ کی پہلی سورۃ (الرعد) الٓمّٓرٰ سے اور دوسری دونوں سورتیں (ابراہیم اور الحجر) پھر الٓــرٰ سے ہی شروع ہو رہی ہیں۔

             کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِـاِذْنِ رَبِّہِمْ: «(اے نبی!) یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف تا کہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اُن کے رب کے اذن سے»

            قرآن کریم میں اندھیرے کے لیے لفظ «ظُلُمات» ہمیشہ جمع اور اس کے مقابلے میں «نُـور» ہمیشہ واحد استعمال ہوا ہے۔ چونکہ کسی فرد کی ہدایت کے لیے فیصلہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے، اس لیے فرمایا کہ آپ کا انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانے کا یہ عمل اللہ کے حکم اور اس کی منظوری سے ہو گا۔

             اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ: «اُس ہستی کے راستے کی طرف جو سب پر غالب اور اپنی ذات میں خود محمود ہے۔» 

UP
X
<>