June 23, 2024

قرآن کریم > النحل >surah 16 ayat 9

وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌ وَلَوْ شَاء لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ 

اور سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری اﷲ نے لے لی ہے، اور بہت سے راستے ٹیڑھے ہیں ، اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے پر پہنچا بھی دیتا۔

 آیت ۹:  وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْہَا جَآئِرٌ:  «اور اللہ تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے اور ان میں کچھ ٹیڑھے بھی ہیں۔»

            یہ سیدھا راستہ توحید کا راستہ ہے۔ یہاں اس راستے کو «قصد السبیل» کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں اسے صراطِ مستقیم بھی کہا گیا ہے اور سوآء السبیل بھی۔ یہی ایک راستہ ہے جو انسان کو اللہ تک پہنچاتا ہے، مگر بہت سے لوگ اس راستے سے بھٹک کر ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر مڑ جاتے ہیں جو انہیں گمراہی کے گڑھوں میں گرادیتی ہیں۔

             وَلَوْ شَآءَ لَہَدٰٹکُمْ اَجْمَعِیْنَ:  «اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔»

            اللہ اگر چاہتا تو سب انسانوں کو اسی ایک سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور سمجھ بوجھ دے دیتا۔ 

UP
X
<>