September 29, 2020

قرآن کریم > الإسراء

الإسراء

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

سُورۃ بَنِی اِسْرائِیل

تمہیدی کلمات

 

            سوره بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف دونوں مل کر ایک حسین و جمیل جوڑا بناتی ہیں۔ قرآن عظیم کے وسط میں یہ دو سورتیں حکمت ِقرآنی کے دو عظیم خزانے ہیں۔  ان دونوں کے مابین کئی حوالوں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے اور کئی پہلوؤں سے ان کی آپس میں نسبت ِزوجیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔  یہ دونوں سورتیں کس کس اعتبار سے complementary حیثیت رکھتی ہیں یہ بات ان کے مطالعہ کے دوران واضح ہو جائے گی، تاہم اس سلسلے میں اہم نکات درج ذیل ہیں :

 (۱)       سوره بنی اسرائیل کا آغازاللہ کی تسبیح:  سُبْحٰنَ الَّذِیْ … سے ہوتا ہے، جبکہ سورۃ الکہف بھی اللہ کی تحمید  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ… سے شروع ہوتی ہے۔  ان دونوں کلمات کا باہمی تعلق اس حدیث سے واضح ہوتا ہے جس میں حضور نے فرمایا ہے:  «اَلتَّسْبِیْحُ نِصْفُ الْمِیْزَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَـؤُہ»    «تسبیح نصف میزان ہے اور الحَمد لِلّٰہ اسے بھر دیتا ہے»۔  یعنی سبحان اللہ کہنے سے معرفت ِخداوندی کی میزان آدھی ہو جاتی ہے اور الحَمد لِلّٰہ کہنے سے یہ میزان مکمل طور پر بھر جاتی ہے۔  گویا یہ دونوں کلمات مل کر کسی انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کے اثاثے کی تکمیل کرتے ہیں۔  آگے چل کر المُسَبِّحَات  (وہ سورتیں جن کا آغاز اللہ کی تسبیح سے ہوتا ہے) کے مطالعہ کے دوران اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔

 (۲)       سوره بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور ہے کہ «اللہ اپنے بندے کو لے گیا» جبکہ سورۃ الکہف کی پہلی آیت میں فرمایا کہ «اللہ نے اپنے بندے پر کتاب اتاری»۔  گویا دونوں مقامات کی باہم متلازم  (reciprocal) نسبت ہے۔  

 (۳)       دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات میں نبی اکرم کے لیے رسول کے بجائے عبد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔  

 (۴)       سوره بنی اسرائیل کی آخری دو آیات کا آغاز لفظ «قُل» سے ہوتا ہے اور اسی طرح سورۃ الکہف کی آخری دو آیات بھی لفظ «قُل» سے شروع ہوتی ہیں۔  نیز ان دونوں مقامات کی دو دو آیات کے مضامین میں باہم متلازم (reciprocal) نسبت ہے۔  

 (۵)        یہ دونوں سورتیں ریل کے ڈبوں کی طرح آپس میں جڑی ہوئی (inter locked) ہیں۔  وہ اس طرح کہ سوره بنی اسرائیل کی آخری  آیت ایک حکم پر ختم ہو رہی ہے:  وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ… «اور کہیے کہ کل حمد اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے…» جبکہ سورۃ الکہف کی پہلی  آیت کے مضمون سے یوں لگتا ہے جیسے یہ اس حکم کی تعمیل میں نازل ہوئی ہے:  اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…۔

            مضمون اور موضوع کے اعتبا ر سے سوره بنی اسرائیل کا پہلا رکوع بہت اہم اور عظیم ہے۔  اس رکوع میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے اُن چار ادوار کا تذکرہ ہے جو حضور کی بعثت تک گزر چکے تھے۔  یہاں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کو چار آیات کے اندر سمو کر گویا امت مسلمہ کے لیے ایک آئینہ فراہم کر دیا گیا ہے۔  اس آئینے کو سامنے رکھ کر ہم اپنے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔  اس کی وضاحت اس حدیث نبوی میں ملتی ہے جس میں حضور نے فرمایا:

 «لَیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ…»  

«میری اُمت پر بھی وہ تمام حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوئے، بالکل اسی طرح جیسے ایک جوتی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے…»

            اس حدیث میں جوتی کے دونوں پاؤں کی مشابہت کی یہ مثال اس اٹل حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عروج و زوال کے جو چار ادوار بنی اسرائیل پر گزر چکے ہیں بالکل ایسے ہی چار ادوار امت ِمسلمہ پر بھی وارد ہوں گے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو سوره بنی اسرائیل کی ان چار آیات  (۴ تا ۷) میں علم و معرفت اور معلومات کا ایک خزانہ پوشیدہ ہے، جبکہ مذکورہ بالا حدیث اس خزانے کی چابی ہے۔  مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے اس چابی کی مدد سے اس خزانے تک رسائی ملی ہے، جس کے نتیجے میں میرے لیے ان بیش بہا علمی و تاریخی معلومات کو ضبط تحریر میں لانا ممکن ہوا ہے۔  چنانچہ اس موضوع پر میرا ایک مختصر کتابچہ «تنظیم اسلامی کا تاریخی پس منظر» کے نام سے اور ایک مفصل کتاب «سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمتوں کا ماضی، حا ل اور مستقبل» کے عنوان سے دستیاب ہیں۔  

            ان دونوں مطبوعات کے انگلش تراجم بھی Rise and Decline of the Muslim Ummah اور Lessons from Histroy کے عنوانات سے طبع ہوتے ہیں۔   (اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ان کتب کا مطالعہ مفید ہو گا۔) 

UP
X
<>