June 23, 2024

قرآن کریم > الإسراء >surah 17 ayat 7

إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لأَنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاء وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيرًا 

اگر تم اچھے کام کروگے تو اپنے ہی فائدے کیلئے کروگے، اور بُرے کام کروگے تو بھی وہ تمہارے لئے ہی بُرا ہوگا۔ چنانچہ جب دوسرے واقعے کی میعاد آئی تو ہم نے دوسرے دُشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا، تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ ڈالیں ، اور تاکہ وہ مسجد میں اُسی طرح داخل ہوں جیسے پہلے لوگ داخل ہوئے تھے، اور جس جس چیز پر اُن کا زور چلے، اُس کو تہس نہس کر کے رکھ دیں

 آیت ۷:  اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَہَا:   «اگر تم نے کوئی بھلائی کی تو خود اپنے ہی لیے کی، اور اگر کوئی برائی کمائی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کمائی۔»

            تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔

              فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃ:   «پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا»

            جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی، تمہارے اعتقادات، نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہو گئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آ پہنچا۔

              لِیَسُوْؤُٓوا وُجُوْہَکُم:   «تا کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں»

            اس سلسلے میں آیت: ۵ میں یہ الفاظ آئے تھے:  بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّــنَــآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْد:   کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کر دیے جو سخت جنگجو تھے۔ اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے، لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔  چنانچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہو گا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تا کہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔

              وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃ:   «اور وہ داخل ہو جائیں مسجد میں جیسے کہ داخل ہوئے تھے پہلی مرتبہ»

            یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بارِ دگر بے حرمتی کی طرف۔  جیسے ۵۸۷ قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا، ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے۷۰ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا۔

              وَّلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا:   «اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیں (ہر اُس شے کو) جس کے اوپر بھی انہیں قبضہ حاصل ہو جائے۔»

            ان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔  اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔  نبی آخر الزماں کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دورِزوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔  اس سیاق و سباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ:

UP
X
<>