September 23, 2020

قرآن کریم > الكهف

الكهف

بسم الله الرحمن الرحيم 

سُورۃُ الکَہْف

تمہیدی کلمات

            سورۃ الکہف اور سوره بنی اسرائیل کا آپس میں جوڑے اور زوجیت کا تعلق ہے۔ دونوں سورتوں کے بارہ بارہ رکوع ہیں اورآیات کی تعداد بھی تقریباً برابر ہے۔ دونوں کے عین وسط میں حضرت آدم اور ابلیس کا واقعہ بیان ہوا ہے اور اس ضمن میں اس حد تک مشابہت ہے کہ نہ صرف دونوں سورتوں کے ساتویں رکوع کا آغاز اس واقعہ سے ہوتا ہے بلکہ دونوں جگہوں پر واقعہ کی ابتدا بھی ایک ہی آیت سے ہو رہی ہے۔ ان کی نسبت زوجیت سے متعلق اہم نکات کا ذکر سوره بنی اسرائیل کے آغاز میں بھی ہو چکا ہے، جبکہ میری کتاب «قرآن حکیم کی سورتوں کے مضامین کا اجمالی تجزیہ» میں اس مضمون کو مزید جامعیت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سوره بنی اسرائیل کی آخری آیت اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیت میں ایک خاص ربط و تعلق ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سورتیں ایک ساتھ قرآن میں وارد ہوئی ہیں اور ریل کے ڈبوں کی طرح باہم interlocked ہیں ۔ سوره بنی اسرائیل کی آخری آیت کا آغاز:  وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ… کے الفاظ سے ہو رہا ہے، یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا حکم دیا جا رہا ہے، جبکہ سورۃ الکہف کا آغاز:  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ… کے الفاظ سے ہو رہا ہے۔ گویا یہاں اس حکم کی تعمیل ہو رہی ہے۔ 

UP
X
<>