September 23, 2020

قرآن کریم > مريم

مريم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

سُورۃُ مَریَم

تمہیدی کلمات

            سوره مریم «مکی مدنی» سورتوں کے تیسرے گروپ میں شامل ہے۔ اس گروپ کی مکیات کا آغاز سوره یونس سے ہوا تھا۔ ان میں سے جن نو سورتوں کا ہم اب تک مطالعہ کر چکے ہیں وہ تین تین کے تین ذیلی گروپس میں منقسم ہیں۔ ہر ذیلی گروپ کے اندر دو دو سورتیں جوڑے کی شکل میں ہیں، جبکہ تیسری سورت منفرد مزاج کی حامل ہے۔ مثلاً پہلے ذیلی گروپ میں سوره یونس اور سوره ہود جوڑے کی حیثیت سے ہیں، جبکہ سوره یوسف (ایک ہی نبی یعنی حضرت یوسف کے حالات پر مشتمل) منفرد ہے۔ دوسرے ذیلی گروپ میں سورۃ الرعد اور سوره ابراہیم جوڑے کی شکل میں ہیں، جبکہ سورۃ الحجر منفرد ہے، بلکہ سورۃ الحجر تو اس پورے گروپ میں ہی منفرد مزاج کی سورت ہے۔ اس کا انداز بالکل ابتدائی زمانے کی سورتوں جیسا ہے، یعنی چھوٹی چھوٹی آیات، تیز ردھم اور ملکوتی غنائیت بہت نمایاں۔ تیسرے ذیلی گروپ میں سورۃ النحل منفرد مزاج رکھتی ہے، جبکہ سوره بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف ایک حسین و جمیل جوڑے کی شکل میں ہیں۔

            اب سوره مریم سے «مکی مدنی» سورتوں کے اس بڑے گروپ کے چوتھے ذیلی گروپ کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں سوره مریم، سوره طٰہٰ اور سورۃ الانبیاء شامل ہیں۔ پچھلے ذیلی گروپس کی طرح یہاں بھی دو سورتوں (سوره مریم اور سورۃ الانبیاء) کی آپس میں گہری مشابہت ہے، جبکہ ایک سورت (طٰہٰ) منفرد ہے۔ سوره مریم اور سورۃ الانبیاء دونوں میں انبیاء کرام  کا تذکرہ قصص النبیین کے انداز میں ہے۔ ان تذکروں میں «انباء الرسل» یا «ایام اللہ» جیسا وہ انداز نہیں جو ہم سورۃ الاعراف اور سوره ہود میں ملاحظہ کر چکے ہیں کہ رسول آئے، انہوں نے دعوت دی، قوم نے انکار کیا اور وہ قوم ہلاک کر دی گئی۔

            اس ذیلی گروپ کی منفرد سورت یعنی سوره طٰہٰ میں سوره یوسف کی طرح صرف ایک ہی رسول کا تذکرہ ہے۔ اس کے آٹھ میں سے پانچ رکوع مسلسل حضرت موسیٰ کے حالات پر مشتمل ہیں۔ اس لحاظ سے سوره طٰہٰ سوره یوسف کے ساتھ معنوی نسبت بھی رکھتی ہے۔ یعنی حضرت یوسف کے زمانے میں بنی اسرائیل مصر میں آکر آباد ہوئے (اس کا ذکر سوره یوسف میں ہے)، جبکہ حضرت موسیٰ کے دور میں انہیں فرعون کی غلامی سے نجات ملی (اس کا ذکر سوره طٰہٰ میں ہے) اور وہ اپنے آبائی وطن فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔

            سوره مریم ہجرت ِحبشہ سے قبل نازل ہوئی۔ اس کے دوسرے رکوع میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کا تعارف بیان فرمایا گیا ہے۔ یہ آیات مسلمان مہاجرین کو سفر حبشہ کے زادِ راہ کے طور پر عطا ہوئی تھیں۔ عنقریب انہیں شاہِ حبشہ (نجاشی) کے دربار میں پیش آنے والی مشکل صورتِ حال میں ان آیات کی مدد درکار تھی۔ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو واپس لانے کے لیے قریش مکہ نے عمرو بن العاص (جو بعد میں ایمان لا کر جلیل القدر صحابی بنے) کی سرکردگی میں نجاشی کے دربار میں ایک سفارت بھیجی۔ ان لوگوں کی شکایت پر نجاشی نے مسلمانوں کو دربار میں بلا کر ان سے حقیقت حال دریافت کی۔ مسلمانوں نے جواب میں وہ تمام حالات بتائے جن کی وجہ سے وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ نجاشی نے مسلمانوں کا موقف سننے کے بعد انہیں قریش کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ اس کے ملک میں جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد عمرو بن العاص نے ایک اور داؤ کھیلا اور نجاشی کے دربار میں دوبارہ حاضر ہو کر کہا کہ آپ ان لوگوں کو بلا کر حضرت عیسیٰ کے بارے میں ان کا عقیدہ دریافت کریں۔ یہ لوگ تو حضرت عیسیٰ کو ایک عام انسان سمجھتے ہیں۔ اس پر نجاشی نے مسلمانوں کو ایک بار پھر اپنے دربار میں طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ حضرت عیسی ٰ کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا ہے۔ اس پر حضرت جعفر طیار بن ابی طالب (حضور کے چچا زاد اور حضرت علی کے بھائی) نے حضرت عیسیٰ سے متعلق سوره مریم کی آیات پڑھ کر سنائیں۔ کلامِ الٰہی سن کر نجاشی بہت متاثر ہوا۔ اُس نے ایک تنکا اٹھایا اور کہا کہ جو کچھ تم نے بیان کیا ہے حقیقت میں حضرت عیسیٰ اس تنکے کے برابر بھی اس سے زائد نہیں ہیں۔ اس کے بعد اُس نے قریش کی سفارت کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا، چاہے تم لوگ مجھے پہاڑوں کے برابر سونا بھی دے دو۔ 

UP
X
<>