June 23, 2024

قرآن کریم > الحج >surah 22 ayat 5

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الأَرْحَامِ مَا نَشَاء إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّى وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاء اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ 

اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا، تاکہ ہم تمہارے لئے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتا دیں ، اور ہم (تمہیں ) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں ، ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں ، پھر (تمہیں پالتے ہیں ) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دُنیا سے اٹھالئے جاتے ہیں ، اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اُس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اُس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اُگاتی ہے

 آیت ۵:  یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ:   «اے لوگو! اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں شک ہے تو (ذرا غور کرو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا»

            انسانی جسم کی اصل مٹی ہے۔ اس کی غذا بھی نباتات اور معدنیات کی شکل میں مٹی ہی سے آتی ہے۔ اگر وہ کسی جانور کا گوشت کھاتا ہے تو اس کی پرورش بھی مٹی سے حاصل ہونے والی غذا سے ہی ہوتی ہے۔

            ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ:   «پھر نطفے سے»

            اور یہ مادہ بھی اسی جسم کی پیدوار ہے جو مٹی سے بنا اور مٹی سے فراہم ہونے والی غذا پر پلا بڑھا۔

            ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃ:   «پھر علقہ سے»

            عام طور پر «علقہ» کا ترجمہ «جما ہوا خون» کیا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ اس لفظ کی وضاحت سورۃ المؤمنون کی آیت: ۱۴ کے ضمن میں آئے گی۔

            ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ:   «پھر گوشت کے لوتھڑے سے، واضح شکل والا اور غیرواضح شکل والا»

            پہلے مرحلے میں اس لوتھڑے پر کسی قسم کے کوئی نشانات نہیں تھے۔ پھر رفتہ رفتہ مختلف مقامات پر نشانات بننے لگے۔ بازوؤں اور ٹانگوں کی جگہوں پر دو دو نشانات بنے اور اسی طرح دوسرے اعضاء کے نشانات بھی اُبھرنا شروع ہوئے۔

            لِّنُبَـیِّنَ لَـکُمْ:   «تا کہ ہم کھول کھول کر بیان کر دیں تمہارے لیے»

            تا کہ رحم مادر میں انسانی جنین پر گزرنے والے مختلف مراحل کے بارے میں پوری وضاحت کے ساتھ تم لوگوں کو بتا دیا جائے۔ تعارفِ قرآن (بیان القرآن، جلد اوّل) کے باب پنجم میں علم جنین (Embryology) کے ماہر سائنسدان کیتھ ایل مور (کینیڈا) کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس مضمون پر اس شخص کی ٹیکسٹ بکس دنیا بھر میں مستند مانی جاتی ہیں اور یونیورسٹی کی سطح تک پڑھائی جاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ قرآن نے رحم مادر میں جنین کے مختلف مراحل کو جس طرح بیان کیا ہے اس موضوع پر دستیاب معلومات کی اس سے بہتر تعبیر ممکن نہیں ہے۔ مزید برآں وہ اس امر پر حیرت کا اظہار بھی کرتا ہے کہ صدیوں پہلے قرآن میں ان مراحل کا درست ترین تذکرہ کیونکر ممکن ہوا۔

            وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی:   «اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں رحموں کے اندر جو ہم چاہتے ہیں ایک وقت معین تک»

            یعنی رحم کے اندر حمل ویسا ہوتا ہے جیسا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ یہ فیصلہ صرف وہی کرتا ہے کہ وہ بچہ مذکر ہو گا یا مؤنث، ذہین وفطین ہو گا یا کند ذہن، خوبصورت ہو گا یا بدصورت، تندرست و سالم ہو گا یا بیمار و معذور۔ اس معاملے میں کسی کی خواہش یا کوشش کا سرے سے کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس مضمون کے بارے میں سورۃ المؤمنون کے پہلے رکوع میں مزید تفصیل بیان ہو گی۔

            ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ:   «پھر ہم نکالتے ہیں تمہیں چھوٹے سے بچے کی صورت میں، پھر تم پہنچتے ہو اپنی جوانی کو۔»

            وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا:   «اور تم میں وہ بھی ہیں جو پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو نکمی عمر تک لوٹائے جاتے ہیں، کہ اُسے کچھ بھی علم نہ رہے سب کچھ جاننے کے بعد۔»

             «اَرْذَلِ الْعُمُر» کی کیفیت سے حضور نے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ بڑھاپے میں بعض اوقات ایسا مرحلہ بھی آتا ہے کہ انسان demencia کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں اس کی ذہنی صلاحیتیں جواب دے جاتی ہیں، یادداشت زائل ہو جاتی ہے اور وہی انسان جو اپنے آپ کو کبھی سقراط اور بقراط کے برابر سمجھتا تھا، بچوں کی سی باتیں کرنے لگتا ہے۔ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کیفیت کو پہنچنے سے پہلے ہی اس دنیا سے اٹھا لے۔ میں نے ذاتی طور پر مولانا امین احسن اصلاحی صاحب مرحوم کو بڑھاپے کی اس کیفیت میں دیکھا ہے۔ آخری عمر میں ان کی کیفیت ایسی تھی کہ نہ زندوں میں تھے، نہ مردوں میں۔ دیکھنے والے کے لیے مقامِ عبرت تھا کہ ایک ایسا شخص جو اعلیٰ درجے کا خطیب تھا اور اس کے قلم میں بلا کا زور تھا، عمر کے اس حصے میں بے چارگی و بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا تھا اور اپنے پاس بیٹھے لوگوں کو پہچاننے سے بھی عاجز تھا۔ میں اس زمانے میں انہیں ملنے کے لیے ان کے پاس جاتا تھا مگر ایک حسرت لے کر واپس آ جاتا تھا۔

            مولانا صاحب کی تفسیر «تدبر قرآن» بلاشبہ بہت اعلیٰ پائے کی تفسیر ہے۔ اس میں انہوں نے «نظام القرآن» کے حوالے سے اپنے استاد حمید الدین فراحی کی فکر اور ان کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اس تفسیر سے بہت استفادہ کیا ہے، لیکن مجھے مولانا سے بہت سی باتوں میں اختلاف بھی تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ رجم کی سزا سے متعلق رائے دینے میں ان سے بہت بڑی خطا ہوئی ہے۔ (وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ النور، تشریح آیت: ۲) اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ مولانا کا ذکر ہوا ہے تو ان کے لیے دعا بھی کیجیے:   اللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ وَاَدْخِلْہُ فِی رَحْمَتِکَ وَحَاسِبْہُ حِسَاباً یَسِیْرًا۔ اَلّٰلھُمَّ نَوِّرْ مَرْقَدَہُ وَاَکْرِمْ مَنْزِلَـہُ وََاَلْحِقْہُ بِعِبَادِکَ الصَّالِحِین۔ آمین یا ربَّ العالَمین!

            زیر نظر آیت کے الفاظ پر دوبارہ غور کریں۔ یہاں انسانی زندگی کا پورا نقشہ سامنے رکھ کر بعث بعد الموت کے منکرین کو دعوتِ فکر دی گئی ہے کہ ہماری قدرت کا مشاہدہ کرنا چاہو تو تم اپنی زندگی اور اس کے مختلف مراحل پر غور کرو۔ دیکھو! تمہاری ابتدا مٹی سے ہوئی تھی۔ اس مٹی سے پیدا ہو کر تم لوگ کس کس منزل تک پہنچتے ہو، اور پھر آخر مر کر دوبارہ مٹی میں مل جاتے ہو۔ جس اللہ نے تمہیں یہ زندگی بخشی، تمہیں بہترین صلاحیتوں سے نوازا، جس کی قدرت سے انسانی زندگی کا یہ پیچیدہ نظام چل رہا ہے، کیا تم اُس کی قدرت اور خلاقی کے بارے میں شک کررہے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کر سکے گا۔ اپنی زندگی کی اس مثال سے اگر حقیقت تم پر واضح نہیں ہوئی تو ایک اور مثال پر غور کرو:   

            وَتَرَی الْاَرْضَ ہَامِدَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ:   «اور تم دیکھتے ہو زمین کو خشک (اورویران)، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلاتی ہے اور اُبھرتی ہے»

            اھتزاز کے معنی حرکت اور جنبش کرنے کے ہیں۔ اسی سے لفظ تَھْتَزُّ سورۃ النمل، آیت: ۱۰ اور سورۃ القصص، آیت: ۳۱ میں حضرت موسیٰ کے عصا کے بارے میں آیا ہے کہ حضرت موسی ٰ نے جب اپنا عصا زمین پر رکھا تو اس میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے چلنے لگا۔ چنانچہ یہاں «اِھْتَزَّتْ» کا مفہوم یہ ہے کہ بارش کے اثرات سے زمین میں زندگی کی لہر دوڑ گئی، مردہ زمین یکایک زندہ ہو گئی اور اس میں حرکت پیدا ہو گئی۔ مختلف نباتات کی اَن گنت کونپلیں جگہ جگہ سے زمین کو پھاڑ کر باہر نکلنا شروع ہو گئیں اور پھر وہ سبزہ لمحہ بہ لمحہ نشوونما پانے لگا۔

            وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ:   «اور قسم قسم کی ترو تازہ چیزیں اُگادیتی ہے۔»

            نباتات کی زندگی کا دورانیہ (cycle) بہت مختصر ہوتا ہے، اس لیے تم اکثر اس کا مشاہدہ کرتے ہو۔ اپنے اسی مشاہدے کی روشنی میں تم لوگ اگر اپنی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لو گے تو تمہیں انسانی اور نباتاتی زندگی میں گہری مشابہت نظر آئے گی۔ مردہ زمین میں زندگی کے آثار پیدا ہونے، نباتات کے اگنے، نشوونما پانے، پھولنے پھلنے اور سوکھ کر پھر بے جان ہو جانے کا عمل گویا انسانی زندگی کے مختلف مراحل مثلاً پیدائش، پرورش، جوانی، بڑھاپے اور موت ہی کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اس میں صرف دورانیے کا ہی فرق ہے۔ نباتاتی زندگی کا دورانیہ چند ماہ کا ہے جبکہ انسانی زندگی کا دورانیہ عموماً پچاس، ساٹھ، ستر یا اسی سال پر مشتمل ہے۔

UP
X
<>