September 23, 2020

قرآن کریم > النّور

النّور

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

سُورۃُ النُّـوْر

تمہیدی کلمات

            مکی سورتوں کے ایک طویل سلسلے (سورۂ یونس تا سورۃ المؤٔمنون) کے بعد اب ہم ایک مدنی سورت کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں‘ جو اس گروپ کی آخری سورت ہے۔ اگرچہ بعض لوگ چودہ سورتوں کے اس گروپ میں سے سورۃ الرعد اور سورۃ الحج کو مدنی قرار دیتے ہیں مگر جو لوگ مکی اور مدنی سورتوں کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی مدنی سورت نہیں ہے‘ البتہ یہ ممکن ہے کہ ان میں کہیں کہیں کچھ آیات مدنی ہوں۔

            سورۃ النور کا نزول ۶ ہجری میں ہوا۔ اس میں حضرت عائشہ پر تہمت لگائے جانے والی سازش کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے اور حضرت عائشہ کی بے گناہی ثابت کی گئی ہے۔ اس سازش کے پیچھے مدینہ کے منافقین کا پورا گروہ تھا ‘ لیکن اس میں بنیادی کردار رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی کا تھا۔ بدقسمتی سے کچھ سادہ لوح مسلمان بھی منافقین کے اس پروپیگنڈا سے متاثر ہو گئے تھے۔ بلاشبہ یہ سب کچھ حضرت عائشہ اور خود حضور کے لیے بہت زیادہ تکلیف اور کرب کا باعث بنا۔

            نسبت ِزوجیت کے اعتبار سے سورۃ النور کا تعلق سورۃ الاحزاب کے ساتھ ہے اور دونوں سورتوں کے مضامین میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے ۔ سورۃ الاحزاب چونکہ سورۃ النور سے پہلے (۵ ہجری میں) نازل ہوئی تھی اس لیے اس کی آیات سورۃ النور کی آیات کی نسبت قدرے چھوٹی ہیں۔ اس وجہ سے سورۃ الاحزاب کی آیات کی تعداد اگرچہ زیادہ ہے مگر دونوں سورتوں کے رکوعات کی تعداد (۹‘ ۹) برابر ہے اور حجم بھی تقریباً ایک جیسا ہے۔ دونوں سورتوں میں نمبر ۳۵ پر جو آیات ہیں وہ ایمان اور اسلام کی حقیقت کے حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔

UP
X
<>