September 29, 2020

قرآن کریم > الشعراء

الشعراء

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سُورۃُ الشُّعَرَاء

تمہیدی کلمات

      سورۃ الفرقان کے تمہیدی کلمات کے ضمن میں بتایا جا چکا ہے کہ اس گروپ کی آٹھ مکی سورتوں میں سے سورۃ الفرقان کے علاوہ باقی سب کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے دو سورتوں (الشعراء اور القصص) کا آغاز طٰسٓمّٓ سے، ایک سورت (النحل) کا طٰسٓ سے اور چار سورتوں (العنکبوت، الروم، لقمان اور السجدۃ) کا آغازالٓمّٓ سے ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اضافی طور پر یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن کی کل چھ سورتیں الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہیں، جن میں سے سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران مدنی ہیں، جبکہ مذکورہ چار مکی ہیں۔

      سورۃ الشعراء کو مکی سورتوں میں اس اعتبار سے امتیاز حاصل ہے کہ اس کی آیات کی تعداد (۲۲۷) مکی سورتوں میں سب سے زیادہ ہے۔ (حجم کے اعتبار سے مکی سورتوں میں سورۃ الاعراف سب سے بڑی ہے، لیکن اس کی آیات ۲۰۷ ہیں۔) سورۃ الشعراء اپنی چھوٹی چھوٹی آیات، تیز ردھم اور مؤثر صوتی آہنگ کی بنا پر سورۃ الحجر سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس کی آیت ۲۱۴ کے حوالے سے تاریخی روایات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا نزول ابتدائی چار برس کے دوران ہوا تھا۔ ویسے تو ابتدائی دور میں نازل ہونے والی اکثر و بیشتر سورتیں مصحف کی ترتیب میں سورۂ قٓ کے بعد یعنی آخری منزل میں رکھی گئی ہیں، لیکن سورۃ الحجر اور سورۃ الشعراء کو مشیت ِالٰہی سے مصحف کے درمیانی حصے میں رکھا گیا ہے، یعنی پچھلے گروپ میں سورۃ الحجر اور اس گروپ میں سورۃ الشعرائ۔

      میرے خیال میں اس ترتیب میں یہ حکمت ہے (ممکن ہے کوئی اور بڑی حکمت بھی ہو، جس تک میرے فہم کی رسائی نہ ہو) کہ ان دونوں گروپس میں یکے بعد دیگرے بہت سی ایسی سورتیں ہیں جو اپنے انداز اور مضامین کے اعتبار سے ایک جیسی ہیں۔ چنانچہ ایک جیسی سورتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی یکسانیت کو ختم کرنے کے لیے دونوں گروپس میں مختلف انداز کی ایک ایک سورت شامل کر دی گئی ہے تاکہ تلاوت کے دوران انسان کی دلچسپی میں کمی واقع نہ ہونے پائے۔ سورۃ الشعراء کا زیادہ ترحصہ انباء الرسل پر مشتمل ہے اور اس میں بھی انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے واقعات کی تفصیل ہے جن کا ذکر اس سے پہلے سورۃ الاعراف اور سورۂ ہود میں بھی آچکا ہے۔ البتہ اس سورت میں ان واقعات کی ترتیب مختلف ہے اور حضرت ابراہیم کے ذکر کا اضافہ بھی ہے۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ کا مفصل تذکرہ ہے، پھرحضرت ابراہیم کا ذکر ہے، اس کے بعد باقی پانچ رسولوں کے حالات بالکل اسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں جس ترتیب سے مذکورہ دونوں سورتوں میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ سورت کا آخری رکوع خاصا طویل ہے جس میں حضور سے خطاب ہے اور آپؐ کی وساطت سے دراصل اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔

UP
X
<>