April 24, 2024

قرآن کریم > الشعراء >sorah 26 ayat 8

إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

یقینا ان سب چیزوں میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

آیت ۸     اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً  وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: ’’یقینا اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ لیکن ان کی اکثر یت ایمان لانے والی نہیں ہے۔‘‘

      اگر یہ لوگ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ پوری کائنات ہی معجزہ ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ان کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں :

      (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ) (البقرۃ)

 ’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں، اور کشتیوں (جہازوں) میں جو سمندروں (یا دریاؤں) میں لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں، اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے، پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اور ہر قسم کے حیوانات اس کے اندر پھیلا دیے، اور ہواؤں کی گردش میں، اور ان بادلوں میں جو معلق کر دیے گئے ہیں آسمانوں اور زمین کے درمیان، یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘

UP
X
<>