September 29, 2020

قرآن کریم > القصص

القصص

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سُورۃُ الْقَصَص

تمہیدی کلمات

      سورۃالفرقان سے سورۃ السجدۃ تک آٹھ مکی سورتوں کا گروپ چار چار سورتوں کے دو ذیلی گروپس میں منقسم ہے۔ ان میں سے پہلی چار سورتوں (سورۃ الفرقان، سورۃالشعراء، سورۃ النمل اور سورۃ القصص) میں مزاج کے اعتبار سے کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ سورۃ القصص اس ذیلی گروپ کی آخری سورت ہے۔ اس گروپ میں سے سورۃ الفرقان کو چھوڑ کر باقی تینوں سورتوں کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے۔ سورۃ الشعراء اور سورۃ القصص دونوں طٰسٓمّٓ سے شروع ہوتی ہیں جبکہ سورۃ النمل کا آغاز طٰسٓ سے ہوتا ہے۔ دوسرے ذیلی گروپ کی چاروں سورتوں (سورۃ العنکبوت، سورۃ الروم، سورۂ لقمان اور سورۃ السجدۃ) میں مضامین کی ہم آہنگی کے علاوہ باہمی مشابہت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان سب کا آغاز الٓمّٓ سے ہوتا ہے۔

      یہاں ضمنی طور پر حروفِ مقطعات کے سلسلے میں ایک یہ نکتہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ جن سورتوں کے آغاز کے حروفِ مقطعات میں ’’ط‘‘ آیا ہے ان سورتوں میں حضرت موسیٰ کا ذکر ملتا ہے، مثلاً سورۂ طٰہٰ، سورۃ الشعراء، سورۃ القصص اور سورۃ النمل۔ اس کی وضاحت بعض اہل علم نے اس طرح کی ہے کہ عبرانی اور عربی زبان کے بنیادی حروف (alphabets) مختلف شکلوں سے اخذ کیے گئے ہیں (جیسا کہ چینی زبان کے حروف بھی شکلوں سے بنے ہیں ، جبکہ بعض زبانوں کے حروف آوازوں سے بھی اخذ ہوئے ہیں ) ۔ اس لحاظ سے ’’ط‘‘ سانپ کی شکل سے مشابہ ہے (حرف کا نچلے والا حصہ سانپ کی کنڈلی سے مشابہ ہے جبکہ اوپر اٹھا ہوا ’’الف،‘‘‘ اس کے پھن کی علامت ہے) ۔ بہر حال حضرت موسیٰ کے ساتھ سانپ کی ایک خاص مناسبت ہے اور شاید اسی وجہ سے مذکورہ چار سورتوں میں حضرت موسیٰ کے واقعات بیان ہوئے ہیں ۔ اس موقف کو سورۂ نٓ (اس سورت کا دوسرا نام ’’سورۃ القلم‘‘ بھی ہے) میں حضرت یونس کے ذکر سے بھی تقویت ملتی ہے۔ حرف ’’ن‘‘ کے بارے میں خیال ہے کہ اس حرف کی شکل مچھلی کی شکل سے اخذ کی گئی ہے (عام طور پر آج بھی ڈرائنگز اور پینٹنگز میں مچھلی کی شکل ایک ایسی ’’ن‘‘ سے مشابہ دکھائی جاتی ہے جس کا نقطہ ایک جانب لگا ہو) اور اسی وجہ سے حضرت یونس کو ذوالنون (مچھلی والا) کا لقب دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۂ ’’نٓ‘‘ میں حضرت یونس کا ذکر ’’صاحب الحوت‘‘ (مچھلی والا) کے لقب سے آیاہے اور وہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیا تھا۔ بہر حال اس طرح بعض حضرات نے حروفِ مقطعات میں سے بعض حروف کی مناسبت متعلقہ سورتوں کے بعض مضامین سے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ (مثلاً بعض حضرات کے نزدیک طٰسٓ میں ’’طورِ سینا‘‘ کی طرف اشارہ ہے اور طٰسٓمّٓ میں ’’طورِ سینا اور موسیٰ‘‘ کی طرف۔ )

      سورۃ القصص میں حضرت موسیٰ کی زندگی کے ابتدائی دور کے حالات وواقعات ملتے ہیں ۔ آپ کے حالات قرآن میں بہت تفصیل اور بہت تکرار سے بیان ہوئے ہیں ۔ ان حالات و واقعات کی تقسیم سورتوں کے حوالے سے اس طرح نظر آتی ہے کہ آپ کی زندگی کے آخری دور کے حالات سورۃ البقرۃ اور سورۃ الاعراف میں بیان ہوئے ہیں ۔ درمیانی دور کے واقعات سورۂ طٰہٰ (اس سورت کے آٹھ میں سے پانچ رکوع آپ کے حالات پر مشتمل ہیں) ، سورۃ الشعراء اور سورۃ النمل میں ملتے ہیں ، جبکہ بالکل ابتدائی دور کے حالات کی تفصیل زیر مطالعہ سورت یعنی سورۃ القصص میں آئی ہے۔ قرآن کے اب تک کے مطالعہ کے دوران ہم یہ واقعہ بار بار پڑھ چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ جب مدین سے مصر واپس آ رہے تھے تو آپ کو راستے میں نبوت سے سرفراز فرمایا گیا، لیکن آپ مصر سے مدین کیسے پہنچے تھے ؟یہ تفصیل ہمیں اب اس سورت میں ملے گی۔ 

UP
X
<>