June 23, 2024

قرآن کریم > العنكبوت >sorah 29 ayat 5

مَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

جو شخص اﷲ سے جاملنے کی اُمید رکھتا ہو، اُسے یقین رکھنا چاہئے کہ اﷲ کی مقرر کی ہوئی میعاد ضرور آکر رہے گی، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے

آیت ۵     مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ: ’’جو کوئی بھی اللہ کی ملاقات کا امیدوار ہے تو (اسے یقین رکھنا چاہیے کہ) یقینا اللہ کا معین ّکردہ وقت آ کر رہے گا۔‘‘

      یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر ایک بندئہ مؤمن دنیا میں اپنا تن من دھن اُس کی راہ میں کھپا دے گا تو اُس کی اس قربانی کا صلہ اسے آخرت کی نعمتوں کی صورت میں دیا جائے گا۔ لیکن اللہ کا یہ وعدہ بہر حال ادھار کا وعدہ ہے۔ دوسری طرف دنیا کے ظاہری معاملات کو دیکھتے ہوئے انسان ’’نو نقد نہ تیرہ ادھار‘‘ کے اصول پر زیادہ اطمینا ن محسوس کرتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری سے شیطان فائدہ اٹھاتا ہے اوراس کے دل میں وسوسے ڈال کر اس کے یقین کو متزلزل کر نے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ اسی حوالے سے یہاں حضرت بلال، حضرت ابو فکیہہ اور حضرت خباب جیسے صحابہ اور ان کی قائم کردہ مثالوں کی قیامت تک کے لیے پیروی کرنے والے جاں نثاروں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اے شمع توحید کے پروانو! شیطان تمہارے دلوں میں کسی قسم کا وسوسہ پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے، تم اطمینان رکھو! تمہارے ساتھ کیے گئے اللہ کے تمام وعدے ضرور پورے ہوں گے اور آخرت کا وہ دن ضرور آ کر رہے گا جس دن تمہاری تمام قربانیوں کا بھر پور صلہ تمہیں دیا جائے گا۔

      وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ: ’’اور وہ سب کچھ سننے والا، ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

      وہ تمہارے حالات سے بخوبی آگاہ ہے، تمہاری کوئی تکلیف اور کوئی قربانی اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے، ---- اب اگلی آیت میں پھر سرزنش کا انداز ہے:

UP
X
<>