April 24, 2024

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 4

مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ 

جو اس سے پہلے لوگوں کیلئے مجسم ہدایت بن کر آئی تھی، اور اسی نے حق و باطل کو پرکھنے کا معیار نازل کیا ۔ بیشک جن لوگوں نے اﷲ کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کیلئے سخت عذاب ہے، اور اﷲ زبردست اقتدار کا مالک اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے

 آیت 4:     مِنْ قَـبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ:  «اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے»

              وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ:  «اور اللہ نے فرقان اتارا»۔

            «فرقان» کا مصداق قرآن مجید بھی ہے‘ تورات بھی ہے اور معجزات بھی ہیں۔ سورۃ الانفال میں «یوم الفرقان» غزوئہ بدر کے دن کو کہا گیا ہے۔ ہر وہ شے جو حق کو بالکل مبرہن کر دے اور حق و باطل کے مابین امتیاز پیدا کر دے وہ فرقان ہے۔

             اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ:  «بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے۔»

            یہاں اب تہدید اور دھمکی کا انداز ہے کہ اس قرآن کا معاملہ دنیا کی دوسری کتابوں کی طرح نہ سمجھو کہ مان لیا تب بھی کوئی حرج نہیں ‘ نہ مانا تب بھی کوئی حرج نہیں۔ اگر پڑھنے پر طبیعت راغب ہوئی تو بھی کوئی بات نہیں‘ طبیعت راغب نہیں ہے تو مت پڑھو‘ کوئی الزام نہیں۔ یہ کتاب ویسی نہیں ہے‘ بلکہ یہ وہ کتاب ہے کہ جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے تو ان کے لیے بہت سخت سزا ہو گی۔

             وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَام: «اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ انتقام لینے والا ہے۔»

            یہ لفظ اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ بے شک رؤوف ہے‘ رحیم ہے‘ شفیق ہے‘ غفور ہے‘ ستار ہے‘ لیکن ساتھ ہی «عزیز ذوانتقام» بھی ہے‘ «شدیدُ العقاب» بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں شانیں قلب و ذہن میں رہنی چاہئیں۔ 

UP
X
<>