September 29, 2020

قرآن کریم > الأحزاب

الأحزاب

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سُورۃُ الاَحزَاب

تمہیدی کلمات

        سورۃ الاحزاب ۵ ہجری میں  نازل ہوئی۔  جیسا کہ سورۃ النور ّکے تعارف کے ضمن میں  بھی ذکر ہو چکا ہے،  سورۃ الاحزاب اورسورۃ النور کاآپس میں  جوڑے کا تعلق ہے۔  دونوں  مدنی سورتیں  ہیں  اور مصحف میں  ترتیب کے اعتبار سے ان دونوں  میں  ایک خاص مناسبت یہ بھی ہے کہ ان میں  سے ہر ایک اپنے اپنے گروپ کے آخر کی واحد مدنی سورت ہے۔  پچھلے گروپ کی چودہ مکی سورتوں  (سورۂ یونس تا سورۃ المؤمنون)  کے آخر میں  سورۃ النور ہے جبکہ زیر مطالعہ گروپ کی آٹھ مکی سورتوں  (سورۃ الفرقان تا سورۃ السجدۃ)  کے آخر میں  سورۃ الاحزاب۔

        سورۃ النور ۶ ہجری میں  یعنی سورۃ الاحزاب کے ایک سال بعد نازل ہوئی اور یہی زمانی ترتیب ان دونوں  سورتوں  کے مضامین میں  بھی نظر آتی ہے۔  مثلاًپردے سے متعلق ابتدائی احکام سورۃ الاحزاب میں  ہیں۔  ان میں  عورت کے لیے گھر سے باہر کے پردے اور دوسروں  کے گھروں  میں  نا محرم َمردوں  کے داخلے پر پابندی سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔  لیکن گھر کے اندر رہتے ہوئے عورت کے لباس اور ستر سے متعلق احکام اور اس سلسلے میں  محرم مردوں  کے بارے میں تفصیلات سورۃ النور میں  دی گئی ہیں۔  (گھر کے اندرونی ماحول میں  عورتوں  کے پردے سے متعلق احکام کا عکس کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے معاشرے میں  عملی طور پر بھی نظر آتا تھا۔  گھروں  کے مردانہ اور زنانہ حصے الگ الگ بنائے جاتے تھے۔  درمیان میں  ڈیوڑھی ہوتی تھی جو دونوں  حصوں  کو آپس میں  ملاتی تھی۔  مہمان اگر کوئی نا محرم مرد ہوتا تو وہ گھر کے اندر داخل ہونے کے بجائے مردانہ حصے میں  ہی ٹھہرتاتھا، جبکہ محرم افراد گھر کے اندر جا سکتے تھے) ۔  اسی طرح سورۃ النور میں  خلافت کے قیام کی خوشخبری دی گئی ہے،  جبکہ خلافت کے قیام کی تمہیدی ِجدوجہد ُکے اہم موڑ (turning point)  کی حیثیت سے غزوئہ احزاب کا ذکر سورۃ الاحزاب میں  آیا ہے۔  سورۃ النور کی آیت ۳۵ اور سورۃ الاحزاب کی آیت ۳۵ کے مضامین کا باہمی ربط بھی ان دونوں  سورتوں  کی مشابہت کی نشاندہی کرتا ہے جس کا ذکر سورۃ النور کے مطالعہ کے دوران میں  ہو چکا ہے۔

        ابتدائی آیات میں  مضامین کی ترتیب کے حوالے سے اس سورت کا اسلوب سورۃ التوبہ سے ملتا جلتا ہے۔  یہ دراصل قرآن کا ایک اہم اسلوب ہے جس کے تحت کسی اہم مضمون یا موضوع کو آیات کی ترتیب بدل کر اہم خبر (head line) کے طور پر پہلے بیان کر دیا جاتا ہے،  جبکہ اس مضمون کی تفصیل بعد میں  بیان کی جاتی ہے۔  جیسے ہم دیکھتے ہیں  کہ سورۃ الانفال کا آغاز جس مضمون سے ہوا ہے اسے صرف ایک آیت کے بعد ہی چھوڑ دیا گیاہے۔  بعد میں  اس مضمون کی وضاحت سورت کے وسط (آیت ۴۱) میں  آئی ہے۔

        بہر حال اس خصوصی اسلوب کے حوالے سے سورۃ التوبہ اور سورۃ الاحزاب میں  بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔  سورۃ التوبہ کا آغاز ایک بہت اہم اعلان اور مضمون سے ہوا ہے، لیکن اس کے بعد ترتیب میں  دوسرے اور تیسرے رکوع کی وہ آیات آ گئی ہیں  جو ایک سال قبل نازل ہوئی تھیں  اور پھر ان آیات کے بعد پہلے رکوع کے مضمون کا سلسلہ چوتھے رکوع کے ساتھ جا کر ملتا ہے۔  بالکل اسی طرح سورۃ الاحزاب کے آغاز میں  بھی ایک اہم مضمون کا ذکر آیا ہے لیکن چند ابتدائی آیات کے بعد یہ موضوع بدل گیا ہے۔  یہ اہم مضمون جس سے اس سورت کا آغاز ہوا ہے وہ حضورﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ کے معاملے اورحضورﷺ کے ساتھ حضرت زینب بنت جحش کے نکاح سے متعلق ہے۔  لیکن ابتدائی آیات میں  اس مضمون کی head line کے طور پر صرف منہ بولے بیٹے کی قانونی اور شرعی حیثیت کے بارے میں  حکم دے کر اس موضوع کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔  اس کے بعد دوسرے اور تیسرے رکوع میں  غزوۂ احزاب کا ذکر آ گیا ہے جبکہ پہلے رکوع کے مضمون کا ربط بعد میں چوتھے رکوع سے جا کر ملا ہے۔

UP
X
<>