April 13, 2021

قرآن کریم > فاطر >sorah 35 ayat 10

مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُوْلَئِكَ هُوَ يَبُورُ

جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو، تو تمام تر عزت اﷲ کے قبضے میں ہے۔ پاکیزہ کلمہ اُسی کی طرف چڑھتا ہے، اور نیک عمل اُس کو اُوپر اُٹھاتا ہے۔ اور جو لوگ بُری بُری مکاریاں کرر ہے ہیں ، ان کو سخت عذاب ہوگا، اور اُن کی مکاری ہی ہے جو ملیا میٹ ہوجائے گی

آیت ۱۰    مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا: ’’جو کوئی عزت کا طالب ہے تو (وہ جان لے کہ) عزت سب کی سب اللہ کے پاس ہے۔‘‘

        جو شخص اللہ کے جتنا قریب ہو گااسی قدر وہ سزا وارِ عزت اور صاحب ِتوقیر ہو گا۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ سے جتنا دور ہو گااسی قدر وہ ذلیل ہو گا، چاہے دنیا میں وہ بظاہر کتنا ہی با عزت اور صاحب ثروت ہو۔ سورۃ المنافقون میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا: (وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ: ’’اور عزت تو اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسولؐ کے لیے اور مومنین کے لیے، لیکن منافقین (یہ بات) نہیں جانتے۔‘‘

        اِلَـیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ: ’’اُسی کی طرف اٹھتی ہیں اچھی باتیں‘‘

        ہر اچھی بات، ہر اچھا نظریہ، اچھا خیال، دعوت ِحسنہ اور موعظہ حسنہ گویا ’’کلمہ ٔطیبہ‘‘ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’الْکَلِمُ الطَّیِّبُ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر، دعا، تلاوتِ قرآن اور علم و نصیحت کی باتیں ہیں۔ چنانچہ ’’ایمان‘‘ بھی کلمہ طیبہ ہے۔ ظاہر ہے اگر کہیں کسی خیال یانظریہ کا اظہارکیا جائے گا تولامحالہ اس کااظہار ایک ’’کلمہ‘‘ ہی کی شکل میں پیش کرناممکن ہوگا۔ بہر حال ہر کلمہ ٔطیبہ (پاکیزہ بات) میں ترفع (اوپر اٹھنے) کی خداد ادصلاحیت موجود ہوتی ہے اور یوں ہر کلمہ ٔطیبہ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہے، لیکن ترفع کی اس صلاحیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے محنت اور کوشش کی بھی ضرورت ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا :

        وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ: ’’اور عمل ِصالح اسے اوپر اٹھاتا ہے۔‘‘

        یعنی ایمان، یقین، اچھے خیالات، اچھے نظریات اور اچھے عزائم اکیلے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گے جب تک ان کے ساتھ محنت اور تگ و دو نہیں ہو گی۔ گویا حقیقی کامیابی کے لیے ایمان اور عمل صالح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

        وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ: ’’اور جو لوگ بری سازشیں کر رہے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہو گی۔‘‘

        وَمَکْرُ اُولٰٓئِکَ ہُوَ یَبُوْرُ: ’’اور ان کی سازشیں ناکام ہو کر رہ جائیں گی۔‘‘ 

UP
X
<>