April 13, 2021

قرآن کریم > فاطر >sorah 35 ayat 8

أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ

بھلا بتاؤ کہ جس شخص کی نظروں میں اس کی بدعملی ہی خوشنما بنا کر پیش کی گئی ہو، جس کی بنا پر وہ اس بدعملی کو اچھا سمجھتا ہو، (وہ نیک آدمی کے برابر کیسے ہوسکتا ہے؟) کیونکہ اﷲ جس کو چاہتا ہے، راستے سے بھٹکا دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ٹھیک راستے پر پہنچا دیتا ہے۔ لہٰذا (اے پیغمبر !) ایسا نہ ہو کہ ان (کافروں ) پر افسوس کے مارے تمہاری جان ہی جاتی رہے۔ یقین رکھو کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں ، اﷲ اُسے خوب جانتا ہے

آیت ۸    اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا: ’’تو کیا وہ شخص جس کے لیے مزین کر دی گئی ہو اُس کے عمل کی برائی اور وہ اسے اچھاسمجھ رہا ہو (ہدایت پا سکتا ہے) !‘‘

        آج من حیث القوم ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ آج ہم فحاشی اور بے حیائی کو کلچر اور ثقافت کے خوبصورت ناموں کے ساتھ نہ صرف معاشرے میں ترویج دے رہے ہیں بلکہ اس ’’ترقی‘‘ پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ٹی وی، کیبل اور انٹر نیٹ نے اس فحاشی کو گھر گھر میں پہنچا دیا ہے اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ کسی کو اس ’’اشاعت ِفاحشہ‘‘ میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ امریکہ میں توایسی societies nudists بھی پائی جاتی ہیں جن سے تعلق رکھنے والے لوگ نہ صرف لباس کو محض ایک تکلف سمجھتے ہیں بلکہ مادرزاد برہنہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی حالت میں مخلوط محفلیں بھی سجاتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی فحاشی اوربے حیائی کی زندہ مثال ہے۔ ہم جنس پرست مرد (gays) ہوں یا عورتیں (lesbians) وہ نہ صرف انتہائی بے شرمی اور بے باکی سے اس فعل شنیع میں ملوث ہیں بلکہ انہوں نے باقاعدہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں اور ان تنظیموں کے پلیٹ فارم سے وہ سر عام اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور اپنے قانونی و معاشرتی ’’حقوق‘‘ کے لیے سینہ تان کر مظاہرے کرتے ہیں۔ بہر حال آج کی دنیا میں بے شمار لوگ اس آیت کے الفاظ کا مصداق نظر آتے ہیں جن کے برے اعمال ان کی نگاہوں میں مزین کر دیے گئے ہیں اور وہ ان برے اعمال کو نہ صرف اچھا سمجھتے ہیں بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔

        فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآء وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ: ’’تو اللہ گمراہ کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘

        یہاں پر ’’ مَنْ‘‘ کا تعلق دو طرفہ ہے۔ چنانچہ اس کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اور گمراہ کرتا ہے اسے جو گمراہ ہونا چاہتا ہے۔

        فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرٰتٍ: ’’تو (اے نبی !) آپ کی جان نہ گھلے ان لوگوں پر رنج کی وجہ سے۔‘‘

        اب جبکہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپؐ ان کے انجام کے تصور سے ان پر افسوس کرتے ہوئے اپنی جان مت گھلائیں، اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں --- یہ مضمون سورۃ الکہف میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے : (فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا)’’تو (اے نبی !) آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کر لیں گے ان کے پیچھے، اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات (قرآن) پر‘‘ ۔ پھر یہی مضمون سورۃ الشعراء میں بھی مذکور ہے : (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ)’’(اے نبی !) شاید آپ ہلاک کر دیں گے اپنے آپ کو، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘

        اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ: ’’یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ کہ یہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘ 

UP
X
<>