April 24, 2024

قرآن کریم > غافر >sorah 40 ayat 85

فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ

لیکن جب ہمارا عذاب اُنہوں نے دیکھ لیا تھا تو اُس کے بعد اُن کا ایمان لانا اُنہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا۔ خبردار رہو کہ اﷲ تعالیٰ کا یہی معمول ہے جو اُس کے بندوں میں پہلے سے چلا آتا ہے۔ اور اُس موقع پر کافروں نے سخت نقصان اُٹھایا

آیت ۸۵:   فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا: ’’تو پھر ان کا ایمان لانا ان کے لیے ہر گز مفید نہیں ہوا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔‘‘

        عذاب کے واضح آثار سامنے آ جانے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ایسے وقت کا ایمان اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے اور اس قانون سے استثناء نوعِ انسانی کی پوری تاریخ میں صرف ایک ہی قوم کو ملا اوروہ تھی حضرت یونس کی قوم۔ اس استثناء کا ذکر ہم سورۂ یونس کی آیت: ۹۸ میں پڑھ چکے ہیں۔ دراصل حضرت یونس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی واضح اجازت آنے سے پہلے ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ چنانچہ نبی ؑ کے کھاتے میں جو debit آیا وہ قوم کے لیے  credit  بن گیا۔ جدید اکائونٹنگ کے ماہرین خوب جانتے ہیں کہ ایک طرف کا debit دوسری طرف کا credit کیسے بن جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت یونس کی قوم نے عذاب کے واضح آثار دیکھ لینے کے بعد توبہ کر لی اور ان کی یہ توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔

         سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوْنَ : ’’یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو اُس کے بندوں میں جاری رہا ہے‘ اور اُس وقت کافرلوگ خسارے میں رہے۔‘‘

        واقعہ یہ ہے کہ اصل خسارہ تو کافروں ہی کے لیے ہے۔

UP
X
<>