September 29, 2020

قرآن کریم > فصّلت

فصّلت

            سورۂ حٰمٓ السجدۃ کا دوسرا نام سورۂ فُصّلت ہے۔ دراصل ’’السجدۃ‘‘ کے نام سے قرآن مجید میں دو سورتیں ہیں اور دونوں ہی حروفِ مقطعات سے شروع ہوتی ہیں۔ سورۃ الاحزاب سے متصلاً قبل کی سورۃ السجدۃ الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے، اس نسبت سے اس کا پورا نام الٓمّٓ السجدۃہے۔ لیکن چونکہ عام طور پر وہ صرف ’’السجدۃ‘‘ کے نام سے معروف ہے، اس لیے ان دونوں میں فرق واضح کرنے کے لیے زیر مطالعہ سورت کو حٰمٓ السجدۃ کہا جاتا ہے۔

            سورۂ حٰمٓ السجدۃ کا مرکزی مضمون ’’دعوت ِتوحید‘‘ ہے۔ دعوت کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کا تصور ذہن میں لائیے جس نے عقیدئہ توحید کو اختیار کرکے اپنے دل و دماغ کو باطل نظریات اور مشرکانہ خیالات سے پاک کر لیا ہے۔ نورِ توحید سے اس کا سینہ منور ہو گیا ہے اور اُس نے خود کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پوری طرح جھکا لیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ وہ شخص کسی معاشرے کا حصہ ہے اور کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوئے ایک توحید پرست شخص کے سامنے توحید کے حوالے سے درج ذیل دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہو گی۔ یا تو اس معاشرے میں اللہ کا دین غالب ہو گا اور وہاں اسلامی حکومت ہوگی، یا پھر وہاں اللہ کا دین مغلوب ہو گا۔ دین کے غلبے کی صورت میں تو ایک توحید پرست شخص کے لیے اللہ کی بندگی اختیار کرنا اور ہمہ تن اللہ کا بندہ بن کر رہنا آسان ہو گا۔ اور ایسی صورت میں اس سے تقاضا بھی یہی ہے۔ خلافت راشدہ کے دور میں معاشرے کی صورتِ حال ایسی ہی تھی۔ یعنی مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نقشہ اللہ کی مرضی اور اس کے دین کے عین مطابق تھا۔ چنانچہ اس نظام کے تحت عام لوگ بڑی آسانی اور سہولت سے اللہ کی اطاعت اور بندگی میں اپنی زندگیاں گزار رہے تھے۔ لیکن اگر کسی معاشرے یا ملک میں باطل نظام غالب اور اللہ کا دین مغلوب ہو تو ایک مؤمن یا موحد شخص کے لیے اپنی پوری زندگی کو اللہ کی اطاعت اور بندگی میں ڈھالنا ممکن ہی نہیں۔ ایسی صورت میں کوئی بھی شخص اللہ کی بندگی پانچ، دس، پندرہ فی صد تک یعنی جزوی طور پر ہی کر سکتا ہے۔

            اب سوال یہ ہے کہ ایک توحید پرست شخص اگر ایسے معاشرے میں رہنے پر مجبور ہے جہاں باطل کا غلبہ ہے اور ملک میں مجموعی طور پر کفر کا نظام قائم ہے تو ایسی صورت میں وہ کیا کرے ؟چنانچہ ایک موحد ّشخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی صورتِ حال کو ذہنی طور پر تسلیم (reconcile) نہ کرے۔ وہاں رہتے ہوئے وہ احتجاج (protest) کی کیفیت میں زندگی بسر کرے، ہر وقت اس باطل نظام کو بدلنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی فکر میں رہے اور عملی طور پر اس کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتا رہے۔ اس جدوجہد کے حوالے سے اس کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریاتِ زندگی کم سے کم اور ناگزیر حد (subsistence level) تک پوری کرنے کے بعد اپنی تمام تر صلاحیتیں، اپنا وقت اور اپنے وسائل باطل نظام کو اُکھاڑ پھینکنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی کوشش میں کھپا دے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی یہ جدوجہد اور کوشش گویا باطل نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔          

            نظریاتی طور پر اس نکتے کو سمجھ لینے کے بعد اب یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ عملی طور پر اس جدوجہد کی ترتیب و تدریج کیا ہو گی۔ ظاہر ہے یہ کام کسی اکیلے آدمی کے بس کا تو ہے نہیں، اکیلا چنا تو بھاڑ کو نہیں پھوڑ سکتا۔ باطل نظام کو اکھاڑ پھینکنا بہر حال کوئی آسان کام نہیں۔ اس کام کے لیے طاقت ناگزیر ہو گی اور طاقت حاصل کرنے کے لیے جمعیت درکار ہو گی۔ جبکہ جمعیت کی تشکیل کے لیے دعوت الی اللہ کو عام کرنے کی ضرورت ہو گی اور یہی سورۂ حٰمٓ السجدۃ کا مرکزی مضمون ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانے کے کام کا بیڑا ہر اُس شخص کو اٹھانا ہو گا جس نے توحید کو ایک نظریہ کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ گویا ہر ّموحد شخص کو اپنے نظریے کا داعی بن کر میدانِ عمل میں اترنا ہو گا، دوسروں کو قائل کرنا ہو گا اور اپنے ساتھ ملانا ہو گا، تا کہ غلبہ حق یا اقامت ِدین کی ّجدوجہد ُکے لیے جمعیت اور طاقت مہیا ہو سکے۔

            دعوت الی اللہ کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی لائق توجہ ہے کہ دعوت کا آلہ اور ذریعہ (medium) قرآن مجید ہے۔ اس حوالے سے داعیانِ حق کے لیے قرآن میں بار بار تاکید آئی ہے کہ وہ انذار اور تبشیر کا ذریعہ بھی قرآن کو بنائیں، تذکیر و تذکر کے لیے بھی قرآن سے رجوع کریں اور خود اپنے تزکیہ نفس کے لیے بھی قرآن ہی کا سہارا ڈھونڈیں۔ غرض وہ دعوت کے ہر ہر موڑ اور ہر ہر مرحلے پرہدایت و رہنمائی قرآن سے حاصل کریں۔ قرآن میں اس حوالے سے قرآن کا ذکر بار بار آیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں قرآن کا ذکر سولہ مرتبہ ہوا ہے۔ گویا اس سورت کا تانا بانا ہی قرآن کے ذکر سے ُبنا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ الفرقان میں بھی قرآن کے ذکر کی تکرار ملتی ہے۔ سورۂ حٰمٓ السجدۃ اس حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے، چھ رکوعوں پر مشتمل اس مختصر سی سورت میں چھ مرتبہ قرآن کا حوالہ آیا ہے۔

            یہاں پر یہ نکتہ بھی مد ِنظر رکھنا چاہیے کہ زیر مطالعہ سورتوں کا مرکزی مضمون ’’توحید عملی‘‘ ہے اور ’’دعوت‘‘ کا یہ مضمون بھی اسی مضمون کا تسلسل ہے۔ اس تسلسل کو ذہن میں تازہ رکھنے کے لیے زیر مطالعہ سورتوں کے مضامین کی اس ترتیب کو ایک دفعہ پھر سے دہرا لیجیے کہ سورۃ الزمر اور سورۃ المؤمن میں توحید عملی کا مضمون انفرادی سطح پر بیان ہوا ہے۔ سورۃ الزمر میں توحید فی العبادت پر زور دیا گیا ہے جبکہ سورۃ المؤمن میں توحید فی الدعاء کے حوالے سے تاکید ہے۔ البتہ عبادت اور دعا کے ساتھ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّیْن کی شرط ان دونوں سورتوں میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس کے بعد سورۂ حٰمٓ السجدۃ اور سورۃ الشوریٰ میں توحید عملی کا مضمون بتدریج اجتماعیت کی طرف بڑھتا ہے۔ اجتماعیت کے حصول کے لیے چونکہ جدوجہد کا آغاز دعوت سے ہوتا ہے، اس لیے سورۂ حٰمٓ السجدۃکا مرکزی مضمون دعوت اِلی اللہ ہے۔ البتہ اس مرکزی مضمون کے ساتھ ساتھ مکی سورتوں کے عام مضامین اور بعض علمی نکات بھی اس سورت میں ملیں گے۔ 

UP
X
<>