April 13, 2021

قرآن کریم > الجاثية >sorah 45 ayat 5

وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاء مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

نیز رات اور دن کے آنے جانے میں ، اور اﷲ نے آسمان سے رزق کا جو ذریعہ اُتارا، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہوجانے کے بعد نئی زندگی دی، اُس میں اور ہواؤں کی گردش میں اُن لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں

آیت ۵   وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ: ’’اور رات اور دن کے اختلاف میں‘ اور اس میں جو اللہ آسمان سے رزق اُتارتا ہے‘‘

          رزق سے مراد یہاں بارش کا پانی ہے جو زمین سے روزی کے نکلنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بارش کے پانی کا نزول گویا انسانوں اور دوسرے جانداروںکے لیے رزق کا نزول ہے۔

           فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا: ’’پھر زندہ کر دیتا ہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد‘‘

          وہ زمین جو بنجر اور بے آب و گیاہ پڑی تھی بارش کے برستے ہی ہریالی اور طرح طرح کے نباتات کے لباس میں ملبوس نظر آنے لگی۔

           وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ: ’’اور ہوائوں کے چلنے میں‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘

          یہاں پر سورۃ البقرۃ کی وہ آیت ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیں جسے میں نے ’’آیت الآیات‘‘ کا عنوان دیا تھا:

 اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ:

 ’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں‘ اور رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں‘ اور اُن کشتیوں (اورجہازوں) میں جوسمندر میں (یا دریائوں میں) لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں‘ اور اُس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے‘ پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد‘ اور ہر قسم کے حیوانات (اور چرند پرند) اس کے اندر پھیلادیے‘ اور ہوائوں کی گردش میں‘ اور ان بادلوں میں جو معلق    کر دیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘

          گویا سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں جو نشانیاں بیان ہوئی ہیں ان میں سے اکثر کا ذکر زیر مطالعہ تین آیات میں آ گیا ہے۔

UP
X
<>