June 23, 2024

قرآن کریم > محمّـد >sorah 47 ayat 8

وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ

اور جن لوگوں نے کفر اَپنالیا ہے، اُن کیلئے تباہی ہے، اور اﷲ نے اُن کے اعمال اکارت کرد یئے ہیں

آیت ۸ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّہُمْ وَاَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ: ’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تواُن کے لیے نا کامی ہے اور وہ ان کے تمام اعمال کو برباد کر دے گا۔‘‘

          تَعْس کا معنی ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرنا ہے‘ گویا ناکام و نامراد اور ذلیل و رسوا ہونا۔ اور اس سے مراد ہلاکت بھی ہے۔ یعنی جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی وہ دنیا کی زندگی میں بھی خائب و خاسر اور ذلیل و رسوا ہوں گے‘ ٹھوکریں کھا کر منہ کے بل گرنا ان کا مقدر ہو گا۔ قیامت کے دن ایسے لوگ راندئہ درگاہ کر دیے جائیں گے اور حصولِ دنیا کے لیے کی جانے والی ان کی تمام جدوجہد ان کے کسی کام نہیں آسکے گی۔

UP
X
<>