September 26, 2020

قرآن کریم > الفتح

الفتح

سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے فوراًبعد نازل ہوئی۔ غزوۂ احزاب (۵ ہجری) کے بعدرسول اللہ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمادیا تھا: ((لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ)) کہ اب قریش میں تم پر چڑھائی کرنے کے لیے دم نہیں رہا‘ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ ۶ ہجری میں حضور نے عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو۱۴۰۰ (بعض روایات کے مطابق۱۸۰۰ ) صحابہ بھی آپ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ چنانچہ آپؐ صحابہؓ کے ساتھ حالت احرام میں سفر کرتے ہوئے حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے۔ آپؐ کے اس اقدام نے قریش مکہ کو ایک بہت بڑے امتحان میں ڈال دیا۔ قریش ِمکہ مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک بھی نہیں سکتے تھے‘کیونکہ بیت اللہ کے طواف سے کسی کو روکنا عرب روایت ہی کے خلاف تھا۔ دوسری طرف انہیں یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں دندناتے ہوئے مکہ میں داخل ہوں‘پورے شہر میں آزادی سے گھومیں پھریں اور تمام قبائل میں یہ تأثر پھیلائیں کہ پچھلے اٹھارہ سال سے جاری کش مکش میں وہ جیت گئے ہیں اور قریش کو شکست ہوگئی ہے۔ چنانچہ چارو ناچار قریش نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کسی قیمت پر بھی مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیںہونے دیں گے اور اپنے اس فیصلے کے بارے میں انہوں نے مسلمانوں کو باقاعدہ آگاہ کر دیا۔

            ان حالات میں حضور نے حضرت عثمان غنی کو بات چیت کے لیے مکہ بھیجا تو قریش نے ان کو مکہ ہی میں روک لیا۔ اس دوران میں انؓ کے بارے میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ قریش نے انہیں شہید کر دیا ہے۔ اس پر حضور نے صحابہؓ سے ایک خصوصی بیعت کا اہتمام فرمایا۔اس بیعت کے ذریعے موقع پر موجود تمام صحابہؓ نے عہد کیا کہ وہ یہاں سے واپس نہیں جائیں گے اور آپؐ کے حکم پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ تاریخ میں اس بیعت کو بیت رضوان‘ بیعت عَلٰی اَنْ لَا نَفِرَّیا بیعت علی الموت کا نام دیا گیا ہے۔ اس بیعت کے وقت آپ ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ‘اس لیے اسے ’’بیعت الشجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جب اس بیعت کی خبر مکہ پہنچی تو قریش کو اس صورت ِحال کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑا۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ مسلمانوں میں کوئی ایک فرد بھی پیچھے ہٹنے والا نہیںہے اور یہ بھی کہ جب یہ لوگ کوئی عہد کر تے ہیں تو اسے ہر صورت نبھاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں۔ انہوں نے حضرت عثمان  کو بھی واپس بھیج دیا اور قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو کی قیادت میں ایک وفد بھی صلح کی بات چیت کرنے کے لیے حضور کے کیمپ میں پہنچ گیا۔ یہ مذاکرات بالآخر صلح پر منتج ہوئے جسے تاریخ میں ’’صلح حدیبیہ‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔

            اس صلح نامہ کی اوّلین شرط یہ تھی کہ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی۔ دوسرے یہ کہ قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا اُسے اس کا اختیار ہو گا۔ تیسرے یہ کہ محمد اور آپؐ کے ساتھی اس وقت عمرہ اداکیے بغیر واپس چلے جائیں گے اور آئندہ سال وہ عمرے کے لیے آ کر تین دن تک مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں‘ بشرطیکہ پرتلوں میں ایک ایک تلوار کے سوا کوئی سامانِ حرب ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں کے لیے اہل مکہ شہر خالی کر دیں گے۔ مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں سے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔

            بظاہر اس صلح کی شرائط بہت غیر متوازن تھیں۔ ان شرائط سے یوں لگتا تھا جیسے مسلمانوں کو جھک کر صلح کرنی پڑی ہے‘ بلکہ بعض شرائط سے تومسلمانوں کی سبکی کا تاثر بھی ملتا تھا۔ مثلاً ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ آ جائے تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے ‘لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ سے مدینہ چلا جائے تو مسلمانوں کو اسے واپس کرنا ہو گا۔ اتفاق سے اسی شرط کے حوالے سے عین موقع پر مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بھی آن پڑی۔ ہوا یوں کہ جونہی صلح نامہ کی تحریر مکمل ہوئی تو ایک مسلمان نوجوان ابوجندلh قریش کی قید سے فرار ہو کر مسلمانوں کے کیمپ میں آ پہنچے۔ حضرت ابوجندلh سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے جو مذاکرات کے لیے   قریش کا سفیرتھا اوراس وقت تک مسلمانوں کے کیمپ ہی میں موجود تھا۔ اس نے معاہدے کے مطابق اپنے بیٹے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ متعلقہ شرط کے مطابق مسلمان حضرت ابو جندلؓ کو واپس کرنے کے پابند تھے۔ ادھر ابوجندل ؓ دہائی دے رہے تھے کہ انہیں دوبارہ ان قصائیوں کے حوالے نہ کیا جائے۔ ادھر چونکہ معاہدے کی شرائط طے ہو چکی تھیں اس لیے حضور نے ابوجندل ؓ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ابو جندل! تم صبرکرو‘ ہم معاہدہ کر چکے ہیں اور ہم پر معاہدے کی پابندی لازم ہے‘‘۔ چنانچہ حضور کے حکم پر حضرت ابوجندلؓ کو سہیل بن عمرو کے سپرد کر دیا گیا۔ اس وقت مسلمانوں کی صفوں میں ایسی رقت آمیز صورتِ حال پیدا ہو گئی جسے برداشت کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ مسلمانوں کا پورا لشکر مضطرب تھا۔ کوئی شخص بھی اُن مصلحتوں کو نہیں سمجھ رہا تھا جنہیں نگاہ میں رکھ کر نبی اکرم یہ شرائط قبول فرما رہے تھے۔ اسی جذباتی کیفیت میں حضرت عمر رسول اللہ سے وہ مکالمہ بھی کر بیٹھے جس کا انہیں ساری عمر شدید رنج رہا۔ حضرت عمرؓ نے حضورؐ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ حضورؐ نے جواب دیا :ہاں ہم حق پر ہیں۔ حضرت عمرؓ نے پھر پوچھا :کیا آپؐ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟آپؐ نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ؐ ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پھر پوچھا کہ ہم اس قدر دب کر کیوں صلح کر رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں وہی کر رہا ہوں جس کا مجھے اللہ نے حکم دیا ہے۔

            اسی طرح کا واقعہ اس دوران حضرت علی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت علی صلح نامہ لکھ رہے تھے‘جبکہ حضور املا کروا رہے تھے۔ جب حضورؐ نے یہ فقرہ لکھوایا کہ یہ ’’صلح نامہ محمد رسو ل اللہ اور قریش مکہ کے مابین طے پایا ہے‘‘ تو اس پر سہیل بن عمرو نے اعتراض کر دیا کہ ہم چونکہ آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے اس لیے آپؐ ’’رسول اللہ‘‘ کے الفاظ عبار ت سے حذف کر ادیں۔ حضور نے مسکرا کر فرمایا کہ تم مانو یا نہ مانو میں اللہ کا رسول ہوںاور ساتھ ہی آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ’’رسول اللہ‘‘کے الفاظ حذف کر کے عبارت یوں لکھی جائے کہ یہ صلح نامہ محمد بن عبداللہ اور قریش کے مابین طے پایاہے۔ اس پر حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ آپؐ کے نام کے ساتھ لکھے ہوئے ان الفاظ کو میں اپنے ہاتھ سے نہیں مٹا سکتا۔ اس پر حضور نے ’’رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کو خود اپنے ہاتھوں سے حذف کر کے معاہدے کی عبارت مکمل کرائی۔ اگرچہ حضرت عمر اور حضرت علیi کا مذکورہ طرز عمل غیرتِ حق اور حمیت ِدینی کا مظہر تھا لیکن ایسے مواقع کے لیے عام قاعدہ یہی ہے کہ ’’اَلاَمْرُ فَوْقَ الاَدَب‘‘ یعنی حکم کو ادب پر تر جیح دی جائے۔

             صلح نامہ پر فریقین کے دستخط ہو جانے کے بعد حضور نے اسی جگہ پر احرام کھولنے اور قربانی کے جانور ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حضور کے اتباع میں اگرچہ سب نے احرام بھی کھول دیے اور قربانی کے جانور بھی ذبح کر دیے لیکن عملی طور پر اس وقت ہر مسلمان دل گرفتہ اور شدتِ غم سے نڈھال تھا۔ یہ وہ صورت حال تھی جس میں یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوںکی دلجوئی کے لیے حضوصی طور پر اس کے آغاز میں ایک بہت بڑی خوشخبری کا اعلان فرمایا: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا: یعنی اے مسلمانو! تم لوگ تو سمجھ رہے ہو کہ تمہیں بہت دب کر صلح کرنی پڑی ہے لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس صلح نامہ کے پردے میں ہم نے اپنے رسول کو ایک عظیم الشان فتح عطا فرمائی ہے۔ بعد میں آنے والے حالات سے ثابت بھی ہو گیا کہ صلح حدیبیہ مسلمانوں کے لیے واقعی فتح مبین تھی۔ بہر حال اس میں سب سے بڑی کامیابی تو یہی تھی کہ قریش مکہ نے مسلمانوں سے معاہدہ  کر کے انہیں اپنے برابر کا ایک فریق تسلیم کر لیا تھا۔ 

UP
X
<>