April 24, 2024

قرآن کریم > الحُـجُـرات >sorah 49 ayat 11

 يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ 

اے ایمان والو ! نہ تو مرد دُوسرے مردوں کا مذاق اُڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اُڑا رہے ہیں ) خود اُن سے بہتر ہوں ، اور نہ عورتیں دُوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اُڑا رہی ہیں ) خود اُن سے بہتر ہوں ۔ اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو، اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے۔ اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں ، تو وہ ظالم لوگ ہیں

آیت ۱۱ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ  ’’اے اہل ایمان !تم میں سے کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے‘ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں‘‘

            ممکن ہے مدمقابل شخص کی کوئی خوبی اس کے ظاہری عیب کے مقابلے میں بہت بڑی ہو۔ مثلاً آپ جس شخص کی بھدی ناک یا چھوٹے کان کا مذاق اڑا رہے ہوں ممکن ہے اس کے دل کا تقویٰ تمہارے تقویٰ کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہو۔ یا ممکن ہے وہ تمہارے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول  سے ہزار گنا زیادہ محبت کرتا ہو۔

             وَلَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ ’’ (اسی طرح) عورتیں بھی دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں‘ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔‘‘

             گویا پہلے حکم میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنے اپنے حلقوں میں ایک دوسرے کا مذاق اور تمسخر اڑانے سے منع کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلے کا دوسرا حکم ملاحظہ ہو:

             وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ  ’’اور اپنے آپ کو عیب مت لگائو‘‘

            اپنے بھائی بندوں پر عیب لگانے سے منع کرنے کا یہ بہت ہی بلیغ انداز ہے کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگائو۔ یعنی کسی کو عیب لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لو کہ وہ تمہاری اپنی ہی ملت کا ایک فرد ہے اور اپنی ملت کے کسی فرد کو عیب لگانا گویا خود اپنے آپ ہی کو عیب لگانے کے مترادف ہے۔

             وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ’’اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے چڑانے والے نام رکھا کرو۔‘‘

            یہ تیسرا حکم ہے کہ کسی فرد یا کسی گروہ کے اصل نام کو چھوڑ کر اس کے لیے کوئی ایسا نام نہ رکھ لوجو اسے پسند نہ ہو۔ یہ ایک مذموم اور ناپسندیدہ حرکت ہے۔

             بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ  ’’ایمان کے بعد تو برائی کا نام بھی برا ہے۔‘‘

            تم تو وہ لوگ ہو جن کے دل ایمان کے نور سے منور ہو چکے ہیں۔ یہ بہت بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو نوازا ہے۔ ایسے اعلیٰ مقام و مرتبے پر فائز ہوجانے کے بعد ایسی گھٹیا حرکات کا ارتکاب اب تمہارے شایانِ شان نہیں۔

             وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ   ’’اور جو باز نہیں آئیں گے وہی تو ظالم ہیں۔‘‘

            پچھلے فقرے میں معیوب روش کو ترک کرنے کے لیے ترغیب و تشویق کی جھلک تھی جبکہ ان الفاظ میں اس روش سے تائب ہو کر باز نہ آنے والوں کے لیے زجرو توبیخ کا انداز پایا جاتا ہے ۔ممکن ہے کوئی شخص بادی ٔالنظر میں مذکورہ برائیوں کو معمولی سمجھے ‘لیکن کسی معاشرے یا تنظیم میں ایسی برائیوں کا عادتاً رائج ہو جانا انتہائی نقصان دہ ہے۔

            گزشتہ آیت میں جن تین برائیوں کا ذکر ہوا ہے ان کا ارتکاب عام طور پر دوسرے فریق کے رو برو کیا جاتا ہے ‘جبکہ اگلی آیت میں تین ایسے رذائل سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو عموماً کسی فرد کی پیٹھ پیچھے سرزد ہوتے ہیں۔

UP
X
<>