April 16, 2021

قرآن کریم > الحُـجُـرات >sorah 49 ayat 3

إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ

یقین جانو جو لوگ اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں ، یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے خوب جانچ کر تقویٰ کیلئے منتخب کر لیا ہے۔ اُن کو مغفرت بھی حاصل ہے، اور زبردست اَجر بھی

آیت ۳  اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی:  ’’بے شک وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اللہ کے رسولؐ کے سامنے, یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے جانچ پرکھ کر چُن لیا ہے تقویٰ کے لیے۔

  پچھلی آیت میں جو حکم منفی انداز میں دیا گیا ہے اسی حکم کو اب شاباش کے لیے مثبت انداز میں دہرایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول کے ادب کے حوالے سے آپ کے صحابہ كرام کا طرزِ عمل اس قدر پسند آیا ہے کہ اس بنیاد پر اُس نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے نور سے خصوصی طور پر منور کرنے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔

             لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ:  ’’ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھى۔

UP
X
<>