February 22, 2024

قرآن کریم > المائدة >surah 5 ayat 6

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ 

اے ایمان والو ! جب تم نماز کیلئے اُٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو، اور اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو) ۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارے جسم کو (غسل کے ذریعے) خوب اچھی طرح پاک کرو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے جسمانی ملاپ کیا ہو، اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس (مٹی) سے مسح کر لو۔ اﷲ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کر دے، تاکہ تم شکر گذار بنو

یت 6:   یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا قُمْتُمْ  اِلَی الصّلٰوۃِ:  ،،اے اہل ِایمان ! جب تم کھڑے ہو نماز کے لیے،،

              یعنی نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو۔

             فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ:  ،،تو دھو لیا کرو اپنے چہرے  اور دونوں  ہاتھ بھی کہنیوں  تک،،

      وَامْسَحُوْا بِرُؤُوْسِکُمْ :  ،،اور اپنے سروں  پر مسح کر لیا کرو،،

             وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْـکَعْبَیْنِ:   ،،اور (دھو لیا کرو)  اپنے دونوں  پاؤں  بھی ٹخنوں  تک۔ ،،

            یہاں  پر واضح رہے کہ اَرْجُلَکُمْ اوراَرْجُلِکُمْ دونوں  قراء تیں  مستند ہیں ،  لہٰذااہل تشیّع اس کو مستقلاً، اَرْجُلِکُمْ پڑھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس میں  پاؤں  پر مسح کا حکم ہے۔  چنانچہ وہ   وَامْسَحُوْا بِرُؤُوْسِکُم وَاَرْجُلِکُمْ:   کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں : ،،اور مسح کر لیا کرو اپنے سروں  پر بھی اور اپنے پاؤں  پر بھی،،۔  لیکن اہل ِسنت کے نزدیک یہ  اَرْجُلَکُم ہے اور  اِلَی الْکَعْبَیْنِ کے اضافے سے یہاں پاؤں  کو دھونے کا حکم بالکل واضح ہو گیا ہے۔ اگر صرف مسح کرنا مطلوب ہوتا تواس میں  کوئی حد بیان کرنے کی ضرورت نہیں  تھی۔  لہٰذا   اِلَی الْـکَعْبَیْن کی شرط سے یہ ٹکڑا  فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِق.   کے بالکل مساوی ہو گیا ہے۔  جیسے ہاتھوں  کا دھونا ہے کہنیوں  تک، ایسے ہی پاؤں  کا دھونا ہے ٹخنوں  تک۔  اس حکم میں  وضو کے فرائض بیان ہوئے ہیں ۔

             وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُـبًا فَاطَّہَّرُوْا:   ،،اور اگر تم حالت ِجنابت میں  ہو تو پھر تم اور زیادہ پاکی حاصل  کرو۔،،

            یعنی پورے جسم کا غسل کرو۔  جنابت کی حالت میں  نماز پڑھنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائزنہیں۔

             وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ:  ،،اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو،،

             اَوْ جَآء اَحَدٌ مِّنْـکُمْ مِّنَ الْغَـآئِطِ:  ،،یاتم میں سے کوئی کسی نشیبی جگہ سے ہو کر آئے،،

            یہ استعارہ ہے قضائے حاجت کے لیے۔  عام طور پر لوگ قضائے حاجت کے لیے نشیبی جگہوں  پر جاتے تھے۔   

             اَوْ لٰـمَسْتُمُ النِّسَآء :   ،،یاتم نے عورتوں  سے مقاربت کی ہو،،

             فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءا:   ،،اور تمہیں  پانی دستیاب نہ ہو،،

             فَـتَـیَـمَّمُوْا صَعِیْدًا طَـیِّبًا :   ،،تو ارادہ کر لو پاک مٹی کا،،

             یعنی پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔

             فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ:   ،،تو اس سے اپنے چہرے  اورہاتھوں  کو مل لو۔ ،،

             مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ:   ،،اللہ یہ نہیں  چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے،،

             وَّلٰــکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَہِّرَکُمْ:  ،،بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں  پاک کر دے،،

             وَلِیُـتِمَّ نِعْمَتَہ عَلَـیْـکُمْ  لَـعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ:   ،،اور تم پر اپنی نعمت کا اِتمام فرمائے تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔ ،،

UP
X
<>