April 24, 2024

قرآن کریم > المائدة >surah 5 ayat 7

وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُواْ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ 

اﷲ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اُس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ : ’’ ہم نے (اﷲ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کر لی ہے۔ ‘‘ اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ اﷲ یقینا سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے

ٓیت 7:   وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہ:   ،،اور اللہ نے تمہیں  جو اپنی نعمت عطا کی ہے اس کو یاد رکھو اور اس معاہدے کو بھی جو اُس نے تم سے باندھ لیا ہے (یا جس میں  اس نے تمہیں  باندھ لیا ہے)،،

             ایک میثاق وہ تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا، اب ایک میثاق یہ ہے جو اہل ِایمان سے ہو رہا ہے۔  چونکہ یہ سورۃ شروع ہوئی تھی  یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ سے،  یعنی  اہل ِ ایمان سے خطاب ہے، لہٰذا اس میثاق میں  بھی اہل ایمان ہی مخاطب ہیں ۔  

             اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا:  ،،جب تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی۔ ،،

            سورۃ البقرۃ کی (آخری آیت سے پہلے والی آیت میں اہل ِایمان کا یہ اقرار موجود ہے:  سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّــنَا وَاِلَـیْکَ الْمَصِیْرُ۔  اب جو مسلمان بھی سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہتا ہے وہ گویا ایک میثاق اور ایک بہت مضبوط معاہدے کے اندر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندھ جاتا ہے۔  یعنی اب اُسے اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی ہے۔  

             وَاتَّـقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِذَاتِ  الصُّدُوْرِ:    ،،اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو،  یقینا اللہ تعالیٰ سینوں  کے رازوں  سے بھی واقف ہے۔ ،،

UP
X
<>