May 24, 2024

قرآن کریم > المائدة >surah 5 ayat 8

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والو ! ایسے بن جاؤ کہ اﷲ (کے احکام کی پابندی) کیلئے ہر وقت تیار ہو، (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ناانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ اﷲ یقینا تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے

آیت8:  یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَـوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بِالْقِسْطِ:   ،،اے لوگو  جو ایمان لائے ہو،  اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ،،

            یہاں  پر سورۃ النساء کی آیت: 135 کا حوالہ ضروری ہے۔  سورۃ النساء کی آیت 135 اور زیر مطالعہ آیت (المائدۃ: 8)  میں  ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے،  فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب عکسی ہے (دونوں  سورتوں  کی نسبت ِزوجیت بھی مد ّنظر رہے) ۔  وہاں  الفاظ آئے ہیں:  یٰٓـــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَــوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء لِلّٰہِ:   اوریہاں  الفاظ ہیں :  یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَــوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بِالْقِسْط ۔  ایک حقیقت تو میں  نے اُس وقت بیان کر دی تھی کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا ،،اللہ،، اور ،،قسط،، مترادف ہیں ۔ ایک جگہ فرمایا: ،،قسط کے لیے کھڑے ہوجاؤ،، اور دوسری جگہ فرمایا: ،،اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ،،۔  اسی طرح ایک جگہ ،،اللہ کے گواہ بن جاؤ،، اور دوسری جگہ ،،قسط کے گواہ بن جاؤ،، فرمایا۔  تو گویا ،،اللہ،، اور ،،قسط ،، ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر آئے ہیں ۔  

            دوسرا اہم نکتہ اِس آیت سے ہمارے سامنے یہ آرہا ہے کہ معاشرے میں  عدل قائم کرنے کا حکم ہے۔  انسان فطرتاً انصاف پسند ہے۔  انصاف عام انسان کی نفسیات اوراس کی فطرت کا تقاضا ہے۔ آج پوری نوعِ انسانی انصاف کی تلاش میں  سرگرداں  ہے۔  انصاف ہی کے لیے انسان نے بادشاہت سے نجات حاصل کی اور جمہوریت کو اپنایا تاکہ انسان پر انسان کی حاکمیت ختم ہو،  انصاف میسر آئے،  مگر جمہوریت کی منزل سراب ثابت ہوئی اور ایک دفعہ  انسان پھر سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)  کی لعنت میں  گرفتار ہو گیا۔  اب سرمایہ دار اس کے آقا اور ڈکٹیٹر بن گئے۔  اس لعنت سے نجات کے لیے اُس نے کمیونزم (Communism)  کا دورازہ کھٹکھٹایا مگر یہاں  بھی متعلقہ پارٹی کی آمریت (One Party Dictatorship)   اس کی منتظر تھی۔  گویا ،،رُست ازیک بند تا اُفتاد دربندے دِگر،، یعنی ایک مصیبت سے نجات پائی تھی کہ دوسری آفت میں  گرفتار ہو گئے۔  اب انسان عدل اور انصاف حاصل کرنے کے لیے کہاں  جائے؟  کیا کرے؟  یہاں  پر ایک روشنی تو انسان کو اپنی فطرت کے اندر سے ملتی ہے کہ اس کی فطرت انصاف کا تقاضا کرتی ہے اور اپنی فطرت کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے وہ عدل قائم کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے، مگر اس سے اوپر بھی ایک منزل ہے اور وہ یہ ہے کہ ،،العدل،، اللہ کی ذات ہے جس کا دیا ہوا نظام ہی عادلانہ نظام ہے۔  ہم اُس کے بندے ہیں،  اُس کے وفادار ہیں ،  لہٰذا اُس کے نظام کو قائم کرنا ہمارے ذمے ہے، ہم پر فرض ہے۔  چنانچہ  یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَــوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بِالْقِسْطِ:  میں  اسی بلند تر منزل کا ذکر ہے۔  یہ صرف فطرتِ انسانی ہی کا تقاضا نہیں  بلکہ تمہاری  عبدیت کا تقاضا بھی ہے۔  اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کے رشتے کا تقاضا ہے کہ پوری قوت کے ساتھ، اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ، جو بھی اسباب و ذرائع میسر ہوں  ان سب کو جمع کرکے کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے! یعنی اللہ کے دین کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ۔  اور اس دین میں  جو تصور ہے عدل،  انصاف اور قسط کا اُس عدل و انصاف اور قسط کو قائم کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔  یہ ہے اس حکم کا تقاضا۔  

            اب دیکھئے، وہاں (سورۃ النساء آیت: 135 میں)  کیا تھا: ،،اے ایمان والو! انصاف کے علمبرداراور اللہ واسطے کے گواہ بن جاؤ،،۔   وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ:  ،،اگرچہ اس کی (تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی) زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں  پر ہی کیوں  نہ پڑتی ہو۔ ،،

             انصاف سے روکنے والے عوامل میں  سے ایک اہم عامل مثبت تعلق یعنی محبت ہے۔  اپنی ذات سے محبت،  والدین اور رشتہ داروں  وغیرہ کی محبت انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ میں  اپنے خلاف کیسے فتویٰ دے دوں ؟ اپنے ہی والدین کے خلاف کیونکر فیصلہ سنا دوں ؟ سچی گواہی دے کر اپنے عزیز رشتہ دارکو کیسے پھانسی چڑھا دوں ؟لہٰذا،،وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ …،،فرما کر اس نوعیت کی تمام عصبیتوں  کی جڑکاٹ دی گئی کہ بات اگر حق کی ہے، انصاف کی ہے تو پھر خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں  نہ جا رہی ہو،  تمہارے والدین پر ہی اس کی زد کیوں  نہ پڑ رہی ہو،  تمہارے عزیز رشتہ دار ہی اس کی کاٹ کے شکار کیوں  نہ ہو رہے ہوں ، اس کا اظہار بغیر کسی مصلحت کے ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ہے۔  

            اس سلسلے میں  دوسرا عامل منفی تعلق ہے، یعنی کسی فرد یا گروہ کی دشمنی،  جس کی وجہ سے انسان حق بات کہنے سے پہلو تہی کر جاتا ہے۔  وہ سوچتا ہے کہ بات تو حق کی ہے مگر ہے تو وہ میرا دشمن،  لہٰذا اپنے دشمن کے حق میں  آخر کیسے فیصلہ دے دوں ؟ آیت زیر نظر میں  اس عامل کو بیان کرتے ہوئے دشمنی کی بنا پر بھی کتمان ِحق سے منع کر دیا گیا :

             وَلاَ یَجْرِمَنَّـکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا:   ،،اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں  اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم عدل سے منحرف ہو جاؤ۔ ،،

             اِعْدِلُوْا:  ،،عدل سے کام لو،،

             ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّـقْوى:     ،،یہی قریب تر ہے تقویٰ کے،،

             وَاتَّـقُوا اللّٰہَ  اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ :   ،،اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔   جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ یقینا اس سے باخبر ہے۔ ،،

             ّتمہارا کوئی عمل اورکوئی قول اس کے علم سے خارج نہیں،  لہٰذا ہر وقت چوکس رہو، چوکنے رہو۔  (آیت زیر نظر اور سورۃ النساء کی آیت: 135 کے معانی و مفہوم کا باہمی ربط اور الفاظ کی عکسی اور reciprocal  ترتیب کا حسن لائق ِتوجہ ہے۔)   

UP
X
<>