September 26, 2020

قرآن کریم > الحـديد

الحـديد

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ 

سورة الحديد

تمهيدى كلمات

سورة الحديد سے قرآن حكيم كى مكى مدنى سورتوں كے چھٹے گروپ كى مدنى سورتوں كے سلسلے كا آغاز هو رها هے جو سورة التحريم پر اختتام پذير هوگا. اس ضمنى گروپ ميں دس مدنى سورتيں هيں. ان سورتوں كا حجم تقريبًا سوا پارے كے برابر هے، ليكن تعداد كے اعتبار سے يه پورے قرآن ميں مدنى سورتوں كا سب سے بڑا گلدسته هے. اس حوالے سے پهلے پانچ گروپ كى مدنى سورتوں كى ترتيب كو ايك دفعه پھر سے ذهن ميں تازه كر ليں. پهلے گروپ ميں سورة البقرة، سوره آل عمران، سورة النساء اور سورة المائدة چار مدنى سورتيں هيں جو تقريبا سوا چھ پاروں پر پھيلى هوئى هيں اور حجم كے اعتبار سے يه مدنى قرآن كا سب سے بڑا گلدسته هے. اس كے بعد دوسرے گروپ ميں سورة الانفال اور سورة التوبه دو مدنى سورتيں هيں. پھر تيسرے اور چوتھے گروپ ميں صرف ايك ايك مدنى سورت هے، يعنى تيسرے گروپ ميں سورة النور اور چوتھے گروپ ميں سورة الاحزاب. جبكه پانچويں گروپ ميں سوره محمد، سورة الفتح اور سورة الحجرات تين مدنى سورتيں هيں.

زير مطالعه گروپ كى مدنى سورتوں كى دوسرى خصوصيت يه هے كه ان ميں پانچ سورتوں كا آغاز سَبَّحَ للهِ يا يُسَبِّحُ للهِ سے هوتا هے. يعنى ان كے آغاز ميں الله كى تسبيح كا ذكر فعل ماضى ميں بھى هے اور فعل مضارع ميں بھى. عربى كا فعلِ مضارع چونكه حال اور مستقبل دونوں زمانوں كے معنى ديتا هے اس ليے ماضى اور مضارع كے ان دو صيغوں سے گويا پورے زمانے كا كلى طور پر احاطه هو گيا هے كه آسمانوں اور زمين كے اندر جو چيز بھى هے اس نے هميشه الله كى تسبيح بيان كى هے، هر چيز اب بھى اس كى تسبيح بيان كر رهى هے اور آينده بھى هميشه اس كى تسبيح كرتى رهے گى. ان سورتوں كے آغاز كے اس مضمون كى مناسبت سے انهيں اَلْمُسَبِّحَات كا نام ديا گيا هے. بعض لوگ سورة الاعلى كو بھى اَلْمُسَبِّحَات كے اس گروپ ميں شامل كرتے هيں، ليكن يه سورت اس لحاظ سے ان سے مختلف هے كه اس كے آغاز ميں تسبيح كا صيغه فعلِ امر (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى) يعنى حكم كى صورت ميں آيا هے. اب تك كى گفتگو كا خلاصه يه هے كه مكى مدنى سورتوں كے زير مطالعه (چھٹے) گروپ ميں دس مدنى سورتيں هيں جن ميں سے پانچ اَلْمُسَبِّحَات هيں اور سورتوں كى تعداد كے اعتبار سے يه مدنى سورتوں كا سب سے بڑا گلدسته هے.

ان مدنى سورتوں كے بارے ميں تيسرى اهم بات ياد ركھنے كى يه هے كه يه سب سورتيں (سوائے سورة التغابن كے) آنحضور صلى الله عليه وسلم كے مدنى دور كے نصف آخر ميں يعنى سن 5 هجرى كے بعد نازل هوئيں. يه وه دور تھا جب مسلمانوں كى صفوں ميں جوشِ جهاد، ذوقِ شهادت، جذبه انفاق وغيره كے حوالے سے بحيثيت مجموعى ضعف واضمحلال كے آثار نماياں هو رهے تھے. اس كا مطلب (معاذ الله) يه هرگز نهيں كه «السابقون الأولون» كے جذبے ميں كوئى كمى آ گئى تھى، بلكه اس كى وجه يه تھى كه اب مسلمانوں كى مجموعى تعداد ميں اكثريت ان لوگوں كى تھى جو هجرت كے بعد ايمان لائے تھے اور وه سب لوگ تربيت اور آزمائش وابتلاء كے ان تمام مراحل سے نهيں گزرے تھے جن كا سامنا مكى دور كے اهلِ ايمان كر چكے تھے. چونكه ابتدائى دور كے مسلمانوں كے مقابلے ميں نئے شامل هونے والوں كى تعداد زياده تھى، اس ليے جماعت كے اجتماعى كردار وعمل پر بھى ان هى كا رنگ غالب تھا. ظاهر هے اس رنگ كے «اوسط معيار» كو السابقون الأولون كے خصوصى معيار كے پيمانه سے نهيں پركھا جا سكتا تھا.

مسلمانوں كى صفوں مذكوره ضعف كا ذكر سورة الانفال كى آيت: 66 ميں (عَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا) كے الفاظ ميں بھى آيا هے. آيات: 65، 66 كے مضمون كا خلاصه يه هے كه پهلے تو ايك مؤمن دس كفار پر بھارى هو سكتا تھا، ليكن اب چونكه تم ميں كمزورى آ چكى هے اس ليے اب هم نے تمهارے مقابلے كے معيار ميں بھى نرمى كر دى هے. چنانچه اب اگر تم اپنے سے دو گنا كفار كا مقابله بهادرى اور جواں مردى سے كرو گے تو هم ان پر تم لوگوں كو فتح ديں گے. بهرحال مذكوره كمزورى كے اثرات كے باعث ان سورتوں ميں جا بجا مسلمانوں كو جھنجوڑنے اور ان كى گرفت كرنے كا انداز ملتا هے. اس حوالے سے سورة الصف كى دوسرى آيت كا اسلوب بهت واضح هے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ)  «اے اهلِ ايمان! كيا هو گيا هے تمهيں، كيوں كهتے هو وه جو كرتے نهيں هو؟» سورة الحديد كى اس آيت كا انداز بھى بالكل ايسا هى هے:  (وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ) {آيت: 8} «تمهيں كيا هے، تم الله پر پخته ايمان كيوں نهيں ركھتے؟» پھر زير مطالعه سورت يعنى سورة الحديد كى اس آيت كا لب ولهجه بھى ملاحظه كريں: (وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ) {آيت: 10}  «تمهيں كيا هو گيا هے كه تم الله كى راه ميں خرچ نهيں كرتے؟» سورة الجمعه كى آخرى آيت كا يه انداز بھى بهت سخت هے: (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا) «جب انهوں نے ديكھا كسى كاروبار يا كسى اور دلچسپى كى چيز كو تو وه اس كى طرف لپك گئے اور چھوڑ گئے آپ كو (اے نبى) كھڑے هوئے».

اس سورت ميں يقينًا روئے سخن منافقين كى طرف بھى هے (ان سورتوں ميں منافقت كے موضوع پر ايك مكمل سورت {سورة المنافقون} بھى موجود هے اور پھر سورة الحديد ميں منافقت كے مرض كى علامات سے لے كر تشخيص تك گويا پورى پيتھالوجى بيان هوئى هے.) ليكن مجموعى طور پر اصل خطاب منافقين سے نهيں بلكه «ضعفا» سے هے. يعنى ان ميں ان كمزور مسلمانوں كو مخاطب كيا گيا هے جو «هر چه بادا باد» كے سے جذبے كے ساتھ هر حالت اور هر قيمت پر الله اور رسول كى اطاعت كے تقاضوں كو كما حقه پورا كرنے سے معذور هيں. چنانچه منافقت يا منافقين كے معاملے ميں ان سورتوں كا انداز سورة النساء اور سورة التوبه جيسا نهيں هے، كيوں كه ان دونوں سورتوں كى متعلقه آيات ميں اصل خطاب هى منافقين سے هے، جبكه زير مطالعه سورتوں ميں اگر كهيں مسلمانوں كى صفوں كے اندر موجود كمزورى كو موضوع بنايا گيا هے تو وهاں اصل خطاب ضعفا سے هے نه كه منافقين سے.

جهاں تك ايمان كى پختگى اور كمزورى كے حوالے سے اهلِ ايمان كے درميان انفرادى سطح پر فرق وتفاوت كا تعلق هے تو يه ايك فطرى بات هے اور يه فرق شروع سے تھا. جيسا كه سورة التوبه كى اس آيت ميں بيان هوا هے:

(وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ) {آيت: 100}

«اور پهلے پهل سبقت كرنے والے مهاجرين اور انصار ميں سے، اور وه جنهوں نے ان كى پيروى كى نيكو كارى كے ساتھ، الله ان سے راضى هو گيا اور وه الله سے راضى هو گئے».

اس آيت سے معلوم هوتا هے كه اعلى ترين درجات پر فائز اهلِ ايمان كے درميان بھى فرق تھا. كچھ لوگ «السابقون الأولون» تھے اور كچھ وه تھے جو ان كے نقش قدم پر چلے، رَضِىَ اللهُ عَنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ! (اس مضمون كى مزيد وضاحت كے ليے ملاحظه هو سورة التوبه كى آيت: 100 كى تشريح) سورة التوبه كى درج بالا آيت سے هميں يه سبق بھى ملتا هے كه اهلِ ايمان كے درجات كے فرق كو سمجھنا اور ان كا لحاظ ركھنا بهت ضرورى هے:  «گر حفظِ مراتب نه كنى زنديقى!» بهرحال جب تك اس فلسفے كو نهيں سمجھا جائے گا نه «كمزور مسلمان» كى اصلاح سمجھ ميں آئے گى اور نه هى ان آيات كا مفهوم واضح هو گا جن ميں «ضعفا» يعنى كمزور مسلمانوں كو مخاطب كيا گيا هے.

«حفظِ مراتب» كا يه فلسفه آج كل هم جيسے مسلمانوں كو «اهلِ ايمان» كى صفوں ميں جگه دلانے كا جواز اور راسته بھى فراهم كرتا هے. اس ميں كوئى شك نهيں كه هم لوگ نسلى مسلمان هيں، يعنى هم ميں سے اكثر اس ليے مسلمان هيں كه هم مسلمان والدين كے گھر پيدا هوئے هيں. اس ميں همارے ارادے، اختيار يا انتخاب كا قطعاً كوئى دخل نهيں هے. اسى وجه سے همارا عام مسلمان اپنے حالات اور ماحول كے مطابق الله، رسول صلى الله عليه وسلم، آخرت، نماز، روزه وغيره كا تعارف تو بچپن ميں هى سيكھ ليتا هے. ليكن ايمان حقيقى اور عمل كے اعتبار سے اس كا دامن خالى هى رهتا هے (اِلَّا ما شاء الله). اس اعتبار سے آج هم مسلمانوں كى عظيم اكثريت كا تعلق اس «مسلمانى» سے هے جس كا ذكر سورة الحجرات كى اس آيت ميں هوا هے:

(قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ) {آيت: 14}

«يه بدّو كهتے هيں: هم ايمان لے آئے هيں. (اے نبى) ان سے كهه ديجيے كه تم هرگز ايمان نهيں لائے هو، بلكه يوں كهو كه هم اسلام لے آئے هيں (يعنى هم نے اطاعت قبول كر لى هے) جبكه ايمان ابھى تمهارے دلوں ميں داخل نهيں هوا».

سورة الحجرات كے مطالعے كے دوران اس آيت كا پس منظر تفصيل سے بيان كيا گيا هے. بهرحال جس طرح اس آيت كے مخاطب لوگوں كى اكثريت نے حالات كا رخ ديكھ كر حادثاتى طور پر ايمان قبول كر ليا تھا، اسى طرح هم بھى اپنى پيدائش كے «حادثے» كى وجه سے مسلمان هيں. هم نے اسلام كو ايك موروثى نظريے كے طور پر تو قبول كر ليا هے، ليكن اس ميں كوئى شك نهيں كه همارى اكثريت ايمان اور اسلام كے تقاضے پورے كرنے كى فكر سے بالكل هى لا تعلق هو چكى هے (الّا ما شاء الله). دوسرى طرف يه حقيقت بھى اپنى جگه مسلّم هے كه ايسے تمام لوگ حقيقى ايمان سے تهى دامن هونے كے باوجود منافق نهيں اس ليے كه وه كسى كو دھوكه دينے كے ليے اسلام نهيں لائے. چنانچه ان سب لوگوں كے بارے ميں يه كهنا مناسب هو گا كه وه كمزور مسلمان هيں.

اس تفصيل كا خلاصه يه هے كه سب مسلمان «بحيثيت مسلمان» برابر نهيں هيں. ايمان كى پختگى اور عمل كے معيار سے ان كے اپنے اپنے درجات هيں اور ان درجات كے فرق كو سمجھنا بهت ضرورى هے. جن لوگوں نے مسلمانوں كے درجات ميں پائے جانے والے اس فرق كو نهيں سمجھا انهيں سورة الحجرات كى مذكوره آيت كے بارے ميں مغالطه هوا هے كه اس ميں منافقين كا تذكره هے. حالانكه اسى آيت ميں آگے ان اسلام قبول كرنے والوں كو يه ضمانت بھى دى گئى هے: (وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا)  «اور اگر تم الله اور اس كے رسول كى فرماں بردارى كرتے رهو گے تو تمهارے اعمال ميں كچھ بھى كمى نهيں كى جائے گى». اس كا مطلب يه هے كه الله كے هاں وه مسلمان هى تھے، كيوں كه منافق كا تو كوئى عمل قابلِ قبول هے هى نهيں. بلاشبه ان لوگوں كى صفوں ميں منافق بھى تھے ليكن مذكوره آيت ميں خصوصيت كے ساتھ ان لوگوں كو مخاطب كيا گيا هے جو اگرچه ديكھا ديكھى مسلمان هوئے تھے، ليكن اس ميں ان كى بد نيتى شامل نهيں تھى.

آج همارى غالب اكثريت بلاشبه «كمزور مسلمانوں» پر مشتمل هے، اس ليے آج همارى هدايت كے ليے قرآن كا يه حصه (سورة الحديد تا سورة التحريم) بهت اهم هے. آج كا مسلمان اگر ان دس سورتوں كو سمجھ لے تو اس كا يه عمل ايسا هو گا جيسے اس نے پورے قرآن كو سمجھ ليا، كيوں كه ان دس سورتوں ميں پورے قرآن حكيم كا خلاصه آ گيا هے. مثلًا منافقت اور منافقين كا تذكره قرآن حكيم ميں متعدد مقامات پر آيا هے. خصوصًا سورة النساء، سورة التوبه اور سوره محمد ميں يه مضمون تفصيل سے بيان هوا هے، ليكن اس مجموعے ميں شامل گياره آيات پر مشتمل ايك مختصر سى سورت يعنى سورة المنافقون ميں اس پورے مضمون كا خلاصه بيان كر ديا گيا هے. اسى طرح ايمان كى بحث سے پورا قرآن بھرا پڑا هے. دو تهائى قرآن مكى سورتوں پر مشتمل هے اور ان مكى سورتوں ميں تذكير بآلاء الله كے علاوه توحيد، رسالت اور آخرت كے موضوعات كے تحت سارى بحث ايمان هى سے متعلق هے. اس قدر وسيع اور مفصل مضمون كو اس مجموعے كى سورة التغابن (18 آيات) ميں سمو ديا گيا هے.

بهرحال واقعه يه هے كه ان دس سورتوں ميں پورے قرآن كے مضامين كا عطر كشيد كر كے ركھ ديا گيا هے. يهى وجه هے كه ان ميں سے چھ سورتوں (سورة الحديد، سورة الصف، سورة الجمعه، سورة المنافقون، سورة التغابن اور سورة التحريم) كو هم نے اپنے منتخب نصاب ميں شامل كيا هے. جهاں تك سورة الحديد كے تعارف كا تعلق هے، يه بهت جامع اور بلند مرتبه سورت هے. اَلْمُسَبِّحَات ميں ممتاز مقام كى وجه سے اسے اُمُّ الْمُسَبِّحَات كها جاتا هے. همارے منتخب نصاب كا حصه ششم اسى سورت كے 7 دروس پر مشتمل هے. ميں اكثر تحديثِ نعمت كے طور پر ذكر كرتا هوں كه الله تعالى نے اپنے فضل وكرم سے مجھے اس سورت كا خصوصى فهم اور انشراح عطا فرمايا هے، بلكه ميں تو يه كهتا هوں كه الله تعالى نے اپنى خاص مهربانى سے مجھے يه سورت عطا فرما دى هے. پچھلى نصف صدى سے اس پر ميرا غور وفكر جارى هے اور ميں نے اس پر بهت طويل اور مفصل دروس بھى ديے هيں. بهرحال اس مضمون كے ليے يه سطور زياده تفصيل كى متحمل نهيں هو سكتيں. اس سورت پر ميرے سلسله وار دروس كى آڈيو، ويڈيو ريكارڈنگ موجود هے. مفصل دروس كى ريكارڈنگ 15 گھنٹے پر مشتمل هے، جبكه نسبتًا مختصر دروس كا دورانيه چھ گھنٹے هے. مزيد تفصيل جاننے كے خواهش مند حضرات ميرے ان دروس سے استفاده كر سكتے هيں.

UP
X
<>