April 16, 2021

قرآن کریم > الحـديد >sorah 57 ayat 3

هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ

وہی اوّل بھی ہے، اور آخربھی، ظاہر بھی ہے، اور چھپا ہوا بھی، اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے

آيت 3:  هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ:  «وهى اول هے، وهى آخر هے، وهى ظاهر هے، وهى باطن هے».

ايك انسان كے ليے اس كيفيت كو سمجھنا يقينًا مشكل هے كه هر زمان، هر مكان اگر وه هى وه هے تو پھر باقى سب كيا هے. غالب نے اس صورت حال سے متعلق انسانى حيرت كا اظهار ان الفاظ ميں كيا هے:

جبكه تجھ بِن نهيں كوئى موجود       پھر يه هنگامه اے خدا كيا هے؟

اس آيت كے بارے ميں امام رازى كا درج ذيل قول بهت فكر انگيز هے، يوں لگتا هے جيسے اس آيت كو پڑھ كر وه جلالِ ذات كے رعب كے باعث ساكت وششدر هوئے كھڑے هيں، لكھتے هيں: اِعْلَمْ! اَنَّ هَذَا الْمَقَامَ مَقَامٌ غَامِضٌ عَمِيقٌ مُهِيبٌ. «جان لو كه يه بهت مشكل، بهت گهرا اور بڑا پُر هيبت مقام هے!» اس كى حقيقت كو سمجھنا آسان كام نهيں هے. گويا بقولِ شاعر:  «هشدار كه ره برومِ تيغ است قدم را!» اس راستے پر خبردار هو كر چلنا، اب تمهارا پاؤں تلوار كى دھار پر آ گيا هے!

صوفيا نے «وحدت الوجود» كا فلسفه اسى آيت سے اخذ كيا هے، ليكن يه فلسفے كا بھى مشكل ترين مسئله هے. «وحدت الوجود» كى تعبير ميں كچھ لوگوں نے «همه اوست» كا تصور گھڑا هے جس كے كفر وشرك هونے ميں كسى اهلِ علم كو اختلاف نهيں هے. بهرحال وحدت الوجود كے بارے ميں يه حقيقت بھى واضح رهنى چاهيے كه يه عام لوگوں كى سمجھ ميں آنے والى بات نهيں هے. البته ميں نے اپنے مذكوره دروس ميں اپنى حد تك اس كى وضاحت كرنے كى كوشش كى هے اور پروفيسر يوسف سليم چشتى مرحوم (1896 – 1984ء) سے مجھے اپنى اس وضاحت كى سند بھى مل چكى هے. ايك مرتبه اسى سورت كے ميرے ايك درس ميں پروفيسر صاحب بھى موجود تھے، درس كے بعد مجھے كهنے لگے كه اس «وحدت الوجود» كے مسئلے كو پڑھتے پڑھاتے اور سمجھتے سمجھاتے مجھے پچاس برس هو گئے هيں، ليكن آپ نے اس ايك درس ميں اسے جس انداز ميں واضح كيا هے ميں آج تك نهيں كر سكا. يهاں ان سطور ميں اس مسئلے كى وضاحت كرنا ميرے ليے ممكن نهيں. تفصيل معلوم كرنے كے خواهش مند افراد سورة الحديد پر ميرے متعلقه دروس سے استفاده كر سكتے هيں. بهرحال اس آيت كا آسان مفهوم يه هے كه يه كائنات حادث هے، ايك وقت تھا جب  يه موجود نهيں تھى اور جب يه موجود نهيں تھى اس وقت كون موجود تھا؟ ظاهر هے الله اس وقت بھى موجود تھا. تو اس كائنات كا آغاز كهاں سے هوا؟ الله سے! پھر ايك وقت ايسا بھى آئے گا جب اس كائنات ميں سے كچھ بھى باقى نهيں رهے گا. (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ) {الرحمن} «جو كوئى بھى اس (زمين) پر هے فنا هونے والا هے». تو جب يه سب كچھ نهيں رهے گا تو اُس وقت كون موجود هو گا؟ (وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) {الرحمن: 27} «اور باقى رهے گا صرف تيرے رب كا چهره جو بهت بزرگى والا اور بهت عظمت والا هے». تو جب كچھ نهيں رهے گا تو الله اس وقت بھى موجود هو گا. تو پھر «آخر» كون هوا؟ ظاهر هے كه الله! اب يوں سمجھيں كه اول اور آخر كے مابين ظاهر بھى وه هے اور باطن بھى وه هے.

اس مشكل مضمون كو درج ذيل حديث نے عام لوگوں كے ليے آسان كر ديا هے. حضور اكثر يه دعا كيا كرتے تھے:

((اللهم رب السماوات ورب الأرض ورب العرش العظيم، ربنا ورب كل شيء، فالق الحب والنوى، ومنزل التوراة والإنجيل والفرقان، أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته، اللهم أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء)).

«اے الله آسمانوں اور زمين كے رب! اے عرشِ عظيم كے مالك! اے همارے رب اور هر چيز كے پروردگار! اے دانے اور گھٹلى كو پھاڑنے والے! اور تورات، انجيل اور فرقان كو نازل كرنے والے! ميں هر چيز كى شر سے تيرى پناه مانگتا هوں جس كى پيشانى تيرے قبضه قدرت ميں هے. اے الله! تو هى اول هے پس تجھ سے پهلے كوئى چيز نه تھى، اور تو هى آخر هے تيرے بعد كوئى چيز نه هو گى، اور تو هى ظاهر هے تجھ سے بالاتر كوئى چيز نهيں، اور تو هى ايسا باطن هے كه تجھ سے مخفى كوئى چيز نهيں».

وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ:  «اور وه هر چيز كا علم ركھتا هے».

جب هر زمان، هر مكان وه هى وه هے، وه ظاهر بھى هے اور باطن بھى تو كائنات كى كوئى ذرّه بھر چيز بھى اس سے پوشيده كيسے هو سكتى هے! بلكه وه تو انسان كے دل ميں پيدا هونے والے خيالات سے بھى آگاه هے. اس حوالے سے سوره ق كى يه آيت هم پڑھ چكے هيں: (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ) {ق: 16} «اور هم نے هى انسان كو پيدا كيا هے اور هم خوب جانتے هيں جو اُس كا نفس وسوسے ڈالتا هے، اور هم تو اس سے اُس كى رگِ جان سے بھى زياده قريب هيں». پچھلى آيت ميں الله تعالى كے هر چيز پر قادر (عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) هونے كا اعلان هوا هے، جبكه زير مطالعه آيت ميں اس كے علمِ كُل كا بيان هے كه اُسے هر چيز كا علم هے (وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ). الله تعالى كى يه دو صفات ايسى هيں جن كا ذكر قرآن ميں بهت تكرار كے ساتھ آيا هے.

UP
X
<>