September 23, 2020

قرآن کریم > الـمجادلـة

الـمجادلـة

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

سورة المجادلة

تمهيدى كلمات

سورة المجادله كا آغاز ايك خاص عائلى مسئلے سے هوتا هے، ليكن يه مسئله صرف پهلى چار آيات ميں ضمنى مضمون كے طور پر بيان هوا هے. اس كے بعد اس سورت ميں سورة الحديد كے مركزى مضمون هى كا تسلسل نظر آتا هے. سورة الحديد كا مركزى مضمون نظامِ عدل وقسط كے قيام سے متعلق هے. اس نظام كے قيام كى جدوجهد كے ليے ايك منظم اور مضبوط جماعت كى ضرورت هے، يه كسى اكيلے شخص يا دو چار افراد كے بس كا كام نهيں. اگر ايسا هوتا تو حضرت موسى عليه السلام اپنى قوم كے تعاون كے بغير بھى اسے سر انجام دے ليتے. آپ عليه السلام نے جب اپنى قوم كو جهاد كے ليے نكلنے كا كها تو انهوں نے صاف جواب دے ديا:

(قَالُوا يَا مُوسَى إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَدًا مَا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ) {المائدة: 24}

انهوں نے يك زبان هو كر كها كه اے موسى! يه جنگ جيسا مشكل كام هم سے نهيں هوتا، اگر يه ايسا هى ضرورى كام هے تو آپ عليه السلام اور آپ كا رب جا كر لڑو، هم تو يهاں بيٹھے هيں. اُس وقت آپ عليه السلام بالكل اكيلے بھى نهيں تھے، بلكه آپ عليه السلام كے ساتھ تين لوگ اور بھى تھے، يعنى آپ كے بھائى هارون، حضرت يوشع بن نون اور كالب بن يوفنا. اس كے باوجود آپ نے حكومتِ الهيه كے قيام كا مشن ادھورا چھوڑتے هوئے پُر حسرت انداز ميں الله سے شكايت كى:

(قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ) {آيت: 25}

«موسى نے عرض كيا: پروردگار! مجھے تو اختيار نهيں سوائے اپنى جان كے اور اپنے بھائى (هارون كى جان) كے، تو اب تُو تفريق كر دے همارے اور ان نافرمان لوگوں كے درميان».

تو معلوم هوا كه يه كام چند افراد كے بس كا بھى نهيں، بلكه باطل نظام كو اكھاڑ پھينكنے اور اس كى جگه نظامِ عدل وقسط كے قيام كے ليے ايك بهت مضبوط اور منظم جماعت دركار هے. اب ظاهر هے جب يه جماعت تشكيل پائے گى اور اپنے مشن كى تكميل كے ليے مصروفِ عمل هو گى تو شيطان انهيں كھلى چھٹى دے كر آرام سے تو نهيں بيٹھا رهے گا كه جاؤ بھئى آپ اپنے دينِ حق كا قيام عمل ميں لے آؤ، بلكه وه بھى فورى طور پر اپنے چيلے چانٹوں كے همراه اس جماعت كا راسته روكنے كے ليے ميدان ميں كود پڑے گا. اس طرح يه دونوں قوّتيں ايك دوسرے كے مدّ مقابل صف آرا هو جائيں گى. چنانچه اس سورت ميں نظامِ عدل وقسط كے قيام يا اقامتِ دين كے ليے جدوجهد كرنے والى جماعت (حزب الله) اور اس كے مدّ مقابل شيطان كے لاؤ لشكر پر مشتمل جماعت (حزب الشيطان) كا بھى ذكر آيا هے اور اس حوالے سے حزب الله كے كاركنوں كو كچھ مفيد هدايات بھى دى گئى هيں. حزب الله كا وجود چونكه شيطان كو بهت كھٹكتا هے اس ليے وه اس ميں پھوٹ ڈالنے اور اس كى وحدت كو نقصان پهنچانے كے ليے هر وقت كوشاں رهتا هے. ايسے شيطانى حملوں كے توڑ كے ليے اهلِ ايمان كو قرآن ميں جا بجا هدايات دى گئى هيں. سورة الحجرات ميں دى گئيں معاشرتى اور اخلاقى هدايات كا مقصد بھى يهى هے كه مسلمان اپنى صفوں ميں اتحاد ويگانگت كو فروغ ديں اور كوئى ايسا عمل نه كريں جو ان كے اتحاد كو نقصان پهنچانے كا باعث بنے. چنانچه سورة الحجرات ميں اهلِ ايمان كو ايك دوسرے كا تمسخر اڑانے، باهم الزام تراشى كرنے، دوسروں كو برے ناموں سے پكارنے، اپنے بھائى بندوں كے بارے ميں بدگمانى كرنے، ان كے معاملات كى ٹوه ميں رهنے، افواهوں پر كان دھرنے اور ايك دوسرے كى غيبت كرنے سے منع كيا گيا هے. ظاهر هے ايسى حركات سے بالآخر مسلمانوں كى وحدت اور يكجهتى كو نقصان پهنچتا هے. اسى طرح سورة الحجرات ميں اهلِ ايمان كو يه هدايت بھى دى گئى هے كه اگر ان كے دو گروه آپس ميں لڑ پڑيں تو ان كى صلح كرا دى جائے تاكه «حزب الله» مضبوط ومستحكم رهے. بهرحال سورة المجادله كا مركزى مضمون حزب الله سے متعلق هے. حزب الله بھلائى كى علامت اور نيكى كى طاقت هے، اگر يه جماعت مضبوط هو گى تو نيكى كا بول بالا هو گا اور اگر يه كمزور هو جائے گى تو پھر ظاهر هے معاشرے ميں حزب الشيطان هى كا ڈنكا بجے گا.

UP
X
<>