May 8, 2021

قرآن کریم > الأنعام >surah 6 ayat 165

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ 

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں سے درجات میں بلندی عطا کی، تاکہ اُس نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں ، اُن میں تمہیں آزمائے۔ یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، ا ور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

آیت 165:  وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ:  ’’اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا،،

            خلیفہ بنانا ایک تو اس مفہوم میں ہے کہ جو خلافت حضرت آدم کو دی گئی تھی اس کا حصہ بالقوۃ (potentially)  تما م انسانوں کو ملا ہے، اور جو بھی شخص اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہو کر اللہ کو اپنا حاکم اور بادشاہ مان لے تو وہ گویا اس کی خلافت کا حقدار ہو گیا۔ ’’خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ،، کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم آتی ہے اور انسانی وراثت نسل در نسل اور قوم در قوم منتقل ہوتی جاتی ہے۔ یہی فلسفہ اس سورۃ کی آیت:  133 میں بھی بیان ہوا ہے۔

            وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ:  ’’ اور اُس نے تم میں سے بعض کے درجوں کو بعض پر بلند کردیا،،

            اس دُنیوی زندگی میں اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق کسی کو علم دیا ہے، کسی کو حکمت دی ہے، کسی کو ذہانت میں فضیلت دی ہے، کسی کو جسمانی طاقت میں برتری دی ہے، کسی کو صحت ِجسمانی بہتر دی ہے اور کسی کو حسن جسمانی میں دوسروں پر فوقیت دی ہے۔ یعنی مختلف انداز میں اُس نے ہر ایک کو اپنے فضل سے نواز ا ہے اور مختلف انسانوں کے درجات و مراتب میں اپنی حکمت کے تحت فرق و تفاوت بھی برقرار رکھا ہے۔

            لِّـیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰـکُمْ:  ’’تا کہ تمہیں آزمائے اس میں جو کچھ اُس نے تمہیں بخشا ہے۔،،

            یعنی دنیا کی تمام نعمتیں انسان کو بطور آزمائش دی جاتی ہیں۔ بَلاَ، یَبْلُوْ کے معنی ہیں آزمانا اور جانچنا۔ ابتلاء (بمعنی امتحان اور آزمائش) اسی سے باب افتعال ہے۔

            اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ:  ’’یقینا آپ کا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور یقینا وہ غفور اور رحیم بھی ہے۔،، 

UP
X
<>