September 29, 2020

قرآن کریم > الـمـمـتـحنة

الـمـمـتـحنة

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سورة الممتحنة

تمهيدى كلمات

سورة الممتحنه كا نزول فتح مكه سے قبل اسى زمانے ميں هوا جس زمانے ميں سورة التوبه كے دوسرے اور تيسرے ركوع كى آيات نازل هوئى تھيں. يه وه حالات تھے جب ايك طرف رسول الله صلى الله عليه وسلم مكه پر فيصله كن چڑھائى كى تيارى كر رهے تھے تو دوسرى طرف منافقين اس ممكنه مهم كے خلاف پراپيگنڈے ميں سرگرمِ عمل تھے. (سورة التوبه كے تمهيدى كلمات ميں ان حالات پر تفصيل سے تبصره كيا جا چكا هے.) ان لوگوں كے بعض دلائل ايسے تھے جن سے نو مسلم ضعفاء بھى كسى نه كسى حد تك متاثر هو رهے تھے. مثلًا اس حوالے سے ان كى ايك دليل يه تھى كه قريشِ مكه جيسے بھى هيں آخر وه حرم كے متولى هيں اور حاجيوں كى خدمت كرتے هيں، لهذا ان كى ان نيكيوں كو نظر انداز نهيں كرنا چاهيے. منافقين كے ايسے اعتراضات كے جوابات سورة التوبه كے دوسرے اور تيسرے ركوع ميں ديے گئے هيں.

اسى دوران وه واقعه بھى رونما هوا جس كا ذكر اس سورت كے آغاز ميں آيا هے، اس واقعه كى تفصيل يوں هے كه حضور صلى الله عليه وسلم مكه پر چڑھائى كا منصوبه مكمل طور پر خفيه ركھنا چاهتے تھے، تاكه قريش كو اس كے بارے ميں كوئى پيشگى اطلاع نه ملنے پائے. ليكن ايك صحابى حضرت حاطب بن ابى بلتعه رضى الله عنه سے يه بهت بڑى غلطى سرزد هوئى كه انهوں نے سردارانِ قريش كو ايك خفيه خط كے ذريعے اس اهم جنگى راز كى اطلاع كرنے كى كوشش كى. حضرت حاطب رضى الله عنه انتهائى مخلص اور بدرى صحابى تھے. ان كے اهل وعيال اور كنبے كے كچھ لوگ اس وقت تك مكه مكرمه ميں تھے، انهيں پريشانى لاحق تھى كه مسلمانوں كى مكه پر لشكر كشى كى صورت ميں قريش ان كے اهل خانه كو انتقام كا نشانه بنائيں گے، اس انديشے كے پيشِ نظر انهوں نے حملے كى پيشگى اطلاع دے كر قريشِ مكه پر گويا ايك بهت بڑا احسان كيا. ان كا خيال تھا كه شايد اس احسان كا لحاظ كرتے هوئے وه ان كے اهل خانه كو كوئى گزند نهيں پهنچائيں گے. حضرت حاطب نے مذكوره خط ايك عورت كو ديا جو مكه جا رهى تھى اور اسے تاكيد كى كه وه اسے مكمل راز دارى سے فلاں شخص تك پهنچا دے. اس عورت كے مدينه سے روانه هونے كے بعد الله تعالى نے بذريعه وحى حضور صلى الله عليه وسلم كو اس بارے ميں مطلع فرما ديا. حضور صلى الله عليه وسلم نے حضرت على، حضرت زبير اور حضرت مقداد بن اسود رضى الله عنهم كو اس عورت كے پيچھے روانه كيا، انهيں تيزى سے جانے كا حكم ديا اور فرمايا كه مكه كے راستے ميں روضه خاخ كے مقام پر آپ لوگوں كو ايك عورت ملے گى، اس كے پاس ايك خط هے، وه خط اس سے لے كر واپس آ جاؤ. حضرت على رضى الله عنه تيز رفتارى سے سفر كرتے هوئے حضور صلى الله عليه وسلم كى بتائى هوئى جگه پر پهنچے تو وه عورت وهاں موجود تھى. آپ نے خط مانگا تو اس نے لاعلمى كا اظهار كيا، آپ رضى الله عنه نے فرمايا كه رسول صلى الله عليه وسلم كى دى گئى اطلاع غلط نهيں هو سكتى، لهذا تم سيدھے طريقے سے خط همارے حوالے كر دو، ورنه هم تمهيں برهنه كر كے تمهارى تلاشى ليں گے. اس پر عورت نے خط اپنى چُٹيا سے نكال كر آپ كے حوالے كر ديا. حضور صلى الله عليه وسلم نے جب حضرت حاطب رضى الله عنه كو بلا كر پوچھا تو انهوں نے اعتراف كيا كه مجھ سے غلطى هوئى هے، انهوں نے عرض كيا كه آپ صلى الله عليه وسلم ميرے معاملے ميں جلدى نه فرمائيں، اصل بات يه هے كه ميرے اهل خانه مكه ميں مقيم هيں. ميں قريش كے قبيلے كا آدمى نهيں هوں، بلكه بعض قريشيوں كى سرپرستى ميں آباد هوا هوں. ميرا كوئى قبيله وهاں نهيں هے جو ميرے اهل خانه كو بچا سكے. اس ليے ميں نے يه خط اس خيال سے بھيجا تھا كه قريش پر ميرا ايك احسان رهے جس كا لحاظ كر كے وه ميرے اهل وعيال كو نقصان نه پهنچائيں. حضرت عمر رضى الله عنه موقع پر موجود تھے، انهوں نے اٹھ كر عرض كيا: يا رسول الله! مجھے اجازت ديجيے كه ميں اس منافق كى گردن مار دوں، اس نے الله اور اُس كے رسول صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں سے خيانت كى هے. حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: نهيں! حاطب سے غلطى ضرور هوئى هے، ليكن يه بدرى صحابى هيں اور الله تعالى بدرى صحابه كے اگلے پچھلے تمام گناه معاف كر چكا هے، اميد هے وه اس كى يه خطا بھى معاف فرما دے گا. يه سن كر حضرت عمر رضى الله عنه رو ديے اور انهوں نے كها كه الله اور اُس كے رسول هى سب سے زياده جانتے هيں. زير مطالعه سورت كى پهلى آيت ميں اسى واقعه كى طرف اشاره هے.

UP
X
<>