September 29, 2020

قرآن کریم > الـمنافقون

الـمنافقون

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سورة المنافقون

تمهيدى كلمات

زير مطالعه مدنى سورتوں كے گروپ ميں چوتھا جوڑا سورة المنافقون اور سورة التغابن پر مشتمل هے. ان ميں سورة المنافقون كے آغاز ميں تسبيح كا ذكر نهيں هے، جبكه سورة التغابن كا آغاز تسبيح سے هو رها هے. جهاں تك ان سورتوں كے مضامين كا تعلق هے، سورة المنافقون ميں نفاق اور منافقين كا تذكره هے، جبكه سورة التغابن كا بنيادى موضوع ايمان هے. جيسا كه قبل ازيں بھى وضاحت كى جا چكى هے قرآن مجيد كے وه موضوعات جو طويل سورتوں ميں تفصيل سے بيان هوئے هيں ان كا خلاصه مختصر سورتوں ميں دے ديا گيا هے. نفاق اور ايمان كا تعلق بھى ايسے هى موضوعات سے هے. نفاق كا ذكر تمام مدنى سورتوں ميں ملتا هے، كهيں ڈھكے چھپے انداز ميں اور كهيں كھلم كھلا. سورة النساء اور سورة التوبه ميں يه موضوع اس لحاظ سے خصوصى طور پر نماياں هے. اسى طرح ايمان كا موضوع پورے مكى قرآن ميں پھيلا هوا هے، بلكه اس بحث كے خاص خاص نكات كهيں كهيں مدنى سورتوں كے اندر بھى آ گئے هيں. جيسے سورة البقره كى آيت الآيات (آيت: 164) اور آيت الكرسى (آيت: 255) اس موضوع پر انتهائى جامع آيات هيں. اس حوالے سے زير مطالعه دو سورتوں كى اهميت يه هے كه ان ميں قرآن كے ان دو اهم موضوعات پر طويل بحثوں كا خلاصه سمو ديا گيا هے. چنانچه يه دونوں سورتيں اپنے اپنے موضوع پر قرآن كى جامع ترين سورتيں هيں.

اس سورت كے باقاعده مطالعه سے پهلے نفاق كے بارے ميں چند اهم نكات كا تذكره ضرورى هے. يه نكات اگرچه قبل ازيں بھى كئى مرتبه زير بحث آ چكے هيں ليكن موضوع كے حوالے سے يهاں انهيں ايك مرتبه پھر سے دهرا لينا مفيد رهے گا. اس ضمن ميں پهلى بات تو يه هے كه بنيادى طور پر نفاق كى دو قسميں هيں: يعنى شعورى نفاق اور غير شعورى نفاق. شعورى نفاق يه هے كه كوئى شخص سوچے سمجھے منصوبے كے تحت اهلِ ايمان كو دھوكه دينے كے ليے ايمان كا اقرار كرے. ايسا شخص تو گويا شروع سے هى منافق هے اور اسے ايك لمحے كے ليے بھى ايمان نصيب نهيں هوا. ايسے منافقين كا ذكر سوره آل عمران كى آيت: 72 ميں آيا هے. وه لوگ باقاعده ايك سازش كے تحت صبح كے وقت ايمان لانے كا ڈھونگ رچاتے تھے اور شام كو اسلام سے پھر جانے كا اعلان كر ديتے تھے، تاكه اسلام كى ساكھ كو نقصان پهنچا سكيں. ظاهر هے ان دلوں ميں تو ايمان ايك لمحے كے ليے بھى داخل نهيں هوتا تھا. ايسے لوگوں كى كيفيت سورة المائدة كى آيت: 61 ميں يوں بيان كى گئى هے: ﴿وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ﴾ كه وه كفر كے ساتھ اسلام ميں داخل هوئے اور كفر كے ساتھ هى نكل گئے. بهرحال يه شعورى نفاق كى مثال هے. عملى طور پر اس قسم كے منافقين بهت كم پائے جاتے هيں.

          اس كے برعكس غير شعورى نفاق كى مثال يوں سمجھيں كه ايك شخص كے پاس اسلام كى دعوت پهنچى، اس كے دل نے اس كى تصديق كى اور وه اس دعوت پر لبيك كهتے هوئے ايمان لے آيا. ليكن بنيادى طور پر وه چونكه ايك كم همت شخص تھا، اس ليے ايمان كے عملى تقاضے پورے كرنے اور انقلاب كے راستے كى آزمائشوں كا سامنا كرنے سے گھبراتا رها. خاص طور پر جب باقاعده تصادم كا مرحله آيا اور اهلِ ايمان سے تقاضا هوا كه وه اپنى نقد جان هتھيلى پر ركھ كر ميدان ميں آ جائيں تو ايسے كمزور لوگوں كى جان پر بن گئى. اب ان ميں سے كچھ لوگ تو اپنى كم همتى كے باوجود بھى سچے دل سے مسلمانوں كے ساتھ چمٹے رهے. اس طرح كه كبھى كوئى اچھا كام كر ليا تو كبھى كوئى نافرمانى بھى هو گئى. كبھى كسى تقاضے پر لبيك بھى كهه ليا تو كهيں بهانه بنا كر كھسك بھى گئے، ليكن جب جواب دهى هوئى تو اپنى غلطى تسليم كر كے خود كو سزا كے ليے پيش كر ديا. سورة التوبه ميں ايسے لوگوں كے كردار كى كيفيت ﴿خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا﴾ {آيت: 102} كے الفاظ ميں بيان كى گئى هے. جن لوگوں كا معامله يهيں تك رها كه  ان سے جب بھى كوئى كوتاهى هوئى تو انهوں نے صاف گوئى سے اسے تسليم كر ليا اور كوئى بهانه نه بنايا تو وه نفاق سے برى رهے. ايسے لوگوں كے بارے ميں زياده سے زياده يه كها جا سكتا هے كه وه ضعفِ ايمان كے درجے ميں تھے.

          البته ايسے معاملے ميں اكثر انسان كى نام نهاد عزتِ نفس آڑے آ جاتى هے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ﴾ {البقرة: 206} يعنى جب انسان كو الله سے ڈرنے كا كها جاتا هے تو اس كى عزتِ نفس كى عصبيت اسے نافرمانى كى طرف گھسيٹ كر لے جاتى هے، كه ديكھو تم ايك عزت دار آدمى هو، اپنى زبان سے خود هى اپنى غلطياں تسليم كر كر كے كب تك لوگوں كى نظروں ميں ذليل هو گے؟ بس بهت هو گئى، اب اس كے بعد يه نهيں چلے گا! چنانچه جو شخص اپنے نفس كے اس بهكاوے ميں آ كر خدا خوفى كى حد پار كر گيا اور اپنى غلطياں چھپانے كے ليے بهانوں پر اُتر آيا اُس نے گويا نفاق كى سرحد ميں پهلا قدم ركھ ديا. بس يه پهلا قدم ركھنے كى هى دير تھى، اب يوں سمجھيے كه وه جھوٹ كى دلدل ميں پھنس گيا. اس كے بعد وه جو قدم بھى اُٹھائے گا وه اس كے ليے اس دلدل ميں مزيد نيچے دھنسنے كا هى سبب بنے گا. صبح جھوٹ، دوپهر جھوٹ، شام جھوٹ، بلكه بات بات پر جھوٹ. پھر ايسا شخص جب ديكھتا هے كه اس جھوٹ بولنے اور جھوٹے بهانے بنانے پر لوگ معنى خيز انداز ميں مسكراتے هيں تو وه اپنے جھوٹے بهانوں كو سچا ثابت كرنے كے ليے جھوٹى قسموں كا سهارا لينا شروع كر ديتا هے. اگر نفاق كے مرض كو ٹى بى كے مهلك مرض سے تشبيه ديں تو قسموں كے اس مرحلے سے جان لينا چاهيے كه اب متعلقه شخص كا مرض دوسرے مرحلے ميں داخل هو چكا هے.

          جب قسموں كو تكيه بنا لينے سے اس كى اصل حقيقت سب پر عياں هونے لگتى هے اور اسے  خود بھى احساس هونے لگتا هے كه لوگوں نے اس پر اعتماد كرنا چھوڑ ديا هے تو ردِعمل كے طور پر اس كے دل ميں ايمان اور اهلِ ايمان كے خلاف شديد نفرت اور دشمنى پيدا هو جاتى هے. اس دشمنى كا اصل هدف اهلِ ايمان كے قائد كى شخصيت بنتى هے، جيسے منافقينِ مدينه محمد رّسول الله صلى الله عليه وسلم كے بارے ميں اكثر هرزه سرائى كرتے رهتے تھے كه ديكھيں مدينه ميں سب لوگ آرام وسكون سے ره رهے تھے، اس ايك شخص (صلى الله عليه وسلم) كے آ جانے سے همارے ليے طرح طرح كے مسائل كھڑے هو گئے هيں. اس نے بھائى كو بھائى سے جدا كر ديا، خاندانوں ميں كبھى نه ختم هونے والى رنجشيں پيدا كر دى هيں. اسى كى وجه سے يهودى قبائل كے ساتھ همارے حليفانه تعلقات ختم هو كر ره گئے هيں اور پورے عرب سے هميں لڑائياں مول لينى پڑى هيں. بهرحال جب يه مرحله آ جائے تو سمجھ ليں كه اب يه مرض تيسرى اور آخرى سٹيج ميں داخل هو گيا هے. كسى زمانے ميں ٹى بى كے بارے ميں يهى سمجھا جاتا تھا كه تيسرى سٹيج پر پهنچ كر يه مرض لاعلاج هو جاتا هے.

          اس بارے ميں ايك اهم بات يه بھى جان ليجيے كه منافقين صرف انقلابى تحريك كى صفوں ميں پيدا هوتے هيں. اس ليے آج همارے معاشرے كے جو لوگ دين كے تحريكى اور انقلابى تصور سے آشنا هى نهيں وه ضعيف الايمان تو هو سكتے هيں منافق نهيں. كيوں كه ان بے چاروں كو تو دين كا صحيح تصور ديا هى نهيں گيا. انهيں تو مولويوں اور ان كے پيروں نے يهى بتايا هے كه دين بس نماز روزه هى كا نام هے اور اگر رمضان ميں ليلة القدر كى عبادت نصيب هو گئى تو سمجھو كه زندگى بھر كے تمام گناه دھل گئے. اور جس نے حج يا عمره كر ليا وه گناهوں سے بالكل هى پاك هو گيا، چاهے اس نے سارى عمر حرام خوريوں ميں هى كيوں نه گزارى هو. اب جس مسلمان كے ذهن ميں دين كا يه تصور هو اس بے چارے كو منافقت سے كيا لينا دينا. منافقت تو وهاں جنم ليتى هے جهاں قدم قدم پر تكليفوں اور آزمائشوں كے پهاڑ عبور كرنے پڑتے هيں. جهاں دين اپنے نام ليواؤں سے ان كے عيش و آرام اور جان ومال كى قربانياں مانگتا هے. چنانچه اگر كوئى شخص دين كے تحريكى اور انقلابى فلسفے كو اچھى طرح سے سمجھ لے اور اقامتِ دين كى جدوجهد كو فرضِ عين سمجھتے هوئے كسى حقيقى انقلابى جماعت يا تحريك ميں شموليت اختيار كر لے اور پھر اس كے بعد امير كے ڈانٹنے كى وجه سے يا ايثار وقربانى كے تقاضوں سے گھبرا كر يا ايسى هى كسى دوسرى وجه سے پيچھے هٹ جائے تو وه مرضِ نفاق كا شكار هو جائے گا. البته اگر اس كے پيچھے هٹنے كى وجه كچھ اور هو، مثلًا اس كو وه تحريك اپنے مقصد سے هٹتى هوئى محسوس هو يا تحريك كے طريق كار سے اسے اصولى اختلاف هو جائے يا قائدين كے كردار ميں اسے واضح خامياں نظر آئيں تو يه دوسرى بات هے. ايسى كسى صورت ميں اگر وه اس تحريك يا تنظيم كو چھوڑ دے گا تو وه نفاق كا مرتكب نهيں هو گا. ليكن ايسى صورت ميں بھى وه كسى مخصوص جماعت كو تو چھوڑ سكتا هے، اقامتِ دين كى جدوجهد كو ترك كر كے نهيں بيٹھ سكتا. اقامتِ دين كى ضرورت، اهميت اور فرضيت كو ايك دفعه سمجھ لينے كے بعد اب اس جدوجهد كو جارى ركھنا اس پر فرض هے، چاهے يه فرض وه كسى دوسرى جماعت ميں شامل هو كر ادا كرے يا اس مقصد كے ليے خود كوئى نئى جماعت تشكيل دے. اس حوالے سے هميں حضور صلى الله عليه وسلم كے اس فرمان سے عبرت حاصل كرنى چاهيے. فجر اور عشاء كى نماز باجماعت ميں شريك نه هونے والوں كے بارے ميں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا:

          «إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حِزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ».

          «منافقوں پر سب بھارى نماز عشاء ار فجر كى نماز (باجماعت) هے. اگر يه ان دونوں نمازوں كى اهميت كو جان ليں تو ان ميں شركت كے ليے ضرور آئيں خواه انهيں گھٹنوں كے بل آنا پڑے. اور ميں نے تو پخته اراده كر ليا تھا كه نماز كھڑى كرنے كا حكم دوں، پھر كسى كو حكم دوں كه وه لوگوں كو نماز پڑھائے، پھر ايسے لوگوں كى طرف جاؤں جو نماز (باجماعت) ميں شريك نهيں هوتے اور ميرے همراه ايسے ساتھى هوں جن كے پاس لكڑيوں كے گٹھے هوں اور ميں جماعت ميں نه پهنچنے والوں كے گھروں كو ان كے سميت آگ سے جلا دوں».

          اگر جماعت سے نماز نه پڑھنے والوں پر حضور صلى الله عليه وسلم كى ناراضگى كا يه عالم هے تو جماعتى نظم كو ترك كر كے زندگى گزارنے كے انجام كا هميں خود اندازه كر لينا چاهيے.

UP
X
<>