September 29, 2020

قرآن کریم > الـطلاق

الـطلاق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

سورة الطلاق

تمهيدى كلمات

          زير مطالعه مدنى سورتوں كے گلدستے كا آخرى اور نهايت هى حسين جوڑا سورة الطلاق اور سورة التحريم پر مشتمل هے. ان دونوں سورتوں كى باهمى مناسبت اور مماثلت كى ايك علامت تو يه هے كه دونوں كا آغاز يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ كے كلمه سے هوتا هے. اس كے علاوه ان كا مضمون بھى مشترك هے. عائلى قوانين اور معاشرتى اقدار كى جزئيات وتفصيلات كو قرآن مجيد ميں جس اهتمام سے بيان كيا گيا هے اس سے اندازه هوتا هے كه الله تعالى كے هاں يه موضوع خاص اهميت كا حامل هے. اس حوالے سے قرآن مجيد پر ايك طائرانه نظر ڈاليں تو معلوم هو گا كه سورة البقرة كے مسلسل چار ركوع اور سورة النساء كے متعدد مباحث اس موضوع كے ليے مختص كيے گئے هيں. پھر سورة النور اور سورة الاحزاب ميں بھى اس موضوع سے متعلق تفصيلى هدايات دى گئى هيں. سورة المجادله كا آغاز بھى ايك عائلى مسئلے (ظهار) سے هوتا هے اور پھر سورة الطلاق اور سورة التحريم دو مكمل سورتيں بھى اسى مضمون سے متعلق هيں.

           مياں بيوى كا جوڑا چونكه انسانى معاشرے كى بنيادى اكائى هے اس ليے معاشرے كو درست ركھنے كے ليے ضرورى هے كه ان دو افراد كے باهمى تعلقات توازن اور اعتدال كى حدود كے اندر رهيں. اس كى مثالى صورت تو يه هے كه دونوں مياں بيوى بحيثيت مسلمان ايك طرف الله تعالى كے حقوق كما حقه ادا كرنے والے هوں اور دوسرى طرف وه ايك دوسرے كے ان حقوق كى ادائيگى پر بھى كمربسته رهتے هوں جو اسلام نے ان پر عائد كيے هيں. يهاں ضمنى طور پر يه بھى سمجھ ليجيے كه مرد اور عورت پر الله كى طرف سے عائد كرده بنيادى دينى فرائض تو ايك جيسے هى هيں: نماز، روزه، زكوة، حج وغيره كى ادائيگى كا اهتمام شرعى احكام وحدود كى روشنى ميں اپنى اپنى جگه دونوں كو كرنا هے. البته دعوت وتبليغ كى فرضيت كے حوالے سے عورت كا دائره عمل عورتوں اور محرم مردوں تك محدود هو جاتا هے. جبكه اقامتِ دين كى جدوجهد (خصوصى طور پر جهاد وقتال) ميں عورتيں حسبِ استطاعت بالواسطه كردار ادا كرنے كى هى مكلف هيں. مثلًا وه اپنے بيٹوں، بھائيوں اور شوهروں كو ايسے سازگار حالات اور مواقع فراهم كر سكتى هيں جن ميں وه اقامتِ دين كے حوالے سے اپنى ذمه دارياں يكسوئى كے ساتھ ادا كر سكيں. بهرحال ايك مثالى اور متوازن عائلى زندگى كا نقشه يهى هے كه مياں بيوى دونوں اپنے اپنے فرائض ذمه دارى اور خوش اسلوبى سے ادا كرنے والے هوں.

          اس حوالے سے دوسرى امكانى صورت يه هے كه مياں بيوى كى طبيعتوں ميں عدم موافقت كى وجه سے گھر كے معاملات معمول كے مطابق نه چل رهے هوں اور حقوق وفرائض كى ادائيگى ميں بھى مسلسل كوتاهى هو رهى هو. ظاهر هے اس كى وجه سے گھر ميں هر وقت لڑائى جھگڑے كا ماحول رهے گا، اور اگر يه اختلاف بڑھتا جائے گا تو طلاق كى نوبت بھى آ سكتى هے. چنانچه ايسى صورت حال سے متعلق مسائل سورة الطلاق ميں بيان هوئے هيں (واضح رهے كه طلاق كے مسائل اور قوانين وضوابط كا ذكر سورة البقرة اور سورة النساء ميں بھى آيا هے). گھريلو زندگى ميں عدمِ توازن كى دوسرى انتها يه هے كه كوئى شخص اپنى بيوى اور اهل وعيال كى اس حد تك دلجوئى كرے كه اس ميں شريعت كے احكام اور دعوت واقامتِ دين كى جدوجهد كے تقاضوں كا بھى خيال نه رهے. يه موضوع سورة التحريم ميں آئے گا.

          يهاں پر يه نكته بھى سمجھنا ضرورى هے كه اگرچه ان دونوں سورتوں ميں خصوصى طور پر  يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ كے الفاظ ميں براه راست حضور صلى الله عليه وسلم كو مخاطب كيا گيا هے، ليكن اصل ميں اس سے اُمت كى تعليم مقصود هے اور اس مقصد كے ليے حضور صلى الله عليه وسلم كو اُمت كے معلّم كى حيثيت سے مخاطب كيا گيا هے. يه نكته سورة الطلاق كى پهلى آيت كے حكم سے مزيد واضح هو جاتا هے. يعنى اس حكم كا حضور صلى الله عليه وسلم كى ذات سے كوئى تعلق هى نهيں. آپ نے نه تو اپنى كسى زوجه كو طلاق دى اور نه هى آپ كو طلاق دينے كى اجازت تھى. اس ليے كه سورة الاحزاب كى آيت: 6 ميں حضور صلى الله عليه وسلم كى ازواج مطهرات رضى الله عنهن كو اُمت كى مائيں قرار ديا گيا هے اور سورة الاحزاب كى آيت: 53 كے مطابق حضور صلى الله عليه وسلم كے بعد بھى وه كسى اور سے نكاح نهيں كر سكتى تھيں. لهذا آپ صلى الله عليه وسلم كا اپنى ازواج مطهرات ميں سے كسى كو طلاق دينے كا سوال هى نهيں تھا. اسى ليے سورة الاحزاب هى كى آيت: 50 ميں آپ صلى الله عليه وسلم كو چار ازواج كے بعد مزيد نكاح كرنے كى خصوصى اجازت مرحمت فرمائى گئى........ ان دونوں سورتوں پر ميرے مفصل ليكچرز كى ريكارڈنگ دستياب هے. مزيد تفصيل جاننے كے خواهش مند خواتين وحضرات اس ريكارڈنگ سے استفاده كر سكتے هيں.

UP
X
<>