May 23, 2024

قرآن کریم > الـطلاق >sorah 65 ayat 11

رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا

یعنی وہ رسول جو تمہارے سامنے روشنی دینے والی اﷲ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ، تاکہ جو لوگ اِیمان لائے ہیں ، اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں ۔ اور جو شخص اﷲ پر اِیمان لے آئے، اور نیک عمل کرے، اﷲاُس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اﷲ نے ایسے شخص کیلئے بہترین رزق طے کر دیا ہے

آيت 11:  رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ:  «(يعنى) ايك رسول جو الله كى آياتِ بينات تم لوگوں كو پڑھ كر سنا رها هے، تاكه وه نكالے ان لوگوں كو جو ايمان لائے اور جنهوں نے نيك اعمال كيے اندھيروں سے نور كى طرف».

يهاں وضاحت كر دى گئى كه ذكر سے مراد الله كا رسول صلى الله عليه وسلم اور الله كى كتاب ﴿آيات اللهِ مُبَيِّنَاتٍ﴾ هے. سورة البينه ميں اس موضوع كى مزيد وضاحت آئے گى.

وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا:  «اور جو كوئى الله پر ايمان ركھتا هے اور نيك عمل كرتا هے»

دين كے تقاضوں كا درست مفهوم نه هونے كى وجه سے آج همارے هاں «اعمالِ صاله» كا تصور بھى محدود هو كر ره گيا هے. اعمالِ صالحه سے اصل مراد يه هے كه ايك بنده مؤمن ايمان كے جمله تقاضوں كو پورا كرے. مكى دور ميں، جبكه ابھى شراب، جوا، سود وغيره كى حرمت نهيں آئى تھى اور نماز، روزه، جهاد وقتال وغيره كا حكم نهيں آيا تھا، اُس دور ميں اهلِ ايمان كے ليے «اعمالِ صالحه» يهى تھے كه وه ايمان كى دعوت ديں اور اس راستے پر جو تكليفيں اور آزمائشيں آئيں انهيں استقامت سے برداشت كريں. پھر مدنى دور ميں جيسے جيسے  مزيد احكام آتے گئے ويسے ويسے ايمان كے تقاضے بھى بڑھتے گئے اور رفته رفته نماز، روزه، زكوة، عشر، حج، انفاق، جهاد وقتال وغيره بھى اعمالِ صالحه ميں شامل هو گئے. گويا جس وقت ايمان كا جو تقاضا هو اسے پورا كرنے كا نام «عمل صالح» هے. آج ايك عام مسلمان جب قرآن ميں «عمل صالحه» كى اصطلاح پڑھتا هے تو اس سے اس كے ذهن ميں صرف نماز، روزه اور ذكر اذكار كا تصور هى آتا هے، جبكه منكرات كے خلاف جدوجهد اور اقامتِ دين كے ليے محنت جيسے اهم تقاضوں كو آج اعمالِ صالحه كى فهرست سے هى خارج كر ديا گيا هے. تو جو كوئى ايمان لانے كے بعد ايمان كے تقاضوں كو بھى پورا كرے گا:

يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا:  «وه اُسے داخل كرے گا ان باغات ميں جن كے نيچے ندياں بهتى هوں گى، جن ميں وه لوگ رهيں گے هميشه هميش».

قَدْ أَحْسَنَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا:  «الله نے اس كے ليے بهت عمده رزق فراهم كيا هے».

UP
X
<>