May 24, 2024

قرآن کریم > الـطلاق >sorah 65 ayat 2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ۭ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا

پھر جب وہ عورتیں اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو تم یا تو انہیں بھلے طریقے پر (اپنے نکاح میں ) روک رکھو، یا پھر بھلے طریقے سے اُن کو الگ کر دو، اور اپنے میں سے دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو عدل والے ہوں ۔ اور اﷲ کی خاطر سیدھی سیدھی گواہی دو۔ لوگو ! یہ وہ بات ہے جس کی نصیحت اُس شخص کو کی جارہی ہے جو اﷲ پر اور یومِ آخرت پر اِیمان رکھتا ہو۔ اور جو کوئی اﷲ سے ڈرے گا، اﷲ اُس کیلئے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا

آيت 2:  فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ:  «پھر جب وه اپنى (عدت كى) ميعاد كو پهنچنے لگيں تو اب ان كو يا تو (اپنے نكاح ميں) روك ركھو معروف طريقے سے، يا جدا كر دو معروف طريقے سے»

يعنى ايك يا دو طلاق دينے كى صورت ميں عدت پورى هو جانے سے پهلے مرد كو حتمى فيصله كرنا هو گا. اگر تو وه رجوع كرنا چاهتا هے تو شريعت كے طے كرده طريقے سے رجوع كر لے اور اگر اس نے طلاق هى كا فيصله كر ليا هے تو پھر بھلے طريقے سے عورت كو گھر سے رخصت كر دے. ايسا نه هو كه وه اسے ستانے كى غرض سے روكے ركھے.

وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ:  «اور اپنے ميں سے دو معتبر اشخاص كو گواه بنا لو»

يعنى اگر كوئى طلاق كے بعد رجوع كرنا چاهے تو وه اپنے لوگوں ميں سے كم از كم دو معتبر اشخاص كى موجودگى ميں ايسا كرے.

وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ:  «اور گواهى قائم كرو الله كے ليے».

ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ:  «يه هے جس كى نصيحت كى جا رهى هے هر اُس شخص كو كه جو ايمان ركھتا هو الله پر اور يومِ آخرت پر».

اس سے ملتے جلتے الفاظ سورة الاحزاب كى آيت: 21 ميں حضور صلى الله عليه وسلم كے اُسوه اور سورة الممتحنه كى آيت: 6 ميں حضرت ابراهيم عليه السلام اور آپ كے ساتھيوں كے اسوه كے بارے ميں بھى آئے هيں. مطلب يه كه حضور صلى الله عليه وسلم كا اُسوه كامله تو اپنى جگه موجود هے، اسى طرح حضرت ابراهيم عليه السلام اور آپ كے ساتھيوں كى زندگى بھى مثالى نمونه هے، ليكن كس كے ليے؟ ﴿لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾. يعنى حضور صلى الله عليه وسلم اور حضرت ابراهيم عليه السلام كے اُسوه حسنه سے استفاده صرف وهى شخص كر سكتا هے جو الله تعالى سے ملاقات اور يومِ آخرت كى حاضرى كى اُميد ركھتا هے. چنانچه آيت زير مطالعه كے اس جملے كا مفهوم بھى يهى هے كه مسائلِ طلاق سے متعلق يه وعظ اور نصيحت صرف اسى شخص كے ليے فائده مند هو سكتى هے جو واقعى الله اور يومِ آخرت پر ايمان ركھتا هو.

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا:  «اور جو شخص الله كا تقوى اختيار كرے گا، الله اس كے ليے (مشكلات سے) نكلنے كا راسته پيدا كر دے گا».

الله كے تقوى كا مقام ومرتبه واضح كرنے كا يه بهت حسين اور دلكش انداز هے اور اس اعتبار سے يه قرآن مجيد كا منفرد مقام هے. يهاں پر ايك اهم نكته يه سمجھ ليں كه حقيقى تقوى دل كا تقوى هے، جس كے بارے ميں حضور صلى الله عليه وسلم نے ايك مرتبه اپنے دست مبارك سے اپنے سينه مبارك كى طرف اشاره كرتے هوئے فرمايا: «التَّقْوَى هَهُنَا، التَّقْوَى هَهُنَا، التَّقْوَى هَهُنَا» كه اصل تقوى يهاں (دل كے اندر) هوتا هے. آپ نے يه بات تين مرتبه ارشاد فرمائى. اس كا مطلب يه هے كه تقوى كا براه راست تعلق انسان كے دل كے ساتھ هے. اگر دل ميں تقوى نهيں تو جبّه ودستار كا اهتمام اور متقيانه وضع قطع كى حيثيت بهروپ سے زياده كچھ نهيں. چنانچه اس آيت ميں اهلِ تقوى كو بهت بڑى بشارت سنائى جا رهى هے كه اگر كسى بنده مؤمن كا تقوى الله تعالى كى نگاه ميں مقبول ومنظور هوا تو اس كے ليے مشكل سے مشكل صورت حال سے نكلنے كا كوئى نه كوئى راسته ضرور پيدا كر ديا جائے گا، جيسے حضرت موسى عليه السلام بنى اسرائيل كو لے كر مصر سے نكلے تو فرعون نے انهيں ساحل سمندر پر جا ليا. اب آگے سمندر تھا اور پيچھے فرعون كا لشكر، بظاهر بچ نكلنے كا كوئى راسته نهيں تھا، مگر الله تعالى نے سمندر كو پھاڑ كر ان كے ليے راسته پيدا كر ديا.

          اسى طرح جب حضور صلى الله عليه وسلم غار ثور ميں تشريف فرما تھے تو مشركين مكه ميں سے كچھ لوگ آپ صلى الله عليه وسلم كے كھوج ميں غار كے دهانے پر پهنچ گئے تھے. انهيں ديكھ كر حضرت ابو بكر  رضى الله عنه نے عرض كيا كه حضور صلى الله عليه وسلم! اگر ان لوگوں نے نيچے اپنے قدموں كى طرف بھى ديكھ ليا تو هم انهيں نظر آ جائيں گے. حضور صلى الله عليه وسلم نے حضرت ابو بكر رضى الله عنه كو تسلى ديتے هوئے فرمايا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ {التوبة: 40} كه آپ فكر مت كريں، الله همارے ساتھ هے! اس موقع پر بھى الله تعالى نے ايسى صورت حال پيدا فرما دى كه مشركين آپ كو نه ديكھ سكے. حضور صلى الله عليه وسلم كے سفر طائف كى مثال ليں تو بظاهر وهاں سے آپ صلى الله عليه وسلم خالى هاتھ واپس آئے تھے، ليكن اس كے بعد الله تعالى نے آپ كے ليے مدينه سے كھڑكى كھول دى اور ايسے حالات پيدا فرما ديے كه آپ كے مدينه تشريف لے جانے سے پهلے هى وهاں انقلاب آ گيا. يه مثاليں گواه هيں كه الله تعالى مشكل سے مشكل حالات ميں بھى اپنے متقى بندوں كے ليے ضرور «مخرج» پيدا فرماتا هے. چنانچه اقامتِ دين كى جدوجهد ميں مصروف اهلِ ايمان كے ليے آيت زير مطالعه كے ان الفاظ ميں يه خوش خبرى هے كه وه الله كا تقوى اختيار كرتے هوئے اپنى كوششيں پورے خلوص سے جارى ركھيں. جب الله تعالى كو ان كوششوں كى كاميابى منظور هو گى تو حيرت انگيز طريقے سے منزل خود چل كر ان كے سامنے آ جائے گى.

UP
X
<>