April 24, 2024

قرآن کریم > الـطلاق >sorah 65 ayat 3

وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا

اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اﷲ پر بھروسہ کرے، تو اﷲ اُس (کاکام بنانے) کیلئے کافی ہے۔ یقین رکھو کہ اﷲ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ (البتہ) اﷲ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھاہے

آيت 3:  وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ:  «اور اسے وهاں سے رزق دے گا جهاں سے اسے گمان بھى نهيں هو گا».

اس دنيا ميں رهتے هوئے انسان كا سب سے بڑا مسئله رزق يعنى ضرورياتِ زندگى كى فراهمى كا هے. اس ليے جب كوئى الله كا بنده اپنے دل كى آواز پر لبيك كهتے هوئے فرمانِ الهى:  ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ {الأنعام: 162} كو اپنا نصب العين بنانا چاهتا هے تو اس كے راستے كى سب سے بڑى ركاوٹ يه انديشه بنتا هے كه ضرورياتِ زندگى كيسے پورى هوں گى؟ چنانچه اس حوالے سے الله تعالى كا يه فرمان اهلِ ايمان كے ليے بهت بڑى خوش خبرى هے كه اے ميرے بندو! تمهارا رازق تو ميں هوں اور تمهيں رزق دينے كے ليے ميں وسائل واسباب كا محتاج نهيں هوں. تم لوگ ايمان ويقين كے ساتھ مجھ پر اعتماد كر كے ديكھو، ميں تمهيں وهاں سے رزق دوں گا جهاں سے تمهيں گمان بھى نهيں هو گا.

وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ:  «اور جو كوئى الله پر توكل كرتا هے تو اس كے ليے وه كافى هے».

جو شخص الله تعالى پر توكل كر كے اپنے معاملات اس كے سپرد كر ديتا هے الله تعالى اس كى ضروريات وحاجات كو اپنے ذمه لے ليتا هے. اسى بات كو كسى شاعر نے اس طرح بيان كيا هے:

كارسازِ ما به فكرِ كارِ ما      فكرِ ما در كارِ ما آزارِ ما!

كه همارا كارساز تو الله هے، اور وه همارے كاموں كى فكر ميں مصروف هے، اس ليے هم اپنے كاموں كى فكر كے جھنجھٹ ميں كيوں پڑيں! ظاهر هے اگر هم خود اپنے كاموں كى فكر كريں گے تو غلطياں بھى كريں گے، نقصان بھى اٹھائيں گے اور ٹھوكريں بھى كھائيں گے، تو كيوں نه هم اپنے كام اسے سونپ كر خود كو اس كے كام (اقامتِ دين كى جدوجهد) ميں لگا ديں. الله تو ايسا قدردان هے كه اگر اس كا كوئى بنده اپنے مسلمان بھائى كى مدد كرتا هے تو وه بدلے ميں اس كا مددگار بن جاتا هے. حضور صلى الله عليه وسلم كا فرمان هے:  «مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ» كه جو كوئى اپنے مسلمان بھائى كى كوئى ضرورت پورى كرنے ميں اپنا وقت صرف كرتا هے تو الله اس كى ضرورتيں پورى كرنے ميں لگ جاتا هے. تو اگر الله كا كوئى بنده اپنى ذاتى ترجيحات كو پس پشت ڈال كر خود كو براه راست الله تعالى كے كام ميں لگا دے گا تو كيا الله اس كے معاملات كو خراب هونے كے ليے چھوڑ دے گا؟ هرگز نهيں! ايسا تو دنيا ميں هم انسانوں كے هاں بھى نهيں هوتا، بلكه هم ديكھتے هيں كه جس انسان ميں تھوڑى سى بھى شرافت اور مروّت هوتى هے وه دوسرے انسان كى وفادارى كا بدله ضرور چكاتا هے. چنانچه جب ايك انسان بھى دوسرے انسان كى وفاشعارى كا صله دينا ضرورى سمجھتا هے تو اندازه كيا جا سكتا هے كه الله تعالى اپنے ايك وفا شعار اور متوكل بندے كى كس كس انداز سے دست گيرى فرمائے گا. ياد ركھيں! توكل كا تعلق بندے كے ايمان سے هے. جس قدر گهرا اور پخته كسى كا ايمان هو گا اسى قدر مضبوط اس كا توكل هو گا. آج همارے ليے الله تعالى پر بھرپور توكل كرنا اس ليے مشكل هے كه همارا ايمان كمزور هے. تو آئيے! هم اپنا ايمان مضبوط كر كے الله پر توكل كريں. اپنے معاملات كى منصوبه بنديوں كا دردِ سر مول لينے كے بجائے تفويض الأمر إلى الله كى حكمت عملى اپنائيں. اپنے معاملات اس كے سپرد كر ديں اور اس كے كام كو اپنا كام سمجھ كر اس كے ليے اپنا تن من دھن كھپا ديں! ــــــــ ﴿وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾ {المؤمن: 44}.

إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ:  «الله تو يقينًا اپنا كام پورا كر كے هى رهتا هے».

الله تعالى نے تو اپنے دين كو غالب كرنا هى هے، ليكن اس عظيم الشان كے ليے جدوجهد كى سعادت وه اپنے بندوں كے نام كرنا چاهتا هے. اب اس كے ليے هر انسان كو خود فيصله كرنا هے كه وه اس منافع بخش «كاروبار» ميں شريك هونا چاهتا هے يا اپنى محرومى پر قناعت كر كے بيٹھے رهنے كو پسند كرتا هے. جيسے ابو بكر، عمر، عثمان، على، عبد الرحمن اور ان كے ساتھى رضى الله عنهم اس جدوجهد ميں شريك هو كر هميشه كے ليے سرخرو هو گئے. جبكه ابوجهل، ابو لهب اور ان كے هم نواؤں نے اس سے بے اعتنائى دكھائى اور ابدى محرومياں اپنے نام كرا ليں. آج هميں سنجيدگى سے غور كرنے كى ضرورت هے كه قيامِ قيامت سے پهلے پهلے اس كره ارضى پر دين اسلام كو غالب تو هونا هے اور يقينًا هم جيسے انسانوں كى كوششوں اور قربانيوں سے هى هونا هے، تو كيا هم اس بهتى گنگا ميں هاتھ دھونے كو تيار هيں يا محرومين كى صفوں ميں شامل هونا چاهتے هيں؟ ميں تو سمجھتا هوں كه همارا تن من دھن غرض سب كچھ اس جدوجهد ميں كھپ جائے اور همارى هڈياں چورا بن كر بھى اسلام كى تعمير نو ميں كام آجائيں تو يه همارى بهت بڑى كاميابى اور خوش قسمتى هو گى.

قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا:  «الله نے هر چيز كے ليے ايك اندازه مقرر كر ركھا هے».

          يه بهت خوبصورت اور سبق آموز جمله هے. غلبه دين كى جدوجهد كے تناظر ميں ديكھيں تو اس كا مفهوم واضح تر هو جاتا هے، كه اے راهِ حق كے مسافرو! تمهارى محنت اور جدوجهد كس كس گھاٹى سے هوتى هوئى كب، كهاں پهنچے گى اور الله كى مدد كب تمهارے شامل حال هو گى، الله كے هاں يه سب كچھ طے هے. يقينًا اس راستے ميں كاميابى كا دارومدار الله كى مدد پر هے، ليكن الله كى مدد تو تبھى آئے گى جب تم خود كو اس كا اهل ثابت كرو گے. اس كے ليے تمهيں منهجِ نبوى كو اپناتے هوئے هر اس راستے سے گزرنا هو گا جس راستے سے حضور صلى الله عليه وسلم اور آپ كے صحابه كرام رضى الله عنهم گزرے اور هر وه سختى برداشت كرنا هو گى جو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے ساتھيوں كے ساتھ مل كر برداشت كى. جب ان تمام امتحانات سے سرخرو هو كر آگے بڑھو گے تو خود كو ايك ايسے ميدان ميں كھڑا پاؤ گے جس كے نشيب وفراز سرزمينِ بدر كے نشيب وفراز سے ملتے جلتے هوں گے. اس ميدان كى مخالف سمت سے اسلحه كى جھنكار اور ﴿لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ﴾ كے نعروں كى گونج سنائى دے رهى هو گى، جبكه اس كى فضا ملكوتى تقدس كے احساس سے معمور هو گى. جب تم يه سب كچھ ديكھو اور محسوس كرو تو جان لينا كه تمهارى جدوجهد كا فيصله كن موڑ آ پهنچا هے. بس اس موقع پر تم سجدے ميں گر جانا اور رو رو كر دعا كرنا كه اے الله! هم نے تيرے داعى كى دعوت پر لبيك كها، هم تيرے پيغام كو لے كر قريه قريه گھومے! گلى گلى پھرے! ايك عرصه تك هم نے اپنى صبحيں اور اپنى شاميں اسى فكر ميں بِتا ديں! هم نے اس راستے ميں آنے والى هر ركاوٹ كو پھلانگنے اور هر مشكل گھاٹى كو عبور كرنے كى كوشش كى! اے الله! هم نے يه سب كچھ تيرى رضا كے ليے كيا، اور تيرى هى توفيق اور مشيت سے كيا. اے همارے پروردگار! هميں معلوم هے كه اس راستے پر چلتے هوئے هم كوشش، محنت، ايثار اور قربانى كا حق ادا نهيں كر سكے! ليكن هم سے جو هو سكا وه هم نے پورى ديانت دارى اور اخلاص سے كيا. پروردگار! هم نے اپنى سالها سال كى محنت كو آج اس ميدان ميں تيرے حضور پيش كر ديا هے! اے گناهوں كو معاف كرنے والے! تو همارے گناهوں كو معاف كر دے اور همارى كوتاهيوں كو نظر انداز كرتے هوئے همارى اس حقير سى كمائى كو قبول فرما لے ..........!

          اگر يه دعائيں مذكوره تمام مراحل كو طے كرنے كے بعد مانگى جائيں گى تو ضرور قبول هوں گى، تب الله كى مدد بھى آئے گى، فرشتے بھى اتريں گے اور دنيوى كاميابى بھى نصيب هو گى. ليكن اگر كوئى سمجھتا هے كه كاروبار بھى چلتا رهے، معيار زندگى بھى برقرار رهے، معمولاتِ زندگى ميں بھى خلل نه پڑے، مال وجان بھى محفوظ رهے، بچوں كے كيريئرز بھى بن جائيں اور همارے هى هاتھوں سے اقامتِ دين كا «كارنامه» بھى انجام پا جائے تو يه اس كى خوش فهمى هے. ايسے لوگ كسى جماعت كے اراكين كى فهرست ميں نام لكھوا كر سمجھتے هيں كه بس انهوں نے اپنا فرض ادا كر ديا هے. اس كے بعد وه انتظار ميں بيٹھ جاتے هيں كه اب الله تعالى كى مدد آئے گى، دين غالب هو جائے گا اور اس كے ليے وه الله تعالى كے هاں اجر كے مستحق ٹھهريں گے. گويا الله تعالى كو تو معلوم هى نهيں كه كس نے كيا قربانى دى هے، كس نے كتنا وقت لگايا هے، كس نے كس مرحلے پر كس مهم ميں كتنا حصه ڈالا هے. نهيں! يه كوئى اندھير نگرى نهيں! الله كے هاں هر چيز اور هر انسان كے هر عمل كا حساب موجود هے! قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا اس نے هر چيز كا اندازه مقرر كر ركھا هے!

         اب آينده آيات ميں پھر طلاق سے متعلق مسائل كا ذكر هے:

UP
X
<>