May 24, 2024

قرآن کریم > الـطلاق >sorah 65 ayat 6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ۭ وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ۚ وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ ۚ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗٓ اُخْرٰى

ان عورتوں کو اپنی حیثیت کے مطابق اُسی جگہ رہائش مہیا کرو جہاں تم رہتے ہو، اور اُنہیں تنگ کرنے کیلئے اُنہیں ستاؤ نہیں ، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن کو اُس وقت تک نفقہ دیتے رہو جب تک وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں ۔ پھر اگر وہ تمہارے لئے بچے کو دُودھ پلائیں تو انہیں ان کی اُجرت ادا کرو، اور (اُجرت مقرر کرنے کیلئے) آپس میں بھلے طریقے سے بات طے کر لیا کرو، اور اگر تم ایک دوسرے کیلئے مشکل پیدا کروگے تو اُسے کوئی اور عورت دُودھ پلائے گی

آيت 6:  أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ:  «اور ان عورتوں كو وهيں ركھو جهاں تم خود رهتے هو اپنى حيثيت كے مطابق»

پهلى آيت ميں واضح حكم آ چكا هے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ﴾ كه طلاق كے بعد انهيں فورى طور پر گھر سے مت نكالو اور نه هى وه ازخود نكليں. اسى حوالے سے اس آيت ميں مزيد وضاحت كى جا رهى هے كه عدت كے دوران مطلقه خاتون كو بدستور ويسى هى رهائش فراهم كى جائے جيسى كه تمهارے اپنے استعمال ميں هے. ايسا نه هو كه اسے تو گھر سے نه نكالو ليكن كسى ملازمه كى كوٹھڑى ميں ڈال دو.

وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ:  «اور انهيں كوئى تكليف نه پهنچاؤ انهيں تنگ كرنے كے ليے».

گھر سے نكالنے كا ايك طريقه يه بھى هو سكتا هے كه حيلے بهانے سے اسے بار بار اس قدر ستايا جائے كه وه تنگ آكر خود هى گھر سے نكل جائے. چنانچه بدنيتى پر مبنى يه طريقه استعمال كرنے سے بھى منع كر ديا گيا.

وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ:  «اور اگر وه حامله هوں تو ان پر خرچ كرتے رهو يهاں تك كه وه حمل سے فارغ هو جائيں».

دين اسلام همدردى اور غم گسارى كا دين هے اور اس كا ايك ثبوت مندرجه بالا حكم هے. حامله عورت كو انتهائى نگهداشت كى ضرورت هوتى هے، اس ليے يهاں خصوصى طور پر حكم كيا گيا كه طلاق دينے كے بعد بھى حامله عورت كا خيال ركھتے هوئے اس كى تمام ضرورتوں كو پورا كرتے رهو.

فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ:  «پھر اگر وه تمهارے ليے (تمهارے بچے كو) دودھ پلائيں تو انهيں ان كا معاوضه ادا كرو».

وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ:  «اور آپس ميں مشوره كر ليا كرو بھلے طريقے سے».

يعنى دودھ پلانے كى اجرت اور عدت سے متعلق معاملات مناسب طور سے آپس كے مشورے سے طے كيے جانے چاهييں. اگر طلاق كے بعد وه دونوں مياں بيوى نه رهے تو كيا هوا؟ آخر دونوں انسان تو هيں. چنانچه انهيں چاهيے كه تمام معاملات باهمى گفت وشنيد سے طے كريں اور ايك دوسرے سے ايسا رويّه اختيار كريں جيسا كه ايك شريف انسان كو دوسرے شريف انسان سے اختيار كرنا چاهيے.

وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ:  «اور اگر تم ايك دوسرے سے تنگى محسوس كرو»

مثلًا خاتون ضد ميں آ كر دودھ پلانے سے انكار كر دے يا اس قدر معاوضه مانگے جو مرد ادا نه كر سكے، يا مرد معاوضه دينے سے انكار كر دے، يا كسى اور طريقے سے ايك فريق دوسرے پر زيادتى كرنے كى ٹھان لے:

فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى:  «تو پھر كوئى اور عورت اس كے ليے دودھ پلائے گى».

UP
X
<>