May 24, 2024

قرآن کریم > الـتحريم >sorah 66 ayat 10

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ

جن لوگوں نے کفر اِختیار کیا ہے، اﷲ اُن کیلئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی، تو وہ دونوں اﷲ کے مقابلے میں اُن کے کچھ بھی کام نہیں آئے، اور (اُن بیویوں سے) کہا گیا کہ : ’’ دُوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔‘‘

آيت 10: ان آيات ميں عورتوں كا معامله ايك اور پهلو سے زير بحث آرها هے. واضح رهے كه ان سورتوں (الطلاق اور التحريم) كى ايك مشتركه خصوصيت يه بھى هے كه ان دونوں ميں عورتوں كے معاملات بيان هوئے هيں. چناں چه اب عورتوں پر واضح كيا جارها هے كه وه خود كو اپنے شوهروں كے تابع سمجھتے هوئے آخرت كے حساب سے نچنت نه هوجائيں. اسلام ميں عورت اور مرد كا درجه انسان هونے كى حيثيت سے برابر هے. لهذا عورتيں اپنے دين و ايمان اور اعمال و فرائض كى خود ذمه دار هيں. اگر ان كا ايمان درست هوگا اور اعمال صالحه كا پلڑا بھارى هوگا تبھى نجات كى كوئى صورت بنے گى. ان كے شوهر خواه الله كے كتنے هى برگزيده بندے كيوں نه هوں اس معاملے ميں وه ان كے كچھ كام نهيں آسكيں گے. اس حقيقت كو واضح كرنے كے ليے ان آيات ميں چار خواتين كى مثاليں دى گيى هيں:

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ: «الله نے مثال بيان كى هے كافروں كے ليے نوح عليه السلام كى بيوى اور لوط عليه السلام كى بيوى كى.»

كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ: «وه دونوں همارے بهت صالح بندوں كے عقد ميں تھيں»

فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا: «تو انهوں نے ان سے خيانت كى، تو وه دونوں الله كے مقابل ان كے كچھ كام نه آسكے»

وه جليل القدر پيغمبر اپنى بيويوں كو الله كے عذاب سے نه تو دنيا ميں بچا سكے اور نه هى آخرت ميں بچا سكيں گے. حضرت نوح عليه السلام كى بيوى سيلاب ميں غرق هوگئى اور حضرت لوط عليه السلام كى بيوى بھى اپنى قوم كے لوگوں كے ساتھ پتھراؤ كے عذاب ميں هلاك هوئى. واضح رهے كه يهاں جس خيانت كا ذكر هوا هے اس سے مراد كردار كى خيانت نهيں هے، اس ليے كه كسى نبى عليه السلام كى بيوى كبھى بد چلن اور بدكار نهيں رهى هے. ان كى خيانت اور بے وفائى دراصل دين كے معاملے ميں تھى كه وه دونوں اپنے شوهروں كى جاسوسى كرتى تھيں اور ان كے راز اپنى قوم كے لوگوں تك پهنچاتى تھيں. اس ميں كوئى شك نهيں كه ايك شادى شده عورت كى عصمت اس كے شوهر كى عزت و ناموس هے جس كى حفاظت كرنا شوهر كى طرف سے اس پر فرض هے، ليكن اس كے علاوه ايك بيوى اپنے شوهر كے رازوں اور اس كے مال وغيره كى محافظ بھى هوتى هے. سورة النساء كى آيت 34 ميں نيك اور مثالى بيويوں كى جو صفات بيان كى گئى هيں ان ميں ايك صفت حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بھى هے. اس كا مفهوم يهى هے كه نيك بيوياں اپنے شوهروں كى غير حاضرى ميں ان كے گھر بار اور حقوق كى محافظ هوتى هيں. اب ظاهر هے اس حفاظت ميں شوهر كى عزت و ناموس كے ساتھ ساتھ اس كے مال اور اس كے رازوں وغيره كى حفاظت بھى شامل هے. چناں چه يهاں خيانت سے صرف عزت و ناموس هى كى خيانت مراد لينا درست نهيں.

وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ: «اور (آخرت ميں) كه ديا جائے گا كه تم دونوں داخل هوجاؤ آگ ميں دوسرے سب داخل هونے والوں كے ساتھ.»

ان دو عبرت انگيز مثالوں سے يه حقيقت واضح هوجانى چاهيے كه الله تعالى كے وه اولوا العزم پيغمبر جنهوں نے ساڑھے نو سو سال الله تعالى كے پيغام كى دعوت ميں صرف كيے وه اگر اپنى بيوى كو برے انجام سے نهيں بچا سكا تو اور كون هوگا جو الله تعالى كے حضور اپنے كسى عزيز رشتے دار كى سفارش كرسكے گا؟ نبى اكرم صلى الله عليه وسلم نے اپنى دعوت كے آغاز ميں قبيله قريش بالخصوص اپنے قريبى عزيز و اقارب كو جمع كركے فرمايا تھا:

«يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا»

«اے قريش كے لوگو! اپنے آپ كو الله (كى گرفت) سے بچانے كى كوشش كرو، ميں الله كے مقابلے ميں تمهارے كچھ بھى كام نه آسكوں گا. اے بنى عبد المطلب! ميں الله كے مقابلے ميں تمهارے كچھ بھى كام نه آسكوں گا. اے عباس بن عبد المطلب! ميں الله كے مقابلے ميں تمهارے كچھ بھى كام نه آسكوں گا. اے صفيه، الله كے رسول كى پھوپھى! ميں الله كے مقابله ميں تمهارے كچھ بھى كام نه آسكوں گا. اے فاطمه، الله كے رسول كى بيٹى! تم مجھ سے (ميرے مال ميں سے) جو چاهو طلب كرلو، ليكن ميں الله كے مقابله ميں تمهارے كچھ بھى كام نه آسكوں گا.»

        ايك روايت ميں يه الفاظ بھى آئے هيں:

«يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا»

«اے محمد (صلى الله عليه وسلم) كى لخت جگر فاطمه رضى الله عنها! اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ، كيوں كه مجھے تمهارے بارے ميں الله كے هاں كوئى اختيار نهيں هوگا.»

UP
X
<>