May 24, 2024

قرآن کریم > الـملك >sorah 67 ayat 1

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

بڑی شان ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

آيت 1:  تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ: «بهت هى با بركت هے وه هستى جس كے هاتھ ميں بادشاهى هے»

يه دين اسلام كے سياسى منشور كى بنيادى شق هے۔ يعنى پورى كائنات كا اقتدار اور اختيار كلى طور پر الله تعالى كے دست قدرت ميں  هے۔ دنيا ميـں اگر انسانوں كے هاں الله تعالى كے احكام سے كهيں بغاوت دكھائى ديتى هے تو وه بھى دراصل اسى كے عطا كرده اختيار كى وجه سے هے۔ اس ميں ايمان كے دعوے دار كا امتحان بھى هے كه وه بھلا الله كے اقتدار كو چيلنج كرنے والوں كے مقابلے ميں كيا طرز عمل اختيار كرتے هيں۔ ورنه سورج چاند ستارے كهكشائيں هوائيں اور كائنات كا ذره ذره الله تعالى كے حكم كا پابند اور تابع هے۔

پورى كائنات پر الله تعالى كى حكومت اور قدرت كى كيفيت يه هے كه كهيں كوئى ايك ذره بھى اس كى مرضى كے بغير حركت نهيں كر سكتا، اور حركت كرتا هوا كوئى ذره بھى اس كى مرضى كے بغير ساكن نهيں هو سكتا۔ اپنى تمام مخلوق ميں صرف انسان كو اس نے ايك حد تك ارادے اور عمل كا اختيار ديا هے، اور وه بھى اس ليے كه اس ميں انسان كى آزمائش مقصود هے، مگر انسان هے كه هلدى كى يه گانٹھ مل جانے پر پنسارى بن بيٹھا هے، اب كهيں وه فرعون بن كر الله كے مقابلے ميں «ميرى حكومت، ميرا ملك اور ميرا مثالى نظام» جيسے دعووں كا ڈھنڈورا پيٹتا هے، تو كهيں كسى فرعون كى چاكرى اور وفا دارى كى دھن ميں مقتدر حقيقى كے احكام كو پامال كرتا چلا جاتا هے، جب كه حقيقت ميں انسان كى بے بسى كا يه عالم هے كه خود اپنے جسم پر بھى اسے كوئى اختيار نهيں۔ ظاهر هے كه انسان كے جسم كى فزيا لوجى اور اناٹومى كا سارا نظام نظام بھى تو الله تعالى كے طے كرده قانون كے تابع هے۔ اگر كوئى شخص چاهے كه وه اپنے دل كو آرام دينے كے ليے تھوڑى دير كے ليے بند كردے، اور پھر اپنى مرضى سے دوباره رواں كرلے تو اس كے ليے يه ممكن نهيں۔

وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ: «اور وه هر چيز پر قادر هے»۔

UP
X
<>