September 26, 2020

قرآن کریم > الأعراف

الأعراف

سُورۃُ الاعْراف

تمہیدی کلمات

            سورۃ الاعرا ف قرآن حکیم کی طویل ترین مکی سورت ہے۔ اس سورت کا سورۃ الانعام کے ساتھ چونکہ جوڑے کا تعلق ہے اس لیے اس کے مضامین کا تعارف سورۃ الانعام کے آغازمیں  آ چکا ہے۔ وہاں  پر التذکیر بِآلاء اللّٰہ اور التذکیر بِاَیَّاْمِ اللّٰہ کے فلسفے پر بھی تفصیلی بحث ہو چکی ہے اور دونوں  سورتوں  میں  مضامین کی اس تقسیم کا ذکر بھی ہو چکا ہے کہ سورۃ الانعام میں  تذکیر بِآلاء اللّٰہ پر زور ہے جب کہ سورۃ الاعراف میں   تذکیربِاَیَّامِ اللّٰہ پر۔ سورۃ الاعراف کے موضوعات کی ترتیب اس طرح سے ہے کہ سب سے پہلے قصہ آد م و ابلیس بیان کر کے انسانی تخلیق کے آغاز کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر حیاتِ دُنیوی کے اختتامی دور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس اختتامی دَور میں  تین اقسام کے لوگوں  کی تفصیل آ گئی ہے۔ پہلے اہل ِجہنم کا تذکرہ ہے‘ اس کے بعد اہل ِجنت کا،  اور پھر اصحابِ اعراف کا‘ یعنی وہ لوگ جن کے جنت یا دوزخ میں  دخول کے بارے میں  ابھی فیصلہ نہیں  ہوا ہو گا۔ اس طرح حیاتِ انسانی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے تذکرے کے بعد حیاتِ انسانی کے ’’درمیانی دَور‘‘ کا تذکرہ  تذکیر بِاَیَّـامِ اللّٰہ (انبیاء و رسل اور ان کی قوموں  کے حالات) کے طور پر آ گیا ہے‘ جو اس سورت کے مضامین کا عمود  (main theme)  ہے۔ 

UP
X
<>