April 13, 2021

قرآن کریم > الأعراف >surah 7 ayat 8

وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 

اور اُس دن (اعمال کا) وزن ہونا اٹل حقیقت ہے۔ چنانچہ جن کی ترازو کے پلے بھاری ہوں گے، وہی فلاح پانے والے ہوں گے

آیت 8:   وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ الْحَقُّ:  ’’اور اُس روز وزن ہو گا حق ہی میں (یا وزن ہی فیصلہ کن ہو گا)‘‘

 

            اُس روز اللہ تعالیٰ ترازو نما کوئی ایسا نظام قائم کرے گا، جس کے ذریعے سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ہو گا‘ مگر اُس دن وزن صرف حق ہی میں ہو گا‘ یعنی صرف اعمالِ صالحہ ہی کا وزن ہو گا‘ باطل اور برے کاموں میں سرے سے کوئی وزن نہیں ہو گا‘ ریاکاری کی نیکیاں ترازو میں بالکل بے حیثیت ہوں گی۔ وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ الْحَقُّ: کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اُس دن وزن ہی حق ہو گا‘ وزن ہی فیصلہ کن ہو گا۔ اگر دو پلڑوں والی ترازو کا تصور کریں تو جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو گا نجات بس اسی کے لیے ہو گی۔

 

            فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ:  ’’تو جس کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘ 

 

UP
X
<>