October 29, 2020

قرآن کریم > الـمّـدّثّـر

الـمّـدّثّـر

بسم الله الرحمن الرحيم

سورة المدثر

تمهيدى كلمات

        سورة المدثر اور سورة المزمل كى باهمى مشابهت و مناسبت ان دونوں سورتوں كى ابتدائى آيات كے الفاظ (يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّل قُمِ) اور (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ) سے واضح هے۔ ان دونوں آيات ميں حضور صلى الله عليه وسلم كو چادر، كمبل يا لحاف چھوڑ كر اٹھ كھڑے هونے كا حكم ديا گيا هے۔ اس حوالے سے سورة المزمل ميں قيام الليل كے اهتمام كى ترغيب هے تو اس سورت ميں قيام النهار (عملى محنت اور مشقت) كى تيارى كا حكم هے۔ حضور اگر چه پهلے سے هى معراج انسانيت كے درجے پر فائز تھے اور اس حوالے سے آپ كو (وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ) (ن: 4) كى سند بھى عطا هوچكى تھى۔ ليكن قيام الليل كى رياضت كا مقصد يه تھا كه رات كى تنهائيوں ميں ترتيل قران كى مشق سے قران مجيد آپ كے پورے وجود ميں سرايت كر جائے اور رسالت كى بھارى ذمه دارى اٹھانے كے آپ كى روحانى طاقت ميں مزيد اضافه هوجائے۔ علامه اقبال نے اپنے مصرعے ميں قران كى تاثير كے اسى پهلو كا ذكر كيا هے: كے اسى پهلو كا ذكر كيا هے: «چوں بجاں در رفت جاں ديگر شود» كه قران مجيد جس انسان كى روح ميں سرايت كرجاتا هے اس كى پورى شخصيت هى بدل جاتى هے۔

        سورة المدثر كى پهلى سات آيات كے بارے ميں اگر چه حضرت جابر بن عبد الله سے منقول ايك روايت يه بھى هے كه يه حضور پر نازل هونے والى پهلى وحى تھى، ليكن تمام اهل علم كى متفقه رائے يهى هے كه پهلى وحى سورة العلق كى پهلى پانچ آيات پر مشتمل تھى۔ (پهلى وحى سورة العلق كى ابتدائى پانچ آيات، دوسرى وحى سوره ن كى ابتدائى سات آيات اور تيسرى وحى سورة المزمل كى ابتدائى دس آيات پر مشتمل تھى۔) اس مغالطے اور اختلاف كى وجه يه هے كه فترت وحى كے بعد وحى كا دوباره آغاز سورة المدثر كى ابتدائى آيات سے هوا تھا۔ در اصل تيسرى وحى كے بعد كئى ماه تك نزول وحى كا سلسله بند رها۔ اس وقفے كو سيرت نگاروں نے «فترت وحى» كا نام ديا هے۔ اس دوران الله تعالى نے حضرت اسرافيل عليه السلام كے ذريعے حضور كى تعليم كا سلسله جارى ركھا اور خصوصى علوم كے بيش بها خزانے آپ كو عطا فرمائے۔ نزول وحى ميں مذكوره وقفے كى وجه سے آپ اكثر رنجيده اور پريشان رهتے تھے۔ اسى كيفيت ميں ايك دن آپ كو حضرت جبريل اپنى اصلى مَلَكِى شكل ميں نظر آئے۔ اس واقعے كى تفصيل جو احاديث سے ملتى  هے اس كا خلاصه يه هے كه ايك دن آپ غار حرا سے نيچے اتر رهے تھے تو آپ كو ايك آواز سنائى دى «يا محمد» (صلى الله عليه وسلم)! آپ نے ادھر ادھر ديكھا تو آپ كو كهيں كوئى آدمى نظر نه آيا۔ آپ چند قدم آگے گئے تو پھر آواز آئى «يا محمد»! اس مرتبه بھى جب پكارنے والا نظر نه آيا تو آپ كو آپ كو بجا طور پر گھبراهٹ اور تشويش هوئى۔ اسى كيفيت ميں جب آپ مزيد آگے بڑھے تو تھوڑى دير بعد وهى آواز تيسرى مرتبه سنائى دى۔ اس پر جب آپ كى نگاه اٹھى تو سامنے افق پر آپ كو حضرت جبرائيل عليه السلام اپنى اصلى ملكى شكل ميں اس طرح نظر آئے كه پورا افق ان كى موجودگى كى وجه سے بھرا هوا تھا۔ اس منظر كو ديكھنے كے بعد آپ گھبرا گئے اور آپ پر كپكپى طارى هوگئى۔ بالكل اسى كيفيت كا سامنا آپ كو پهلى وحى كے وقت بھى كرنا پڑا تھا۔ گھر پهنچنے پر آپ كمبل يا لحاف اوڑھ كر ليٹ گئے تو اسى حالت ميں آپ پر سورة المدثر كى پهلى سات آيات نازل هوئيں۔ چوں كه يه كرنا پڑا تھا۔ گھر پهنچنے پر آپ كمبل يا لحاف اوڑھ كر ليٹ گئے تو اسى حالت ميں آپ پر سورة المدثر كى پهلى سات آيات نازل هوئيں۔ چوں كه يه «فترت» كے بعد پهلى وحى تھى اس ليے بعض روايات ميں اس كا ذكر پهلى وحى كے طور پر بھى آيا هے۔ بهر حال اس وحى كى ايك خصوصى اهميت يه بھى هے كه اس سے حضور كى «رسالت» كا آغاز هوا، جب كه سورة العلق كى پهلى پانچ آيات كے نزول كے ساتھ آپ كى «نبوت» كا ظهور پهلى وحى كے نزول كے وقت هوتا هے۔

        ان دونوں سورتوں كى ابتدائى آيات (يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّل اور يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ) كے مفهوم كا ايك پهلو اور بھى هے جسے سمجھنے كے ليے حضور كى قبل از بعثت زندگى كے شب و روز كا مطالعه ضرورى هے۔ آپ كے دور كى اس زندگى كا نقشه ذهن ميں لائيں تو هم ديكھتے هيں كه آپ كا بچپن اور لڑكپن عسرت اور مشقت ميں گزرا۔ باقاعده طور پر عملى زندگى ميں قدم ركھنے كے بعد آپ نے دوسروں كے سرمائے سے تجارت شروع كى۔ سائيكا لوجى كى اصطلاح ميں بات كريں تو ابتدائى زندگى كے دور ميں آپ لسى حد تك بيروں بين (extroward) شخصيت كے حامل تھے۔ ليكن حضرت عائشه كى ايك روايت كے مطابق لگ بھگ چاليس سال كى عمر ميں آپ خلوت گزينى كو پسند فرمانے لگے تھے۔ يعنى اس عمر ميں آپ كى طبيعت رفته رفته غور و فكر اور سوچ بچار يعنى دروں بين (introward) رويے كى طرف مائل هوتى چلى گئى۔ غار حرا ميں آپ كا آنا جانا بھى اسى دور ميں شروع هوا۔ يوں سائيكا لوجى كى ان دو اصطلاحات كے حوالے سے آپ كى شخصيت ميں توازن كا رنگ پيدا هوگيا۔ اس حوالے سے ميرى رائے يه هے كه پورى نسل انسانى ميں صرف ايك هى شخصيت ايسى هے جو بيرون بينى اور دروں بينى كے رجحانات ميں كليتا متوازن هے اور وه هے محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم كى شخصيت !

        اب سوال يه هے كه غار حرا ميں جا كر آپ كيا كرتے تھے؟ اس سوال كا جواب بھى حضرت عائشه رضى الله عنها كى مذكوره روايت ميں موجود هے۔ آپ فرماتى هيں كه غار حرا ميں آپ عبادت كيا كرتے تھے (حضرت عائشه رضى الله عنها نے «تحنث» كا لفظ استعمال كيا هے، جس كى تشريح امام زهرى نے «تعبد» سے كى هے۔) اس حوالے سے شارحين حديث نے آپ كے تحنث يا تعبد كى كيفيت يه بيان كى هے كه غار حرا كى خلوت ميں بيٹھ كر آپ اپنا وقت غور و فكر اور سوچ بچار (التفكر والاعتبار) ميں گزارتے تھے۔ ان هى حالات ميں جب آپ پر وحى نازل هوئى تو ذمه دارى كے شديد احساس كى وجه سے آپ كى سوچ بچار اور تشويش ميں اور بھى اضافه هوگيا۔ اس پس منظر ميں ديكھا جائے تو ان دونوں سورتوں كى ابتدائى آيات ميں آپ كى چادر اور كمبل اوڑھنے كى كيفيت كا تذكره گويا آپ كى زندگى كے اس مخصوص دور كا تذكره هے جس دور ميں آپ هر وقت فكر و تدبر كى چادر ميں ليٹے رهتے تھے۔ اس حوالے سے ان دونوں سورتوں كى ابتدائى آيات (يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّل قُمِ) اور (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ) كا مفهوم يه هوگا كه اے نبى (صلى الله عليه وسلم!) آپ كے سوچ بچار كا دور اب ختم هوا چاهتا هے، اب آپ اٹھيے اور عملى جدو جهد كا آغاز كيجيے۔

        مضمون كے اعتبار سے يه سورت تين حصوں پر مشتمل هے۔ اس لحاظ سے سورة العلق كے ساتھ اس كى خاص مناسبت اور مشابهت هے۔

UP
X
<>