November 23, 2020

قرآن کریم > الـمّـدّثّـر >sorah 74 ayat 3

وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ

اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو

آيت 3: وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ: «اور اپنے رب كو بڑا كرو!»

        غور كيجيے! رب كو بڑا كرنے كا كيا مطلب هے؟ وه تو اپنى ذات ميں خود هى سب سے بڑا هے۔ هم انسان اس كو بھلا كيا بڑا كريں گے؟ اس كا مطلب دراصل يه هے كه اس زمين ميں الله تعالى كى بڑائى عملًا تسليم نهيں كى جا رهى۔ الله تعالى نے انسان كو جو محدود اختيار عطا فرمايا تھا اس كے بل پر اس نے اسى كے خلاف علم بغاوت بلند كرديا۔ اس كا نتيجه يه نكلا كه دنيا ميں هر جگه ظلم اور فساد كا بازار گرم هوگيا هے: (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ) (الروم 41) «بحر و بر ميں فساد رونما هوچكا هے، لوگوں كے اعمال كے سبب»۔ چناں چه اب جو كوئى بھى الله كو اپنا الٰه اور اپنا رب مانتا هے، اس پر لازم هے كه وه الله تعالى كى پارٹى (حزب الله) كا ممبر اور اس كى فوج كا سپاهى بن كر لوگوں سے اس كى بڑائى كو منوانے اور اس كى كبريائى كو عملى طور پر دنيا ميں نافذ كرنے كى جدوجهد ميں اپنا تن من اور دھن كھپا دے، تاكه الله كى بات سب سے اونچى هو: (وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّهِ) (الأنفال 39) «اور دين كل كا كل الله كے ليے هو جائے»۔ يه هے «تكبيرِ رب» يا رب كو بڑا كرنے كے مفهوم كا خلاصه۔ گويا ان دو لفظوں ميں حضور صلى الله عليه وسلم كى بعثت كا مقصد اور آپ صلى الله عليه وسلم كے مشن كا پورا فلسفه بيان كرديا گيا هے۔ اس حوالے سے «تكبير رب» كى اصطلاح كى حيثيت ايك گٹھلى كى هے جس ميں سے اقامت دين، غلبه دين، اظهارِ دينِ حق، حكومت الٰهيه وغيره اصطلاحات كى كونپليں پھوٹى هيں۔

        سورت كى ان ابتدائى تين آيات ميں حضور صلى الله عليه وسلم كى زندگى كے دور كى ايك جھلك بھى نظر آتى هے جب آپ صلى الله عليه وسلم پر تفكر و تدبر بلكه تشويش اور فكر مندى كا غلبه تھا۔ غار حرا كے اندر پهلى وحى كا نزول آپ صلى الله عليه وسلم كے ليے بالكل ايك نيا تجربه تھا جس پر آپ صلى الله عليه وسلم بجا طور پر فكر مند تھے۔ پھر ورقه بن نوفل نے آپ صلى الله عليه وسلم كے آئنده حالات كے بارے ميں جن خدشات كا اظهار كيا تھا اس كى وجه سے آپ صلى الله عليه وسلم كى تشويش ميں مزيد اضافه هوا۔ ورقه بن نوفل حضرت خديجه رضى الله عنها كے چچا زاد بھائى تھے۔ پهلى وحى كے واقعه كے بعد حضرت خديجه حضور صلى الله عليه وسلم كو خصوصى طور پر ان كے پاس لے كر گئيں۔ وه صاحب بصيرت عيسائى راهب تھے۔ انهوں نے آپ سے غار حرا ميں پيش آنے والے  واقعه كى تفصيل سننے كے بعد كها كه آپ صلى الله عليه وسلم كے پاس وهى ناموس آيا هے جو حضرت موسى عليه السلام اور حضرت عيسى عليه السلام پر نازل هوا تھا۔ انهوں نے مزيد كها كه كاش ميں اس وقت تك زنده رهوں جب آپ صلى الله عليه وسلم كى قوم آپ صلى الله عليه وسلم كو اس شهر سے نكال دے گى۔ حضور صلى الله عليه وسلم نے ورقه بن نوفل كى اس بات پر پريشانى اور حيرت كا اظهار كرتے هوئے ان سے پوچھا كه كيا ميرى قوم مجھے يهاں سے نكال دے گى؟ آپ صلى الله عليه وسلم كا مطلب تھا كه وه سب لوگ تو مجھ سے بے حد محبت كرتے هيں، مجھے صادق اور امين مانتے هيں، اور ميرے قدموں ميں اپنى نگاهيں بچھاتے هيں، بھلا وه مجھے كيوں شهر بدر كريں گے؟ اس پر ورقه بن نوفل نے جواب ديا كه الله كے پيغام كو لوگوں تك پهنچانے كى يه ذمه دارى جس كسى كو بھى ملى اس كى قوم اس كى دشمن بن گئى، هميشه سے ايسے هى هوتا آيا هے اور اب بھى ايسا هى هوگا۔ حضور صلى الله عليه وسلم سے اس ملاقات كے بعد جلد هى ورقه بن نوفل كا انتقال هوگيا۔

          اس واقعه سے حضور صلى الله عليه وسلم كى نبوت اور رسالت كا فرق بھى واضح هوجاتا هے۔ ورقه بن نوفل نے حضور صلى الله عليه وسلم كى نبوت كى تصديق تو كردى تھى ليكن اس وقت تك حضور صلى الله عليه وسلم كو اپنى دعوت كى تبليغ كا حكم نهيں ملا تھا۔ يعنى اس وقت تك صرف آپ صلى الله عليه وسلم كى نبوت كا ظهور هوا تھا، رسالت كى ذمه دارى ابھى آپ صلى الله عليه وسلم كو نهيں ملى تھى۔ اسى ليے حضور صلى الله عليه وسلم نے انهيں ايمان كى دعوت بھى نهيں دى اور اسى ليے ورقه بن نوفل كا شمار صحابه ميں بھى نهيں هوتا۔

UP
X
<>