September 23, 2020

قرآن کریم > الأنفال

الأنفال

سُورۃُ الانفال

تمہیدی کلمات

            سورۃ الانفال مدنی سورت ہے اور اس کا سورۃ التوبہ (مدنی) کے ساتھ جوڑا ہونے کا تعلق ہے۔ اس گروپ کی چاروں سورتوں میں معنوی ربط یوں ہے کہ پہلی دو مکی سورتوں (الانعام اور الاعراف) میں مشرکین عرب پر رسول اللہ کی مسلسل دعوت کے ذریعے اتمامِ حجت ہوا‘ اور بعد کی دو مدنی سورتوں (الانفال اور التوبہ) میں اس اتمامِ حجت کے جواب میں ان لوگوں پر عذاب کا تذکرہ ہے۔ موضوع کی اس مناسبت کی بنا پر یہ چاروں سورتیں دو دو کے دو جوڑوں کے ساتھ ایک گروپ بناتی ہیں۔

            سورۃ الانفال غزوۂ بدر کے متصلاً بعد اور سوره آلِ عمران کے اکثر حصے سے پہلے نازل ہوئی۔ چنانچہ اس سورت کے مطالعے سے پہلے غزوه بدر کے پس منظر کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ اور اس پس منظر کے مطالعہ سے بھی پہلے نبی اکرم کی دعوتی و انقلابی تحریک کے منہج و مراحل کے حوالے سے غزوه بدر کی خصوصی اہمیت اور حیثیت کا تعین بھی ضروی ہے۔ چنانچہ جب ہم غزوۂ بدر کو قرآن کے فلسفہ ٔتذکیر بایام اللہ اور سورۃ الانفال کے خصوصی تناظر میں دیکھتے ہیں تو اس کے مندرجہ ذیل دو بہت اہم پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں:

 (1) مشرکین مکہ پر عذاب کا پہلا کوڑا: اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق رسولوں کا انکار کرنے والی اقوام پر اجتماعی طور پر عذابِ استیصال نازل ہوتا رہا ہے۔ اسی قانونِ قدرت کا اطلاق ہجرت کے بعد مشرکین مکہ پر بھی ہونے والا تھا۔ نبی اکرم نے بارہ تیرہ برس تک مختلف انداز میں دعوت دے کر اپنی قوم پر اتمامِ حجت کر دیا تھا۔ اس کے بعد آپ کے لیے ہجرت کا حکم گویا ایک واضح اشارہ تھا کہ مشرکین مکہ اپنے مسلسل انکار کے باعث اب عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں‘ لیکن حکمت ِالٰہی کے پیش نظر قریش کا معاملہ اپنی نوعیت میں اس لحاظ سے منفرد رہا کہ ان پر عذاب یکبارگی ٹوٹ پڑنے کے بجائے بالاقساط نازل ہوا۔ لہٰذا اس عذاب کی قسط اوّل اُن پر بدر کے میدان میں نازل ہوئی۔ انہیں حرمِ مکہ سے نکال کر میدانِ بدر میں بالکل اسی طرح سے لایا گیا جیسے آلِ فرعون کو اُن کے محلات سے نکالا گیا تھا اور سمندر میں لا کر غرق کر دیا گیا تھا۔

            میدانِ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے‘ ستر افراد قیدی بنے اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ انجام ان جنگجوؤں کا ہوا جو فن حرب کی مہارت اور بہادری میں پورے عرب میں مشہور تھے‘ اپنے دور کے جدید ترین اسلحہ سے لیس اور تعداد میں اپنے حریف لشکرسے تین گنا تھے۔ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی بے سروسامانی کا عالم یہ تھا کہ تین سو تیرہ میں سے صرف آٹھ افراد کے پاس تلواریں تھیں۔ ان نہتے تین سو تیرہ مجاہدین کے ہاتھوں ایک ہزار کے مسلح لشکر کی یہ ذلت اور ہزیمت دراصل قریش مکہ کے لیے عذابِ الٰہی کی پہلی قسط تھی ‘جس کا ذکر سورۃ الانفال میں ہوا ہے۔ (اس عذاب کا آخری مرحلہ سن 9 ہجری میں آیا‘ جس کا ذکر سورۃ التوبہ میں ہے۔ )

(2) غلبہ دین کی جدو جہد کا حتمی اور ناگزیر مرحلہ (اقدام): غزوه بدر رسول اللہ کی غلبۂ دین کی جدوجہد کے پانچویں اور آخری مرحلے یعنی حق و باطل کے درمیان باقاعدہ تصادم کا نقطہ آغاز تھا اور اس مرحلے کو سر کرنے کے بعد یہ تحریک بالآخر تاریخ انسانی کے عظیم ترین اور جامع ترین انقلاب پر منتج ہوئی۔ اس تحریک کے ابتدائی چار مراحل یعنی دعوت‘ تنظیم‘ تربیت اور صبر محض تو مکہ مکرمہ میں طے ہو گئے تھے۔ اس سلسلے کے چوتھے مرحلے (صبر محض) کا تذکرہ سورۃ النساء کی آیت ۷۷ میں  کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ:  کے الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اپنے ہاتھ باندھ کر رکھو‘ یعنی تمہارے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں تو بھی تمہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے‘ حتیٰ کہ مدافعانہ کارروائی کی بھی اجازت نہیں ہے۔

             ان چار مراحل کو کامیابی سے طے کرنے کا نتیجہ تھا کہ نبی اکرم کے پاس جاں نثاروں کی ایک مختصر مگر انتہائی مضبوط جماعت تیار ہو گئی تھی‘ جو سرد و گرم چشیدہ تھے‘ ہر طرح کی سختیاں جھیل چکے تھے‘ ہر قسم کی قربانیاں دے چکے تھے اوران کے اخلاص مع اللہ میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی۔ اس تربیت یافتہ‘ منظّم اور مضبوط جماعت کی تیاری کے بعد اب باطل کو للکارنے کا وقت قریب آ چکا تھا۔ لہٰذا مدینہ کی طرف ایک کھڑکی کھول کر دارالہجرت کا انتظام کر دیا گیا‘ تا کہ یہ ساری قوت ایک جگہ مجتمع ہو کر آخری مرحلے (اقدام) کے لیے تیاری کر سکے اور یہی وجہ تھی کہ یہ ہجرت تمام اہل ایمان پر فرض کر دی گئی تھی۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ ہجرت فرار (flight) نہیں تھی‘ جیسا کہ مغربی مؤرخین اسے یہ نام دیتے ہیں‘ بلکہ ایک باقاعدہ سوچی سمجھی‘ طے شدہ حکمت عملی تھی‘ جس کے تحت اس تحریک کے ہیڈ کوارٹرز کو متبادل base کی تلاش میں مکہ سے مدینہ منتقل کیا گیا‘ تا کہ وہاں سے فیصلہ کن انداز میں اقدام کیا جا سکے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو اس موضوع پر میری کتاب ’’منہج انقلابِ نبوی‘‘۔)

            یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ وضاحت طلب ہے اور وہ یہ کہ اٹھارہویں صدی میں مغربی علوم و تہذیب کی شدید یلغار کے سامنے مسلمان ہر میدان میں پسپا ہوتے چلے گئے‘ چنانچہ جب مغرب کی طرف سے یہ الزام لگا یا گیا کہ  ع

’’بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے!‘‘

یعنی یہ کہ اسلام تلوار کے زورسے پھیلا ہے تواس کے جواب میں ہمارے کچھ بزرگوں کی طرف سے پورے خلوص کے ساتھ معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا گیا۔ شاید یہ اس وقت کے حالات کی وجہ سے مجبوری بھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں محکومی و غلامی کی حالت میں مسلمان خصوصی طور پر انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان حالات میں کچھ مسلمان رہنما ایک طرف اپنی قوم کے تحفظ کے بارے میں فکر مند تھے تو دوسری طرف وہ اسلام اور سیرت النبی کا دفاع بھی کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اس الزام کے جواب میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ نبی اکرم نے خود سے کوئی ایسا جارحانہ اقدام نہیں کیا‘ بلکہ تمام جنگیں آپ پر مسلط کی گئی تھیں اور آپ نے تمام جنگیں اپنے دفاع میں لڑیں۔

            ہندوستان میں ان خطوط پر سب سے زیادہ کام علامہ شبلی نعمانی  نے کیا ہے۔ وہ سر سیّد احمد خان کے زیر اثر تھے اور یہ سب لوگ مل کر جدید مغربی افکار و خیالات‘ تہذیب و تمدن اور اقدار و نظریات کے طوفان کا خلوصِ نیت سے مقابلہ کر رہے تھے‘ جو بہر حال کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لہٰذا اس سلسلے میں انہیں معذرت خواہانہ (apologetic) انداز اختیار کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ شبلی نے ’’سیرت النبی‘‘ تحریر کرتے ہوئے غزوۂ بدر سے پہلے کی آٹھ مہمات (جن میں چار غزوات اور چار سرایہ تھیں) کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے‘ تا کہ یہ ثابت نہ ہو کہ پہل کا اقدام (initiative) حضور اکرم کی طرف سے ہوا تھا۔

            مذکورہ مصلحت آمیز حکمت عملی ایک خاص دور کا تقاضا تھی‘ لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ آج اسلام کا یہ فکر و فلسفہ پوری وضاحت کے ساتھ دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسانی معاشرے میں عملی تنفیذ کے لیے اپنا غلبہ چاہتا ہے اور حضور کا مقصد ِبعثت ہی دین کو غالب کرنا تھا۔ اسی طرح دین کو غالب کرنے کی اس انقلابی جدوجہد کی آج بھی ضرورت ہے۔ یہ جدو جہد جب بھی اور جہاں بھی شروع کی جائے گی اس کے لیے منظم انداز میں تیاری کی ضرورت ہوگی۔ اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے‘ سیرتِ مطہرہ کی روشنی میں تیاری کا یہ کٹھن سفر بتدریج پانچ مراحل طے کرتا ہوا نظر آتا ہے‘ یعنی دعوت‘ تنظیم‘ تربیت‘ صبر محض اور اقدام۔ اگر پہلے چار مراحل کامیابی سے طے کر لیے جائیں تو اس کے بعد یہ جدوجہد آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے جس میں باطل کو للکار کر اس سے ٹکر لی جاتی ہے۔ اس کی منطقی وجہ یہ ہے کہ حق اور باطل دو ایسی متضاد اور متحارب قوتیں ہیں جو متوازی انداز میں نہیں چل سکتیں۔ دونوں میں بقائے باہمی (co-existence) کے اصول پر مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ ان میں سے ایک قوت غالب ہو گی تو دوسری کو لازمی طور پر مغلوب ہونا پڑے گا۔ لہٰذا اگر حق اور اہل حق طاقتور ہیں تو وہ کسی قیمت پر باطل سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے حالات کی نزاکت کے تحت منکرین ِزکوٰۃ کے ساتھ رعایت کرنے کے مشورے کے جواب میں فرمایا تھا: اَیُبَدَّلُ الدِّیْنُ وَاَنَا حَیٌّ ( کیا دین میں ترمیم کی جائے گی جبکہ میں ابھی زندہ ہوں!)۔ لہٰذا سورۃ الانفال کا مطالعہ کرتے ہوئے اس فلسفے کو پوری وضاحت کے ساتھ سمجھنا اور ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

غزوه بدر کا پس منظر: مدینہ تشریف لانے کے بعد رسول اللہ نے داخلی استحکام پر ترجیحی طور پر توجہ مرکوز فرمائی۔ اس سلسلے میں پہلے چھ ماہ میں آپ نے تین انتہائی اہم امور سر انجام دیے۔ اوّلاً آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر مکمل کروائی‘ جس کی صورت میں آپ کو ایک ایسا مرکز میسر آگیا جو بیک وقت ایک گورنمنٹ سیکرٹیریٹ بھی تھا اور پارلیمنٹ ہاؤس بھی‘ دار العلوم اور خانقاہ بھی تھا اور عبادت گاہ بھی۔ ثانیاً آپ نے مہاجرین اور انصار میں مواخات کا رشتہ قائم کرا دیا‘ جس سے نہ صرف مہاجرین کے معاشی و معاشرتی مسائل حل ہو گئے‘ بلکہ مدینہ میں ان دونوں فریقوں کے افراد پر مشتمل ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ گیا جس کے افراد باہمی محبت اور اخلاص کے گہرے رشتہ میں منسلک تھے۔ اس سلسلے کا تیسرا اور اہم ترین کارنامہ میثاقِ مدینہ تھا۔ یعنی یہودی قبائل کے ساتھ مدینہ کے مشترک دفاع کا معاہدہ‘ جس کے تحت حملے کی صورت میں مدینہ کے یہودی قبائل مسلمانوں کے ساتھ مل کر شہر کا دفاع کرنے کے پابند ہو گئے۔

            داخلی محاذ پر ان معاملات سے فارغ ہونے کے بعد ہجرت کے ساتویں ماہ سے آپ نے مدینہ کے اطراف و جوانب میں چھاپہ مار دستے بھیجنے شروع کر دیے۔ قریش مکہ کی معیشت کا دارومدار تجارت پر تھااور مکہ سے یمن اور شام کی طرف اُن کے تجارتی قافلے سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔ یہ دونوں تجارتی شاہراہیں قریش مکہ کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ آپ نے اِن دونوں شاہراہوں پر اپنے فوجی دستوں کی نقل و حرکت سے قریش کو یہ باور کرا دیا کہ ان کی یہ معاشی شہ رگ اب ہماری زد میں ہے اور ہم جب چاہیں اسے کاٹ سکتے ہیں۔ اپنی معیشت کے بارے میں ایسے خدشات کا تصور قریش کے لیے بہت ہی بھیانک تھا۔ غزوۂ بدر (2 ہجری) سے پہلے‘ ڈیڑھ سال کے دوران میں ایسی آٹھ مہمات کا بھیجا جانا تاریخ سے ثابت ہے۔ ان میں سے چار مہمات میں رسول اللہ کی بنفس نفیس شرکت بھی ثابت ہے۔ آپ جن جن علاقوں میں تشریف لے گئے وہاں پر آباد قبائل کے ساتھ آپ نے دوستی کے معاہدے کر لیے‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے اطراف و جوانب میں آباد اکثر قبائل جو پہلے قریش کے دوست تھے اب مسلمانوں کے حلیف بن گئے‘ جبکہ کچھ قبائل نے غیر جانبدار رہنے کے معاہدے کر لیے‘ اور یوں آپ کی کامیاب حکمت عملی سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں سے قریش کا دائره اثر سکڑنے لگا۔ قریش کے لیے مکہ کی معاشی ناکہ بندی کا خدشہ ہی کچھ کم پریشان کن نہیں تھا کہ اب انہیں اس علاقے سے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی بساط بھی لپٹتی ہوئی دکھائی دینے لگی‘ چنانچہ ’’تنگ آ مد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق وہ مدینہ پر ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرنے لگے۔ اسی دوران میں دو ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے حالات تیزی سے خراب ہو کر غزوۂ بدر پر منتج ہوئے۔

            پہلا واقعہ یوں ہوا کہ حضور نے ایک چھوٹا سا دستہ نخلہ کے مقام پر بھیجا جو مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔ ان لوگوں کو یہ مشن سونپا گیا کہ وہ اس علاقے میں موجود رہیں اور قریش کی نقل و حرکت کے بارے میں مطلع کرتے رہیں۔ اتفاق سے اس دستے کی مڈ بھیڑ قریش کے ایک تجارتی قافلے سے ہو گئی۔ مقابلے میں ایک مشرک عبد اللہ بن حضرمی مارا گیا جبکہ ایک دوسرے مشرک کو قید کر لیا گیا۔ مالِ غنیمت اور قیدی کے ساتھ یہ لوگ جب مدینہ پہنچے تو نبی اکرم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ‘ کیونکہ ایسا کرنے کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا‘ لیکن جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ یہ گویا مسلمانوں کی طرف سے قریش کے خلاف پہلا باقاعدہ مسلح اقدام تھا جس میں ان کا ایک شخص بھی قتل ہوا۔ لہٰذا اس واقعہ سے ماحول کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

            دوسرا واقعہ ابو سفیان کے قافلے سے متعلق ہوا۔ یہ ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ تھا جو مکہ سے شام کی طرف جا رہا تھا۔ نبی اکرم نے اس کا تعاقب کیا‘ مگر وہ لوگ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب یہ قافلہ پچاس ہزار دینار کی مالیت کے ساز و سامان کے ساتھ شام سے واپس آ رہا تھا تو ممکنہ خطرے کے پیش نظر ابو سفیان نے قافلے کی حفاظت کے لیے دوہری حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے ایک طرف تو ایک تیز رفتار سوار کو اپنے تحفظ کی خاطر مدد حاصل کرنے کے لیے مکہ روانہ کیا اور دوسری طرف معمول کا راستہ جو بدر کے قریب سے ہو کر گزرتا تھا‘ اس کو چھوڑ کر قافلے کو مدینہ سے دور ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ نکال کر لے گئے۔ بہر حال اتفاق سے مکہ میں یہ دونوں اشتعال انگیز خبریں یکے بعد دیگرے پہنچیں۔ ایک طرف نخلہ سے جان بچا کر بھاگنے والے افراد روتے پیٹتے عبد اللہ بن حضرمی کے قتل کی خبر لے کر پہنچ گئے اور دوسری طرف ابو سفیان کا ایلچی بھی دہائی دیتے ہوئے آ پہنچا کہ بھاگو! دوڑو! کچھ کر سکتے ہو تو کرو‘ تمہارا قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں لٹنے والا ہے۔ ان خبروں سے مکہ میں تو گویا آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ فوری طور پر ایک ہزار کا لشکر تیار کیا گیا جس کے لیے ایک سو گھوڑوں پر مشتمل رسالہ اور نو سو اونٹ مہیا کیے گئے‘ وافر مقدار میں سامانِ رسد اور اسلحہ وغیرہ بھی فراہم کیا گیا۔

مشاورت کے بارے میں غلط فہمی کی وضاحت: غزوۂ بدر سے پہلے رسول اللہ کی صحابہ کرام  کے ساتھ جس مشاورت کا ذکر قرآن حکیم اور تاریخ میں ملتا ہے اس کے بارے میں اکثر لوگ مغالطے کا شکار ہوئے ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ حضور نے دو مواقع اور دو مقامات پر الگ الگ مشاورت کا انعقاد فرمایا تھا مگر اسے اکثر وبیشتر لوگوں نے ایک ہی مشاورت سمجھا ہے۔

            پہلی مجلس مشاورت مدینہ میں ہوئی اور اس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ابو سفیان کے قافلے کو شام سے واپسی پر روکنا چاہیے یا نہیں؟ اور جب مشورہ کے بعد اس سلسلے میں اقدام کرنا طے پایا تو آپ کچھ صحابہ کو لے کر اس مقصد کے لیے مدینہ سے روانہ ہو گئے۔ چونکہ اس وقت تک جنگ کے بارے میں کوئی گمان تک نہیں تھا اس لیے اس مہم کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی گئی تھی۔ جس کے ہاتھ میں جو آیا وہ لے کر چل پڑا۔ چنانچہ دو گھوڑوں‘ آٹھ تلواروں اورکچھ چھوٹے موٹے ہتھیاروں کے ساتھ چند صحابہ کی معیت میں جب آپ مقامِ صفراء پر پہنچ گئے تو آپ کواطلاع ملی کہ ابو جہل ایک ہزار کا لشکر لے کر مکہ سے چل پڑا ہے۔ اور اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی بھی آ گئی کہ جنوب (مکہ) کی طرف سے ایک لشکر آ رہا ہے جو کیل کانٹے سے لیس ہے جبکہ شمال کی جانب سے قافلہ‘ اور میرا یہ وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک پر آپ کو ضرور فتح حاصل ہو گی۔ لہٰذا اہل ایمان کو خوشخبری بھی دیں اور ان سے مشورہ بھی کریں۔ چنانچہ اس وحی کے بعد مقامِ صفراء پر آپ نے یہ فیصلہ کرنے کے لیے دوسری مشاورت کا انعقاد فرمایا کہ پہلے لشکر کے مقابلے کے لیے جایا جائے یا قافلے کو روکنے کے لیے؟ چنانچہ جن محققین اور مفسرین سے اس پس منظر کی تحقیق میں کوتاہی ہوئی ہے اور انہوں نے مشاورت کے دو واقعات کو ایک ہی واقعہ سمجھا ہے‘ انہیں اس سورت کی متعلقہ آیات کو سمجھنے اور ان کا ترجمہ و تشریح کرنے میں بہت خلجان رہا ہے۔

سورت کے اسلوب کا ایک خاص انداز: یہ سورت دس رکوعات پر مشتمل ایک مکمل خطبہ ہے ‘ لیکن اس میں سے ایک خاص مسئلہ کو درمیان سے نکال کر آغاز میں لایا گیا ہے ‘ یعنی مالِ غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ۔ اس مسئلہ کی تفصیلات سورت کے اندر اپنی جگہ پر ہی بیان ہوئی ہیں ‘ لیکن اس موضوع کو اتنی اہمیت دی گئی کہ سورت کا آغاز غیر معمولی انداز میں اس کے ذکر سے کیا گیا۔ یہاں مالِ غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ اس لیے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ غزوۂ بدر جزیرہ نمائے عرب میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے عرب میں کہیں بھی کسی باقاعدہ فوج اور اس کے ڈسپلن کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ چنانچہ عسکری نظم و ضبط اور جنگی معاملات کے بارے میں کوئی ضابطہ اور قانون بھی پہلے سے موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوۂ میں فتح کے بعد میدانِ جنگ سے جو چیز جس کے ہاتھ لگ گئی‘ اس نے سمجھا کہ بس اب یہ اس کی ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے بہت سنجیدہ نوعیت کے مسائل پیدا ہو گئے۔ بعض لوگوں نے تو بھاگ دوڑ کر کے بہت زیادہ مال جمع کر لیا‘ جبکہ مختلف وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگا۔ کچھ لوگ اپنی بزرگانہ حیثیت اور وضع داری کی بنا پر بھاگ دوڑ کر مال اکٹھا نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ لوگ اہم مقامات پر پہرہ دے رہے تھے اور بعض رسول اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ مالِ غنیمت میں سے ایسے تمام لوگوں کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس ضمن میں اختلافات پیدا ہوئے۔ چنانچہ سورت کی پہلی آیت میں ہی جتلا دیا گیا کہ اللہ کے ہاں اس معاملے کا خاص نوٹس لیا گیا ہے اور پھر بات بھی اس طرح سے کی گئی کہ مسئلے کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دی گئی۔ بالکل دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا کہ مالِ غنیمت صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کا ہے‘ کسی اور کا اس پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں۔ سورۃ الانفال کا یہ اسلوب اگر اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیا جائے تو اس سے ہمیں سورۃ التوبہ کے مضامین کی ترتیب کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ 

UP
X
<>