September 26, 2020

قرآن کریم > التوبة

التوبة

سُورۃُ التَّـوبۃ

تمہیدی کلمات

            سورۃ التوبہ کئی خطبات پر مشتمل ہے اور ان میں سے ہر خطبہ الگ پس منظر میں نازل ہوا ہے۔ جب تک ان مختلف خطبات کے پس منظر اور زمانۂ نزول کا الگ الگ تعین درست اندازمیں نہ ہو جائے‘ متعلقہ آیات کی درست توضیح و تشریح کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ جن لوگوں نے اس سورت کی تفسیر کرتے ہوئے پوری احتیاط سے تحقیق نہیں کی‘ وہ خود بھی مغالطوں کا شکار ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی شکوک و شبہات میں مبتلا کرنے کا باعث بنے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ سورت قرآن حکیم کی مشکل ترین سورت ہے اور اس کی تفہیم کے لیے انتہائی محتاط تحقیق اور گہرے تدبر کی ضرورت ہے۔

سورۃ التوبہ اور حضور کی بعثت کے دو پہلو: محمد رسول اللہ سے قبل ہر پیغمبر کو ایک خاص علاقے اور خاص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا‘ مگر آپ اپنی قوم (بنواسماعیل) کی طرف بھی رسول بن کر آئے اور قیامت تک کے لیے پوری دنیا کے تمام انسانوں کی طرف بھی۔ یہ فضیلت تمام انبیاء و رُسل میں صرف آپ کے لیے مخصوص ہے کہ آپ کو دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا‘ ایک بعثت ِخصوصی اور دوسری بعثت ِعمومی۔ آپ کی بعثت کے ان دونوں پہلوؤں کے حوالے سے سورۃ التوبہ کی آیات میں بھی ایک بڑی خوبصورت تقسیم ملتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس سورت کے بھی بنیادی طور پر دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ آپ کی بعثت کے خصوصی پہلو سے متعلق ہے‘ جبکہ دوسرے حصے کا تعلق آپ کی بعثت کے عمومی پہلو سے ہے۔ چنانچہ سورت کے ان دونوں حصوں کے موضوعات و مضامین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حضور کی بعثت کے ان دونوں پہلوؤں کے فلسفے کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔

حضور کی بعثت ِخصوصی: محمد عربی کی خصوصی بعثت مشرکین عرب یا بنو اسماعیل کی طرف تھی۔ آپ کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا اور آپ نے ان لوگوں کے اندر رہ کر‘ خود ان کی زبان میں‘ اللہ کا پیغام اُن تک پہنچا دیااور ان پر آخری حد تک اتمامِ حجت بھی کر دیا۔ اسی ضمن میں پھر مشرکین عرب پر اللہ کے اس قدیم قانون کا نفاذ بھی عمل میں آیا کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جائے اور وہ رسول اپنی دعوت کے سلسلے میں اس قوم پر اتمامِ حجت کر دے‘ پھر اگر وہ قوم اپنے رسول کی دعوت کو رد کر دے تو اس پر عذابِ استیصال مسلط کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مشرکین عرب پر عذابِ استیصال کی نوعیت معروضی حالات کے پیش نظر پہلی قوموں کے مقابلے میں مختلف نظر آتی ہے۔ اس عذاب کی پہلی قسط غزوۂ بدر میں مشرکین مکہ کی ہزیمت و شکست کی صورت میں سامنے آئی جبکہ دوسری اور آخری قسط کا ذکر اس سورت کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ بہر حال اپنی بعثت ِخصوصی کے حوالے سے حضور نے جزیرہ نمائے عرب میں دین کو غالب کر دیا‘ اور وہاں آپ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں اقامت دین کا عملی نقشہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو گیا۔

حضور کی بعثت ِعمومی: نبی اکرم کی بعثت عمومی پوری انسانیت کی طرف قیامت تک کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں دعوت کا آغاز آپ نے صلح حدیبیہ (6 ہجری) کے بعد فرمایا۔ اس سے پہلے آپ نے کوئی مبلغ یا داعی عرب سے باہر نہیں بھیجا‘ بلکہ تب تک آپ نے اپنی پوری توجہ جزیرہ نمائے عرب تک مرکوز رکھی اور اپنے تمام وسائل اسی خطہ میں دین کو غالب کرنے کے لیے صرف کیے۔ لیکن جونہی آپ کو اس سلسلے میں ٹھوس کامیابی ملی‘ یعنی قریش نے آپ کو بطورِ فریق ثانی کے تسلیم کر کے آپ سے صلح کر لی‘ (قرآن نے سورۃ الفتح کی پہلی آیت میں اس صلح کو ‘ ‘ فتح مبین‘ ‘ قرار دیا ہے) تو آپ نے اپنی بعثت عمومی کے تحت دعوت کا آغاز کرتے ہوئے عرب سے باہر مختلف سلاطین و امراء کی طرف خطوط بھیجنے شروع کر دیے۔ اس سلسلے میں آپ نے جن فرمانرواؤں کو خطوط لکھے‘ اُن میں قیصر روم‘ ایران کے بادشاہ کسریٰ‘ مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے فرمانروا نجاشی (یہ عیسائی حکمران اس نجاشی کا جانشین تھا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا‘ اور جن کی غائبانہ نمازِ جنازہ حضور نے خود پڑھائی تھی) کے نام شامل ہیں۔ [نوٹ: ماضی قریب میں یہ چاروں خطوط اصل متن کے ساتھ اصل شکل میں دریافت ہوچکے ہیں۔] آپ کے انہی خطوط کے ردِّ عمل کے طور پر سلطنت ِروما کے ساتھ مسلمانوں کے ٹکراؤ کا آغاز ہوا‘ جس کا نتیجہ نبی اکرم  کی حیاتِ طیبہ ہی میں جنگ ِموتہ اور غزوۂ تبوک کی صورت میں نکلا۔ بہر حال ان تمام حالات وواقعات کا تعلق آپ کی بعثت ِعمومی سے ہے‘ جس کی دعوت کا آغاز آپ کی زندگی مبارک ہی میں ہو گیا تھا‘ اور پھر خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے واضح طور پر یہ فریضہ اُمت کے ہر فرد کی طرف منتقل فرما دیا۔ چنانچہ اب تا قیامِ قیامت آپ پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان دعوت و تبلیغ اور اقامت ِدین کے لیے محنت و کوشش کا مکلف ہے۔

موضوعات:

            مضامین و موضوعات کے حوالے سے یہ سورت دو حصوں پر مشتمل ہے‘ جن کی تفصیل درج ذیل ہے :

حصہ اول: یہ حصہ سورت کے پہلے پانچ رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس کا تعلق رسول اللہ کی بعثت ِخصوصی کے تکمیلی مرحلے سے ہے۔ آیات کی ترتیب کے مطابق اگرچہ یہ پانچ رکوع بھی مزید تین حصوں میں بٹے ہوئے ہیں‘ مگر موضوع کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ حصہ ہمیں دو خطبات پر مشتمل نظر آتا ہے‘ جن کا الگ الگ تعارف ذیل کی سطور میں دیا جا رہا ہے۔

پہلا خطبہ: پہلا خطبہ دوسرے اور تیسرے رکوع پر مشتمل ہے اور یہ فتح مکہ (8 ہجری) سے پہلے نازل ہوا۔ ان آیا ت میں مسلمانوں کو فتح مکہ کے لیے نکلنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ بہت نازک اور حساس تھا۔ مسلمان مہاجرین کی مشرکین مکہ کے ساتھ براہِ راست قریبی رشتہ داریاں تھیں‘ ان کے خاندان اور قبیلے مشترک تھے‘ حتیٰ کہ بہت سے مسلمانوں کے اہل وعیال مکہ میں موجود تھے۔ کچھ غریب‘ بے سہارا مسلمان‘ جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہجرت نہیں کر سکے تھے‘ ابھی تک مکہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ اب سوال یہ تھا کہ اگر جنگ ہو گی‘ مکہ پر حملہ ہو گا تو ان سب کا کیا بنے گا؟ کیا گندم کے ساتھ گھن بھی پس جائے گا؟ دوسری طرف قریش مکہ کا بظاہر یہ اعزاز بھی نظر آتا تھا کہ وہ بیت اللہ کے متولی تھے اور حجاج کی خدمت کرتے تھے۔ اس حوالے سے کہیں سادہ دل مسلمان اپنے خدشات کا اظہار کر رہے تھے تو کہیں منافقین ان سوالات کی آڑ لے کر لگائی بجھائی میں مصروف تھے۔ چنانچہ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ پس منظر مد نظر رہنا چاہیے۔

دوسرا خطبہ: دوسرا خطبہ پہلے‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل ہے اور یہ ذوالقعدہ 9 ہجری کے بعد نازل ہوا۔ موضوع کی اہمیت کے پیش ِنظر اس میں سے پہلی چھ آیات کو مقدم کر کے سورت کے آغاز میں لایا گیا ہے۔ یہ وہی آیات ہیں جن کے ساتھ حضور نے حضرت علی کو قافلہ ٔحج کے پیچھے بھیجا تھا۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ 9 ہجری میں حضور خود حج پر تشریف نہیں لے گئے تھے‘ اس سال آپ نے حضرت ابو بکرصدیق کو امیر حج بنا کر بھیجا تھا۔ حج کا یہ قافلہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں روانہ ہوا اور اس کے روانہ ہونے کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں۔ چنانچہ نبی اکرم  نے حضرت علی کو بھیجا کہ حج کے موقع پر علی الاعلان یہ احکامات سب کو سنا دیے جائیں۔ سن 9 ہجری کے اس حج میں مشرکین مکہ بھی شامل تھے۔ چنانچہ وہاں حج کے اجتماع میں حضرت علی نے یہ آیات پڑھ کر سنائیں‘ جن کے تحت مشرکین کے ساتھ ہر قسم کے معاہدے سے اعلانِ براءت کر دیا گیا اور یہ واضح کر دیا گیا کہ آئندہ کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ مشرکینِ عرب کے لیے چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیا گیا کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایمان لانا چاہیں تو لے آئیں‘ ورنہ اُن کا قتل عام ہو گا۔

            یہ آیات چونکہ قرآن کریم کی سخت ترین آیات ہیں‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے پس منظر کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ یہ احکامات دراصل اس عذابِ استیصال کے قائم مقام ہیں جو قومِ نوح‘ قومِ ہود‘ قومِ صالح‘ قومِ شعیب‘ قومِ لوط اور آلِ فرعون پر آیا تھا۔ ان تمام قوموں پر عذابِ استیصال اللہ کے اس اٹل قانون کے تحت آیا تھا جس کا ذکر قبل ازیں بھی ہو چکا ہے۔ اس قانون کے تحت مشرکین مکہ اب عذابِ استیصال کے مستحق ہو چکے تھے‘ اس لیے کہ حضور نے انہی کی زبان میں اللہ کے احکامات ان تک پہنچا کر اُن پر حجت تمام کر دی تھی۔ اس سلسلے میں اللہ کی مشیت کے مطابق ان کو جو مہلت دی گئی تھی وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ ان پر عذاب استیصال کی پہلی قسط میدانِ بدر میں نازل کی گئی اور دوسری اور آخری قسط کے طورپر اب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا کہ تمہارے پاس سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لیے صرف چار ماہ ہیں۔ اس مدت میں ایمان لانا چاہو تو لے آؤ ورنہ قتل کردیے جاؤ گے۔ اس حکم کے اندر اُن کے لیے یہ آپشن خود بخود موجود تھا کہ وہ چاہیں تو جزیرہ نمائے عرب سے باہر بھی جاسکتے ہیں‘ مگر اب اس خطہ کے اندر وہ بحیثیت ِمشرک کے نہیں رہ سکتے‘ کیونکہ اب جزیرہ نمائے عرب کو شرک سے بالکل پاک کر دینے اور محمد رسول اللہ کی بعثت خصوصی کی تکمیلی شان کے ظہور کا وقت آن پہنچا تھا۔

ایک اشکال کی وضاحت: یہاں ایک اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ آیات کی موجودہ ترتیب خطبات کی زمانی ترتیب کے بالکل برعکس ہے۔ جو خطبہ پہلے (8 ہجری میں) نازل ہوا ہے وہ سورت میں دوسرے رکوع سے شروع ہو رہا ہے‘ جبکہ بعد (9 ہجری) میں نازل ہونے والی آیات کو مقدم کر کے اِن سے سورت کا آغاز کیا گیا ہے۔ پھر یہ دوسرا خطبہ بھی آیات کی ترتیب کے باعث دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ اس کی ابتدائی چھ آیات پہلے رکوع میں آ گئی ہیں‘ جبکہ بقیہ آیات چوتھے اور پانچویں رکوع میں ہیں۔ دراصل ترتیب آیات میں اس پیچیدگی کی وجہ قرآن کا وہ خاص اسلوب ہے جس کے تحت کسی انتہائی اہم بات کو موضوع کی منطقی اور روایتی ترتیب میں سے نکال کر شہ سرخی (head line) کے طور پر پہلے بیان کر دیا جاتا ہے۔ اس اسلوب کو سمجھنے کے لیے سورۃ الانفا ل کے آغاز کا انداز ذہن میں رکھیے۔ وہاں مالِ غنیمت کا مسئلہ انتہائی اہم اورحساس نوعیت کا تھا‘ جس پر تفصیلی بحث تو بعد میں ہونا مقصود تھی‘ لیکن اس ضمن میں بنیادی اصول سورت کی پہلی آیت میں بیان کر دیا گیا اور مسئلے کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر اس موضوع سے سورت کا آغاز فرمایا گیا۔ بالکل اسی انداز میں اس سورت کا آغاز بھی ایک انتہائی اہم مسئلے کے بیان سے کیا گیا‘ البتہ اس مسئلے کی بقیہ تفصیل بعد میں چوتھے اور پانچویں رکوع میں بیان ہوئی۔

حصہ دوم: اس سورت کا دوسرا حصہ چھٹے رکوع سے لے کر آخر تک گیارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس کا تعلق حضور کی بعثت عمومی سے ہے۔ اس لیے کہ اس حصے کا مرکزی موضوع غزوہ ٔتبوک ہے اور غزوه تبوک تمہید تھی‘ اس جدوجہد کی جس کا آغاز اقامت ِدین کے سلسلے میں جزیرہ نمائے عرب سے باہر بین الاقوامی سطح پر ہونے والا تھا۔ اِ ن گیارہ رکوعوں میں سے ابتدائی چار رکوع تو وہ ہیں جو غزوه تبوک کے لیے مسلمانوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے سے متعلق ہیں‘ چند آیات وہ ہیں جو تبوک جاتے ہوئے دورانِ سفر نازل ہوئیں‘ چند آیات تبوک میں قیام کے دوران اور چندتبوک سے واپسی پر راستے میں نازل ہوئیں‘ جبکہ ان میں چند آیات ایسی بھی ہیں جو تبوک سے واپسی کے بعد نازل ہوئیں۔ 

UP
X
<>