April 13, 2021

قرآن کریم > التوبة >surah 9 ayat 1

بَرَاءةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ 

 (مسلمانو !) یہ اﷲ اور اُس کے رسول کی طرف سے دستبرداری کا اعلان ہے اُن تمام مشرکین کے خلاف جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے

آیت ۱: بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٓ اِلَی الَّذِیْنَ عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ: ‘‘اعلانِ برا ء ت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان لوگوں کی جانب جن سے (اے مسلمانو!) تم نے معاہدے کیے تھے مشرکین میں سے۔‘‘

            یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے تمام معاہدے ختم کرنے کا دو ٹوک الفاظ میں اعلان ہے جو مسلمانوں نے مشرکین کے ساتھ کر رکھے تھے۔ یہ اعلان چونکہ انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا تھا اورقطعی (categorical) انداز میں کیا گیا تھا‘ اس لیے اس کے ساتھ کچھ شرائط یا استثنائی شقوں کا ذکر بھی کیا گیا جن کی تفصیل آئندہ آیات میں آئے گی۔ سورۃ التوبہ کے ضمن میں ایک اور بات لائق توجہ ہے کہ یہ قرآن کی واحد سورت ہے جس کے آغاز میں ‘‘ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ نہیں لکھی جاتی۔ اس کا سبب حضرت علی نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ سورت تو ننگی تلوار لے کر یعنی مشرکین کے لیے قتل عام کا اعلان لے کر نازل ہوئی ہے‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کی صفات کے ساتھ اس کے مضامین کی مناسبت نہیں ہے۔ 

UP
X
<>